دوستی: دل کے گرد بنی ہوئی خاموش فصیل
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
دوست سینے کی پسلیوں کی مانند ہوتے ہیں۔نہ ان کا شور، نہ ان کی نمائش؛ مگر ان کے بغیر دل کا قائم رہنا محال ہو جاتا ہے۔ یہ وہ خاموش محافظ ہیں جو زندگی کے ہر اچانک حملے کے سامنے ڈھال بن جاتے ہیں۔ جب زمانہ اپنے سرد رویّوں، تلخ جملوں اور بے رحم فیصلوں کے ساتھ دل پر وار کرتا ہے، تب دوست اندر ہی اندر اس وار کو سہہ لیتے ہیں، تاکہ تمہاری دھڑکن بکھر نہ جائے۔
دوست وہ اعتماد ہیں جو ہجوم میں بھی تنہائی کو شکست دیتے ہیں۔ وہ تمہاری شکستوں پر تمہیں مجرم نہیں ٹھہراتے، بلکہ زخم صاف کر کے تمہیں دوبارہ کھڑا ہونے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کہاں خاموشی ضروری ہے اور کہاں ایک سادہ سا جملہ زندگی بچا لیتا ہے۔ دوست وہ آئینہ ہیں جو سچ دکھاتے ہیں، مگر شیشہ نہیں بنتے کہ سچ سے تمہیں زخمی کر دیں۔
جب راتیں لمبی ہو جائیں اور امید کی روشنی مدھم پڑنے لگے، تب دوست چراغ نہیں بنتے۔وہ ہوا بن کر چراغ کو بجھنے سے بچاتے ہیں۔ وہ تمہارے خوف کو سن کر مسکرا دیتے ہیں، تمہارے آنسوؤں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، اور تمہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ زمانہ جب تمہاری کمزوریوں کو ہتھیار بنا لے، دوست انہیں ڈھال بنا دیتے ہیں۔
دوستوں کی وفا کا کمال یہ ہے کہ وہ بدلے میں کچھ نہیں مانگتے۔ نہ تعریف، نہ احسان کا شور۔ بس تمہارا سلامت رہنا ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔ وہ تمہاری خوشی میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور غم میں سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ نسبت ہے جو خون کی محتاج نہیں، مگر خون سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔