**حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمت اللہ علیہ:‌‌حیات و خدمات* 

 *یوم وفات کی مناسبت سے* 

 حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ ایک مشہور مصنف، مؤرخ، سوانح نگار، تذکرہ نویس، داعی ،مفکر، ادیب ،مفسر قران اور عالم دین تھےان کا شمار بیسویں صدی کی مائناز شخصیات میں ہوتا ہے وہ اپنے زمانے میں عرب و عجم دونوں میں یکساں مقبول تھے 

 *ولادت با سعادت* 

حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ 6/ محرم الحرام 1333ہجری مطابق 5/ دسمبر 1913 عیسوی کو گاؤں تکیہ کلاں ضلع رائے بریلی صوبہ اتر پردیش میں رونق افروز عالم ہوئے 

 *نام و نسب* 

 نام علی ابو الحسن بن عبدالحی بن فخرالدین الحسنی

 *سلسلہ نسب* 

 عبداللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبداللہ المحز بن الحسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے 

 *تعلیم و تربیت* 

حضرت رحمت اللہ علیہ نے اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر ہی پر حاصل کی اس کے بعد شیخ خلیل العربی سے عربی زبان اور ادب کی تحصیل کی پھرتقی الدین ہلالی رحمہ اللہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا جس کی وجہ سے عربی زبان اور ادب کا اعلی ذوق پروان چڑھا ساتھ ہی ساتھ انگریزی زبان میں استعداد اور لیاقت پانےکے لیے خاص اتالیق سے انگریزی زبان کو سیکھا

 *فراغت و تعلیم* 

1929 عیسوی میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں داخلہ لے کر حضرت مولانا حیدر حسن خان ٹونکی سے علوم حدیث کی تحصیل کی حدیث کی اکثر اور اہم کتابیں ان سے حرفا حرفا پڑھی اس کے بعد لاہور جا کر حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے قران کریم کا درس حاصل کیا 

 *علمی و عملی خدمات* 


1934 عیسوی میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاد تفسیر و ادب اپ کا تقرر ہوا اور 1949 عیسوی میں ندوۃ العلماء کے نائب معتمد تعلیمات بنائے گئے اور علامہ سید سلیمان ندوی کی وفات کے بعد 1953 عیسوی میں معتمد تعلیمات کے عہدے پر فائز ہوئے 
گردش ایام کے مطابق آپ کی ترقی اور اقبال کا سورج طلوع بھی ہوتا رہا چنانچہ 1961عیسوی میں آپ کی برادر بزرگ مولانا حکیم سید عبدالعلی صاحب کی وفات کے بعد ندوۃ العلماء کی نظامت و اہتمام کے لیے آپ کا انتخاب کیا گیا اور بانی تبلیغ حضرت حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ سے ربط و صحبت اور رفاقت نے دعوت و تبلیغ کے جذبے کو جلا بخشا تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کے لیے آپ حضرت رحمت اللہ علیہ نے اپنے باطن کی اصلاح اور نفس کو مذکی اور معلی کرنے کے لیے حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری اور حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے ملاقات کی اور خصوصی تعلق پیدا کیا نیز جلیل القدر عالم دین حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے مربی اور سرپرستی کی حیثیت میں رکھا 

 *بے مثال طبیعت اور قابل تقلید مزاج* 

آپ رحمت اللہ علیہ کی طبیعت میں بڑی جامعیت اور مزاج میں بڑا اعتدال تھا مسلکی اور فروعی اختلافات سے ہمیشہ دور رہتے تھے قومی اور ملی سطح پر ہمیشہ سرگرم عمل رہتے تھے اور مسلمانوں کی رہنمائی کرتے تھے کاخ فقیری سے لے کر ایوان شاہی تک سب کو خطاب کیا اور سب کا دل جیتا وہ ایک درویش صفت انسان تھے ان کی بے نیاز طبیعت دنیا طلبی سے کوسوں دور تھی وہ نہایت کامیاب اور مربی النسل بزرگ تھے 

 *وفات* 

 اپنے وطن تکیہ کلا رائے بریلی میں بروز 11 بج کر 55 منٹ پر 22 رمضان المبارک سن 1420 ہجری 31 دسمبر سن 199 عیسوی کو آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور تکیہ کلاں ہی کی ایک مسجد ہی میں آپ رحمت اللہ علیہ کی تدفین ہوئی

 *تصنیفات و تالیفات* 

 آپ کی چھوٹی بڑی عربی تالیفات کی تعداد 199 اور چھوٹی بڑی اردو تصنیفات کی تعداد 304 ہے

 *_مشہور عربی تالیفات_* 


(۱) ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين 
(۲) رجال الفكر والدعوۃ
(3) الاركان الاربعه
(4) مختارات من ادب العرب (5) قصص النبيين
(6) القراءۃ الراشدہ 


 *مشہور اردو تالیفات* 

 (1)انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر 
(2) تاریخ دعوت و عزیمت پانچ جلدیں 
(3) اسلامیت و مغربیت کی کشمکش 
(4) مولانا محمد الیاس اور ان کی دینی دعوت 
(5) سیرت سید احمد شہید (6) پرانے چراغ پانچ جلدیں

 *_مشہور و معروف مناصب عہدے اور اعزازات_ 


(1) ناظم ندوۃ العلماء
(2) رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند 
(3) صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 
(4) صدرو مؤسس عالمی رابطہ ادب اسلامی
(5) رکن تاسیسی رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ
(6) رکن مجمع اللغۃ العربیہ 

 *حیات ابو الحسن کا نچوڑ*

 آپ حضرت رحمت اللہ علیہ کی حیات مبارکہ دینی علمی ملی سیاسی سماجی خدمات سے معمور ہے لمحہ بہ لمحہ آپ کی توانائی و قوت مسلمانوں کی رہنمائی اور رہبری میں صرف ہوئی ہے اللہ تبارک و تعالی پوری امت کی جانب سے آپ کو آپ کی خدمات کا اجر جزیل نصیب فرمائے آمین