سود کی حرمت اور اس کے نقصانات
سود ایک نہایت سنگین گناہ ہے جسے شریعتِ مطہرہ میں سختی کے ساتھ حرام قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے سود لینے اور دینے والوں کے خلاف سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔
سود صرف ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کے مترادف ہے۔
سود انسان کے مال میں بظاہر اضافہ کرتا ہے مگر حقیقت میں برکت کو ختم کر دیتا ہے۔
سود لینے والا دنیا میں بھی ذلت کا شکار ہوتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب کا مستحق بنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے سود لینے والے، دینے والے، لکھنے والے اور گواہ بننے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سود کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
سود معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور استحصال کو جنم دیتا ہے۔
غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتا چلا جاتا ہے۔
سود انسان کے دل سے رحم اور ہمدردی کو ختم کر دیتا ہے۔
اسلام ہمیں حلال تجارت اور جائز کمائی کا حکم دیتا ہے۔
قرض حسنہ دینا بڑی نیکی اور اجر کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ سود چھوڑنے والوں کے لیے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔
جو شخص اللہ کے لیے سود کو ترک کرتا ہے، اللہ اس کے لیے بہتر راستہ بنا دیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ سودی لین دین سے مکمل طور پر بچیں۔
بینک کے سود، کاروباری سود اور ہر قسم کے سود سے اجتناب کریں۔
اپنی اولاد کو بھی سود کی حرمت سے آگاہ کریں۔
حلال کمائی پر قناعت کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سود جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے۔
اور ہمیں حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

مفتی محمد صادق امین قاسمی

Contact Number.
+918229072024