"



تعلیم ہر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ شعور، تربیت اور کردار سازی کا دوسرا نام ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری بہت سی مشکلات کی جڑ جہالت اور شعور کی کمی ہے۔

جہالت کی وجہ سے لوگ سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر پاتے، اندھی تقلید کا شکار ہو جاتے ہیں اور معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود سوچ سمجھ کر کرے، اپنے حقوق پہچانے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے۔

ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہمیشہ ترقی کرتا ہے۔ تعلیم سے علم و فنون کا دروازہ کھلتا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی ممکن ہوتی ہے اور ایک مضبوط معیشت جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جو آج ترقی یافتہ ہیں، انہوں نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری اپنے تعلیمی نظام پر کی۔

ہمارے معاشرے کو بھی آگے بڑھنے کے لیے سب سے پہلے تعلیم اور شعور کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو اچھا شہری بنائے، دوسروں کے لیے فائدہ مند بنائے اور معاشرتی برائیوں جیسے کرپشن، لالچ، ناانصافی اور انتہا پسندی کو ختم کرے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ ہر بچے، ہر بچی کو تعلیم کا حق دینا ہوگا۔ شعور کی روشنی جب ہر گھر تک پہنچے گی تو ہمارا معاشرہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ قوم کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرے گا۔