ایک جگہ جانا ہوا وہاں بہت ہی لذیذ مطعومات تھی مگر چاۓ نہیں تھی ،اس موقع پر یہ تحریر لکھی گئی ہے

؀ سب کچھ تھا موجود لیکن

ظالم نے ایک چاۓ کی نہ پونچھی

     خیر اس وقت دل میں اور اب دورانِ تحریر جس چیز کی حسرت رہی وہ ہماری معشوقہ چاۓ تھی ،سب کچھ تھا ،مگر چاۓ نہیں تھی ،ہم کہتے تو چاۓ بآسانی مل سکتی تھی ، مگر یوں کہنے سے چاۓ کی لذت ختم ہو جاتی ہے ، اس لۓ کہا بھی نہیں اور کہنا مناسب بھی نہیں تھا ،اگر اس برکت بھرے کھانے کے ساتھ چاۓ کی تہمت لگی ہوتی تو ایک قسط چاۓ کے نام متعین تھی ، اتنی جلدی کھانے کی تفصیل سے نکلنا ممکن نہ تھا ، مشروبات و مطعومات میں سے سب سے زیادہ اگر کسی پر لکھا گیا ہے تو وہ واحد "چاۓ" ہے ، قلم کار چاۓ پر لکھتے ضرور ہیں ، خواہ وہ چاۓ کے مداحوں ہوں یا ناقدین ، اگر چاۓ کا شوقین ہو ، موضوعِ تحریر چاۓ ہو تو پھر چاۓ کو اشرف المشروبات کہنا معمولی بات ہوتی ہے ، چائے کے نامہ نگار کو اگر تائید کی ضرورت پیش آ جائے تو پھر ہمارے اجل اکابر بھی چاۓ کے معشوقین میں کھڑے نظر آتے ہیں ،چاۓ کا مداح مولانا ابو الکلام آزاد کے چاۓ سے عشق کو یوں تعبیر کرتا ہے "چائے مولانا ابوالکلام آزاد کی وجہ سے مشہور ہوئی یا مولانا ابو الکلام آزاد چائے کی وجہ سے مشہور ہوئے" مولانا ظفر علی خاں نے تو کمال ہی کر دیا فرماتے ہیں : 

چاۓ پیتا ہوں تو ہوجاتا ہے ایماں تازہ 

چاۓ نوشی میری دیرینہ روایات سے ہے 

   حضرت امیرِ شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری کے پاس چند بڑے علماء بطورِ مہمان تشریف فرما تھے ، حضرت نے چاۓ منگوائی ، انہوں نے انکار کیا تو حضرت نے فرمایا : "چاۓ مجلس کی زینت ہے ، اس کو روایت کیا ہے بخاری و مسلم نے" پھر از راہِ مزاح ہی فرمایا "چاۓ کا انکار متفق علیہ کفر ہے" شیخ الحدیث مفتی محمد زرولی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے : "چاۓ سے بدن میں چستی اور حرارت پیدا ہوتی ہے" الغرض چاۓ کے کتنے فوائد ہیں ، ان کا تو شمار نہیں ،لیکن اتنا ضرور ہے

  ؀ چاۓ پینے سے چاہ ہوتی ہے 

     آنے جانے کی راہ ہوتی ہے 

    چاۓ کی محفلوں میں روزانہ عالمی نقشہ تبدیل ہوتاہے ، ہر چاۓ خانہ پر سیاسی نامور قائدین کی بین الاقوامی مجالس منعقد ہوتی ہیں ، چاۓ گھر پر ہر ایرا غیرا خلافت عثمانیہ کی نوید سناتا ہے ، سیاسی گونگے کو بھی چاۓ کپ سے قوّتِ گویائی حاصل ہو جاتی ہے ، چاۓ سے بغض رکھنے والے مشتاق احمد یوسفی کی کتاب"چراغ تلے" پڑھ کر سکون حاصل کر سکتے ہیں ، تحریر کے شاندار اور جاندار نہ ہونے پر افسوس کی ضرورت بالکل نہیں ہے ، کیوں کہ یہ چاۓ سے محرومی پر لکھی گئ ہے ، اگر چاۓ پڑھ کر کچھ لکھا جائے تو بات ہی کچھ اور ہوتی‌ ہے۔  


؀ آۓ نہ ذرا ہاتھ میرے چاہے کچھ بھی 

 چاۓ کا مگر کپ ہاتھوں سے نہ چھوٹے


تحریر: عبد اللہ یوسف

٢٣/ربیع الأول ١٤٤٧ھ۔

بہ روز منگل