موجودہ دور میں وراثت کا مسئلہ نہایت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔
اکثر خاندانوں میں وراثت کے احکام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مال و دولت کی محبت نے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔
انسان چند گز زمین یا کچھ روپے کے لیے اللہ کے حکم کو بھول جاتا ہے۔
حالانکہ وراثت کا تعلق براہِ راست قرآنِ کریم سے ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود وراثت کے حصے مقرر فرمائے ہیں۔
ان حصوں میں کمی یا زیادتی کرنا سخت گناہ ہے۔
وراثت کی تقسیم انسان کی مرضی پر نہیں چھوڑی گئی۔
یہ اللہ کا حکم اور اس کا فیصلہ ہے۔
جو شخص اس میں رد و بدل کرے وہ اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہے۔
آج سب سے زیادہ ظلم بہنوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
انہیں یہ کہہ کر محروم کر دیا جاتا ہے کہ تمہارا حق معاف ہے۔
کبھی جہیز کو بہانہ بنایا جاتا ہے۔
کبھی عزت و شرم کا نام لے کر دبا دیا جاتا ہے۔
حالانکہ شریعت میں ایسی کوئی بات نہیں۔
عورت کا وراثت میں حق اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔
اسے کوئی بھائی، باپ یا خاندان ختم نہیں کر سکتا۔
جو شخص عورت کا حق مارتا ہے وہ ظالم ہے۔
اور ظالم کے لیے قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔
ایسا مال حلال نہیں رہتا بلکہ حرام بن جاتا ہے۔
وراثت میں کمی صرف مالی ظلم نہیں بلکہ روحانی نقصان بھی ہے۔
اس سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
رزق میں بے برکتی آتی ہے۔
گھروں میں سکون ختم ہو جاتا ہے۔
اولاد نافرمان ہو جاتی ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ وراثت کے جھگڑوں نے خاندان توڑ دیے۔
بھائی بھائی سے بات نہیں کرتا۔
چچا، بھتیجوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔
عدالتوں کے چکر لگتے ہیں۔
سالہا سال مقدمے چلتے رہتے ہیں۔
یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ شریعت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اگر ابتدا ہی میں اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم ہو جائے
تو نہ جھگڑا ہو اور نہ دشمنی۔
اسلام ہمیں عدل و انصاف کا درس دیتا ہے۔
وراثت کا نظام اسی عدل کی بہترین مثال ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں بانٹ لیں گے۔
کچھ کہتے ہیں کہ ابھی حالات ٹھیک نہیں۔
مگر موت تو اچانک آ جاتی ہے۔
پھر وراثت بگڑ جاتی ہے۔
اور گناہ مرنے والے کے نامۂ اعمال میں بھی آتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں ہی تیاری کی جائے۔
وراثت کے مسائل سیکھے جائیں۔
علماء سے رہنمائی حاصل کی جائے۔
واضح تحریر اور حساب رکھا جائے۔
تاکہ بعد میں کسی کا حق نہ مارا جائے۔
والدین پر بھی بڑی ذمہ داری ہے۔
وہ اپنی اولاد کو وراثت کی اہمیت سمجھائیں۔
ان میں انصاف اور خوفِ خدا پیدا کریں۔
صرف مال جمع کرنا کامیابی نہیں۔
بلکہ حلال طریقے سے تقسیم کرنا اصل کامیابی ہے۔
یاد رکھیں!
دنیا کا مال یہیں رہ جانا ہے۔
قبر میں صرف اعمال ساتھ جائیں گے۔
اگر وراثت میں ظلم ہوا تو
یہ ظلم قبر اور آخرت میں پکڑ بن جائے گا۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ
وراثت میں کمی سے مکمل طور پر بچیں۔
ہر وارث کو اس کا پورا حق دیں۔
اللہ کے فیصلے پر راضی رہیں۔
اور آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وراثت کے معاملے میں
عدل، انصاف اور تقویٰ نصیب فرمائے۔
اور ہمیں دوسروں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین۔

مفتی محمد صادق امین قاسمی