اہل فلسطین تاریخ کے المناک موڑ پہ

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

اہل غزہ جس کرب والم سے گذر رہے ہیں اسے لفظوں میں بیان کرنا یا بقید تحریر لانا نہایت مشکل کام ہے - 
اس جنگ نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے،اس طرح کےبھیانک مناظر اور جنگ تاریخ میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملتی،
 اس جنگ میں جو ظالمانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے اس پہ انسانیت بھی شرمسار ہے،جنگ کے کچھ اصول اور ضابطہ ہوتے ہیں ،انہوں نے سب کوبالاۓ طاق رکھ کر درندگی کا ثبوت پیش کیا ہے،
صیہونیوں وصلیبیوں کی جانب سے جو اذیت دی جارہی ہے ،اسے دیکھ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ،ایسی درندگی کبھی بھی دیکھنے میں نہ آئی ،یہ ایک ایسی دلخراش اور دلسوز جنگ ہے جس کی اجازت حقیقی دل رکھنے والا انسان کبھی نہیں دے سکتا، وہاں پہ جو تباہی مچائی جارہی ہےوہ یقینا ظلم وستم کی ایک نئی داستان ہے-

 کیا انسان اتنے خون آشام درندے ہوگئے کہ انہیں معصوم جانوں کی بھی کوئی فکر نہ رہی ،بم بارود اجڑتے گھر مکان پہ حیرانگی میں مبتلا نہ کرسکی -
یہ اسی کو تشویش میں مبتلا کرسکتی ہے جو ایک انسانی حقوق کوسمجھتاہو ، اور انسانی جان کی قیمت وہی شخص سمجھ سکتاہے جو حقیقی معنی میں انسان ہے ورنہ وہ انسان نہیں ہوسکتا کیونکہ لفظ انسان اُن٘س سے مشتق ہے جس کے معنی مانوس ہونا، محبت کرنا،نرم خوئی کا مظاہرہ کرنا یہ چیز جس میں نہیں وہ انسان نہیں بلکہ وہ انسان کی صورت میں ایک درندہ ہے -
بہت سے لوگ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں ،انسانی حقوق کی پاسداری کا دعوی کرتے ہیں، جو احکام شریعت میں ترمیم کی اس لیے کوشش کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں ،اس کے خیرخواہ ہیں ،آج ان کی ہمدردی اورخیرخواہی کہاں ہیں -

اقوام متحدہ کےکارکنان آج کہاں سور ہے ہیں ، جو قوم کی تحفظ وبقاء کی نعرے لگاتے تھے،کیا اقوام متحدہ صرف انہی لوگوں کو انسانیت کا درس دیتی ہے جو مظلوم ہو ،کیا اقوام متحدہ کا قانون یہود ونصاری کیلئے نہیں ہے ،آج انسانیت کی دوہائی دینے والے کہاں سوگیے ،کیا انہیں خون آلود جسم نظر نہیں آتے ،معصوم بچوں کی آہ فغاں سنائی نہیں دیتی ،یتیم بچے بے بس مائیں، بہنیں ،بھائی بزرگ ان سب کے آنسو پہ رحم نہیں آتا، کیا صبح شام خوفناک آواز سنائی نہیں دیتی ،کیا سب کی انسانیت مرگئی ، کیامسلم حکمران کو مسجد اقصی کی آیات قرآنیہ ،آحادیث نبویہ سے آگاہی نہیں ہوئی ،کیا انسان اتنے سنگدل ہوگئے کہ اب ان کی تکلیف ،رنج والم اور بے بضاعتی بھی ہمارے دل کو موم نہ کرسکی ،
یہ سب دیکھ کر بھی اگرہم بزدل بنے رہے ،آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اگر ہمارے جسم پہ رعشہ طاری نہ ہوا ،اگر ہم نے اپنی استطاعت کے بقدر سعی نہ کی ،آواز بلند نہ کیا تو کل بروز قیامت آقا ۓ نامدار کو ہم کیا جواب دیں گے ،جب سوال ہوگا کہ اہل فلسطین ظلم وستم کی خاردار راہ سے گزر رہی تھی تم خاموش تھے ،وہ بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہےتھے اور تم عیاشیاں کررہے تھے ،کیا ہمارے مسلم حکمرانوں میں اتنی بھی غیرت وحمیت باقی نہ رہی جو اپنی قوم کو ظالم وجابر صیہونیوں اور صلیبیوں کے ظلم وستم سے نجات دلاۓ، اے مسلم حکمرانوں ہوش کے ناخون لو ورنہ اپنی بربادی کے جشن منانے کیلیے تیار رہو -

 اللہ پاک اہل فلسطین کو کا میابی عطافرماۓ ،ان پہ خصوصی رحمت نازل فرماۓ آمین -