ایک اور اینٹ گر گئی دیوارِ حیات سے
نادان کہہ رہے ہیں کہ نیا سال مبارک

✍🏻 محمد پالن پوری
ــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـــــــــٓـ
نیا سال آتا ہے تو دنیا شور مچاتی ہے۔ کیلنڈر کا ایک ورق پلٹتا ہے اور انسانی سماج اسے خوشی کا اعلان سمجھ لیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ورق دراصل وقت کی کتاب سے ایک اور صفحے کے پھٹ جانے کا نوحہ ہوتا ہے۔ اسلام انسان کو جس وقت کی قدر سکھاتا ہے وہ وقت جشن کے لیے نہیں بلکہ محاسبے کے لیے ہوتا ہے۔ جو لمحہ گزر جائے وہ واپس نہیں آتا اور جو واپس نہیں آتا وہی اصل سرمایہ ہوتا ہے مگر افسوس کہ آج کا مسلمان بھی اسی ہجوم کا حصہ بنتا جا رہا ہے جو وقت کے گزرنے پر تالیاں بجاتا ہے اور زندگی کے گھٹنے پر مسکراتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نیا سال ہماری عمر میں اضافہ کر دیتا ہے حالانکہ سچ یہ ہے کہ یہ ہماری مہلت میں کمی کا اعلان ہوتا ہے۔ ہر گزرتا سال ہمیں انجام کے ایک قدم اور قریب لے آتا ہے مگر ہم اس قربت کو آتش بازی کے شور میں گم کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اکتیس دسمبر کی رات بارہ بجنے کا انتظار اس طرح کیا جاتا ہے جیسے کوئی بڑی کامیابی حاصل ہونے والی ہو۔ شہر روشن ہو جاتے ہیں مگر دلوں پر چھائی ہوئی تاریکی اور گہری ہو جاتی ہے، گلیاں چراغاں سے بھر جاتی ہیں مگر ضمیر بجھتا چلا جاتا ہے، تفریحی مراکز اور نائٹ پارٹیوں میں موسیقی کی آواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ انسان اپنے اندر کی آواز سننے سے قاصر رہتا ہے۔ یہاں خوشی کی تعریف شراب کے جاموں اور وقتی تعلقات سے کی جاتی ہے اور یہی وہ ماحول ہے جہاں بے شمار زندگیاں ایک رات کی قیمت پر اپنی پہچان کھو بیٹھتی ہیں۔ نام محبت رکھا جاتا ہے مگر انجام میں صرف نقصان ہوتا ہے، دین سے دوری، اقدار کی شکست اور شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ۔۔ اور سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اب اس منظر میں مسلمان بھی اجنبی نہیں رہے۔وہ امت جو کبھی وقت کو عبادت سمجھتی تھی آج وقت کو ضائع کرنے کو تہذیب سمجھنے لگی ہے۔ یکم جنوری کو پارکوں اور سیرگاہوں میں ہجوم ہوتا ہے، قہقہے گونجتے ہیں، دسترخوان سجتے ہیں مگر شکر، فکر اور ذمہ داری کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ یہ پکنکس دراصل فراغت نہیں بلکہ غفلت کا جشن ہوتی ہیں اور پھر آتش بازی کا وہ کھیل جس میں آگ صرف آسمان میں نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادوں میں بھی لگتی ہے۔ جان و مال کا ضیاع ہوتا ہے مگر عقل خاموش رہتی ہے۔۔۔۔
سوال یہ نہیں کہ دنیا یہ سب کیوں کرتی ہے سوال یہ ہے کہ مسلمان کیوں اس کی نقالی پر فخر محسوس کرنے لگا ہے حالانکہ اس کے لیے ہر نیا دن توبہ کی دعوت تھا اور ہر گزرتا سال انجام کی یاد دہانی۔ ہمیں جشن نہیں جائزے کی ضرورت ہے، شور نہیں خاموشی کی حاجت ہے اور کیلنڈر بدلنے پر روش بدلنے کا حوصلہ درکار ہے کیونکہ وقت اگر پلٹ گیا تو جشن باقی رہ جائے گا اور ہم اپنے ہاتھ میں صرف حسرت لیے کھڑے ہوں گے۔ اے اللہ ہمیں وقت کی حقیقت سمجھنے والی آنکھ، اپنے انجام کا شعور اور غفلت کے اس تہوار سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرما۔

Share this Knowledge