شہرت، میڈیا اور خطرات: کیا مفتی شمائل کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے؟
حضرت مولانا عبداللہ حسنی رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ شہرت جب کسی انسان کے قدم چومتی ہے تو اپنے ساتھ آزمائشوں اور پریشانیوں کا ایک پورا قافلہ بھی لے کر آتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان جیسی سرزمین میں دعوت کا انداز شورشرابہ و اعلان کا نہیں، بلکہ خاموشی، حکمت اور صبر کا ہونا چاہیے۔ یہ ملک اپنی تہذیبی نزاکت، مذہبی تکثیر اور باہمی احترام کے لیے جانا جاتا ہے؛ یہاں آواز کی بلندی نہیں، کردار کی گہرائی سنی جاتی ہے۔

جب ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب نے تبلیغِ اسلام کا آغاز کیا اور بہت جلد غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، تو ان کا ایک نمایاں انداز یہ تھا کہ کھلے عام کلمہ پڑھوایا جاتا۔ اس طرزِ عمل کو دیکھ کر حضرت مولانا عبداللہ حسنی رحمۃ اللہ علیہ شدید فکرمند رہتے تھے۔۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ برادرانِ وطن کے سامنے اسلام کا تعارف یقیناً ایک نیک اور مبارک عمل ہے، لیکن اس طرح کھلے عام کلمہ پڑھنے والوں کی نمائش مستقبل میں سنگین مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ جس اندیشے کا اظہار کیا جا رہا تھا، وہی حقیقت بن کر سامنے آیا۔ جب بی جے پی کی حکومت برسرِ اقتدار آئی تو ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کو ملک چھوڑنا پڑا، ان کی جائیدادیں ضبط ہوئیں اور سرکاری ایجنسیاں ان کے پیچھے لگ گئیں، یہاں تک کہ ہجرت ان کی مجبوری بن گئی۔

یہی اندیشہ وہ مولانا کلیم صدیقی صاحب کے حوالے سے بھی ظاہر کیا کرتے تھے۔ ان کا صاف کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اسلام قبول بھی کرتا ہے تو اس کے قبولِ اسلام کو نہ جلوسوں اور جلسوں میں اچھالا جائے اور نہ ہی کتابوں کی جلدوں میں قید کیا جائے۔ “نسیمِ ہدایت کے جھونکے” جیسی کتب، جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے اور جن میں قبولِ اسلام کرنے والوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا، مولانا کی نظر میں آنے والے وقت کی پریشانیوں کا پیش خیمہ تھیں۔ افسوس کہ مولانا کلیم صدیقی صاحب کے ساتھ بھی وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، اور آج وہ اور ان کے کئی رفقاء عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے زندگی گزار رہے ہیں۔ یوں مولانا کی دور اندیشی ایک بار پھر درست ثابت ہوئی۔
حضرت مولانا عبداللہ حسنی رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں نہایت گہری فکر رکھتے تھے۔ ان کا خواب یہ تھا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو ہندوستان کے اندر رہ کر، خاموشی اور وقار کے ساتھ دعوت کا کام کرے—بغیر شور اور بغیر تصادم کے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک تعلیمی نقشہ ترتیب دیا گیا۔ ان کی نگرانی میں فارغ ہونے والے طلبہ کی تربیت ماہر اساتذہ کے ذریعے کی جاتی تھی۔ انہیں اسلام سے متعلق ہر ممکن سوال کا جواب سکھایا جاتا—وہ سوالات جو میدانِ عمل میں غیر مسلموں، عیسائیوں یا ملحدین کی جانب سے سامنے آ سکتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ نوجوان عملی میدان میں اتریں تو کسی اعتراض یا بحث سے گھبرائیں نہیں، بلکہ علم، حکمت اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ گفتگو کریں۔
حضرت مولانا عبداللہ حسنی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک بات خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آپ خدا کی وحدانیت پر بات کریں گے تو کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرے گا—چاہے وہ ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو یا بدھ—سوائے ملحدین کے، کیونکہ ہر مذہب میں کسی نہ کسی صورت میں خدا کا تصور موجود ہے۔ اختلاف اور اعتراض اس وقت شروع ہوتا ہے جب بات رسالت پر آتی ہے۔ یہاں ہر شخص اپنے اپنے مذہب کی دلیل لے کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور اس مرحلے پر کسی کو محض بحث کے ذریعے قائل کرنا ممکن نہیں رہتا، کیونکہ رسالت پر ایمان لانا دل کی کیفیت اور عقیدے کا عمل ہے، نہ کہ مناظرے کا نتیجہ۔
انہی اصولوں کی روشنی میں اگر ہم موجودہ دور کی مشہور بحث—مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان ہونے والی ڈبیٹ—کا جائزہ لیں تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ بلاشبہ اس ڈبیٹ کو غیر معمولی شہرت ملی اور اسلامی حلقوں میں اسے سراہا بھی گیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ہندوستان میں ملحدین کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ایسے میں جاوید اختر جیسی معروف شخصیت کے ساتھ بحث نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر میڈیا ہائپ کا شکار بنا دیا۔ اگر یہی بحث کسی غیر معروف شخص کے ساتھ ہوتی تو نہ اتنی شہرت ملتی اور نہ ہی اتنا شور برپا ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ڈبیٹ سے اتنا فائدہ حاصل نہیں ہوا جتنا کہ عوام کے ایک طبقے کو جذباتی طور پر کنفیوژن کا شکارکیا گیا۔ میڈیا کی سنسنی، پوڈکاسٹس اور مسلسل چرچا—یہ سب آنے والے وقت میں پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ بعض افراد مفتی شمائل صاحب کی لکھنؤ کے کلارک اودھ ہوٹل میں پریس کانفرنس کروانے کا منصوبہ بنا چکے تھے، گویا کوئی علمی مکالمہ نہیں بلکہ کوئی سیاسی مہم شروع ہونے جا رہی ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ ندوہ کے ذمہ داران نے حالات کی نزاکت کو سمجھا اور انہیں صبح کی فلائٹ سے رخصت کر دیا۔

حقیقت یہی ہے کہ دعوت کا انداز الگ ہوتا ہے اور مناظرے کا مزاج الگ۔ ان دونوں کو خلط ملط کرنا نہ دین کے حق میں بہتر ہے اور نہ ہی ملک کے۔
موجودہ حالات کی نزاکت اور ماضی کے داعیوں کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نہایت ضروری ہے کہ مفتی شمائل صاحب آئندہ کے لیے اپنے دعوتی انداز پر سنجیدگی سے غور کریں اور ایک واضح منصوبہ ترتیب دیں۔ آج نہ ملک کے حالات پہلے جیسے ہیں اور نہ ہی آئندہ چند برسوں میں بہتری کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ موجودہ حکومت اس طرح کے لوگوں کے پیچھے پڑ کر انہیں جیلوں تک پہنچا رہی ہے۔ اگرچہ کلکتہ میں قیام کی وجہ سے آپ کسی حد تک محفوظ محسوس کرتے ہیں، مگر حالات کے بدلتے رخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ مفتی شمائل صاحب خود کو حالات کے مطابق تیار کریں۔
آخر میں، اسلامی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں سے یہ مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ اپنا مشن خود متعین کریں۔ جس میدان میں قدم رکھنا ہو، اس کے ماہرین سے مضبوط رابطہ قائم کریں۔ اگر دعوت کا کام مقصود ہے تو اس فن کے ماہرین سے سیکھیں اور اس کے لیے خصوصی کلاسز کا اہتمام کیا جائے، تاکہ طلبہ عملی میدان کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اسی دائرے میں محنت کریں، اور یاد رکھیں: اس سرزمین میں سب سے مؤثر دعوت وہی ہے جو خاموشی سے دلوں تک پہنچ جائے۔

محمد اسلم ندوی 
'ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لکھنؤ،