رسالتِ انسانی اور تدریجی وحی — حکمتِ الٰہی کا فکری مطالعہ
مضمون (63). بسم اللہ الرحمن الرحیم 
نبوت کے باب میں دو بنیادی سوالات ایسے ہیں جو ہر دور میں انسانی فکر کو جھنجھوڑتے رہے ہیں:
اوّل یہ کہ اگر رسول انسان تھے تو ان پر اعتراض کیوں کیے گئے؟
اور دوم یہ کہ ایک ہی وقت میں پورا قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا؟
یہ دونوں سوالات بظاہر الگ الگ معلوم ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی فکری سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔ قرآنِ مجید نہ صرف ان سوالات کا مدلل جواب دیتا ہے بلکہ انسانی نفسیات، اختیار، تربیت اور امتحانِ ایمان کی اس حکمت کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس پر پورا نظامِ نبوت قائم ہے۔
سوال اوّل: اگر رسول انسان تھے تو ان پر اعتراض کیوں کیے گئے؟
 (1)اعتراض کی اصل جڑ: انا اور برتری کا زعم ہے 
قرآن واضح کرتا ہے کہ منکرین کا مسئلہ یہ ہرگز نہیں تھا کہ رسول انسان تھے، بلکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ انہیں کسی اپنے جیسے انسان کی اطاعت کیوں کرنی پڑے؟
﴿أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولًا﴾ترجمہ ؛انہوں نے کہا کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے؟
(الإسراء: 94)
یہ جملہ محض سوال نہیں بلکہ استہزاء اور انکارِ اختیار کا اظہار ہے۔ گویا کہا جا رہا تھا:
“اگر ماننا ہی ہے تو کسی ایسے کو مانیں جو ہم سے برتر ہو ہم جیسا کیوں؟”یوں اصل رکاوٹ انسان ہونا نہیں بلکہ انا کا ٹوٹنا تھا۔
(2) اگر رسول فرشتہ ہوتا تو بھی اعتراض باقی رہتا قرآن اس نفسیاتی رویّے کو پہلے ہی رد کر دیتا ہے:
﴿وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعْلْنَاهُ رَجُلًا﴾ترجمہ 
“اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا ”
(الأنعام: 9 )اس کی وجہ بالکل واضح ہے:
فرشتہ انسانی کمزوری، آزمائش اور معاشرت کو عملی طور پر نہیں سمجھ سکتا انسان یہی کہتا: “یہ تو ہماری طرح نہیں، ہم اس کی پیروی کیسے کریں؟”
یوں اعتراض ختم نہیں ہوتا، صرف اعتراض کا شکل بدل 
جاتا ۔ ؛ مشرکین کے عناد اور مکابرہ و منازعہ کی خبر دیتے ہوئے اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اگر ہم تم پر کوئی ایسی بھی کتاب نازلی کرتے جو کاغذوں میں لکھی ہوئی ہوتی جس کو وہ ہاتھ سے بھی چھو سکتے؛ اس کو آسمان سے اترتی دیکھ سکتے؛ تو پھر بھی یہ کافر یہی کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے؛ یعنی.؛ جیسے رسول بشری کے بارے میں شک کررہے ہیں. ملک بشری کے بارے میں یہی شک انہیں دامن گیر ہوتا کیونکہ وہ بھی آخر بشر کی ہی شکل و صورت رکھتا؛ (تفسير ابن کثیر ص 210.) بہر کیف ؛تاریخ شاہد ہے کہ:رسول ﷺ کی صداقت دشمنانِ اسلام کو مسلم تھی. آپ ﷺ کا کردار بے داغ تھا
امانت و دیانت پرکبھی ایک حرف نہ آیا.چنانچہ جب کوئی دلیل باقی نہ رہی تو آخری اعتراض یہی رہ گیا:“یہ تو ہماری طرح کھاتے پیتے، بازاروں میں چلتے ہیں”یہ اعتراض دراصل دعوتِ حق سے بچنے کا بہانہ تھا، کوئی دلیل نہیں۔واضح رہے کہ حضور ﷺپر جو آئیتیں اتری ہیں وہ نور ہیں. آپ ﷺ کی رسالت نور ہے. آپ پر اترا ہوا قرآن نور ہے. ایمان نور ہے. اور یہ تمام صفتیں حضور ﷺ میں اتم درجے میں (موجود) ہے اس لیئے ان صفات کے اعتبار سے آپ ﷺ نوری ہیں لیکن ذات کے اعتبار سے آپ ﷺ انسان ہیں کیونکہ آپ انسان میں پیدا کیئے گئے ہیں آپ کھاتے تھے. پیتے تھے. شادی بیاہ کی اور انسان کی طرح زندگی گزاری. ع بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر. (ثمرۃ العقائد ص 82) ؛ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا﴾کہدیجئے ؛سبحان اللہ ؛ میں تو ایک بشر ہوں؛ جسے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا
سورۂ الإسراءآیت 93) یہ آیت منکرین کے غیر معقول مطالبات اور رسولِ اکرم ﷺ کی انسانی حیثیت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا﴾(النساء:174)“اور ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور نازل کیا۔”یہ آیات قطعی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ قرآن محض کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا نور ہے جو عقل کو بھی منور کرتا ہے اور دل کو بھی۔
سوال دوم: ایک ہی وقت میں پورا قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا؟
یہ سوال وحی کے اسلوبِ نزول سے متعلق ہے، اور اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی عمیق حکمت، انسانی نفسیات اور تربیتی تقاضے پوشیدہ ہیں۔
(1) انسانی فطرت ایک ساتھ بیک وقت الٰہی بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں. قرآن خود انسانی ظرفیّت کی حد بیان کرتا ہے:
﴿لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا﴾ترجمہ. اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تُو دیکھتا کہ خوفِ خدا سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا؛ (الحشر: 21)
جب پہاڑ جیسی سخت مخلوق اس بوجھ کو نہیں برداشت کرسکتی،
تو انسان جو جذبات، خواہشات. اورکمزوریوں کا مجموعہ نسبتاً بہت نرم ہے کیسے متحمل کرسکتا تھا؟اسی لیے قرآن: ایک ہی وقت میں نہیں بلکہ حالات، واقعات اور ضرورت کے مطابق تدریجاً (تھوڑا تھوڑا) نازل کیا گیا۔
(2)لہٰذا قرآن کتاب نہیں، انقلاب تھا
اگر پورا قرآن ایک ساتھ نازل ہو جاتا تو:
احکام اچانک نافذ ہو جاتے. عادات فوراً توڑنی پڑتی معاشرہ ذہنی اور عملی طور پر بکھر جاتا شراب کی حرمت، سود کی ممانعت، معاشرتی و اخلاقی اصلاحات یہ سب مرحلہ وار آئیں تاکہ:انسان دباؤ میں نہیں، شعور کے ساتھ بدلے۔
(3) تدریجی نزول: تعلیم نہیں، تربیت کا انوکھا طریقہ ہے. 
قرآن خود اس حکمت کو بیان کرتا ہے:
﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾
(سورۃ الفرقان، آیت 32). - نبی اکرم ﷺ کی تربیت بھی حکمتِ الٰہی کے تحت تدریج کے ساتھ ہوئی۔ قرآن کا تدریجی نزول محض صرف امت کی اجتماعی تربیت کے لیے نہیں تھا، بلکہ خود رسولِ اکرم ﷺ کے لیے تسلی
رہنمائی اور قلبی تقویت کا مستقل ذریعہ بھی بنا۔ ہرمرحلے پر وحی نے رہنمائی دی، دل کو قرار بخشا، مخالفین کے اعتراضات کا جواب فراہم کیا اور حالات کے مطابق راہِ عمل واضح کی۔ یوں وحی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہی؛ وہ صرف ایک مکمل کتاب کی صورت میں یکبارگی نازل نہیں ہوئی، بلکہ مکہ کی بنجر؛ ویران اور جہالت بھری. سرزمین سے اٹھنے والی وہ ہمہ گیر صدا بنی جو قیامت تک پوری انسانیت کے لیے انقلاب کا پیغام ہے۔
تدریج کو اس لیے اختیار کیا گیا تاکہ تربیت ممکن ہو، دل و دماغ قبولیت کےمرحلوں سے گزریں، اور انسانی فطرت پر بوجھ ڈالے بغیر اسے سنوارا اور محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ نزول:صرف یاد کرنے کے لیے نہیں تھا
بلکہ سمجھنے، اپنانے اور نافذ کرنے کے لیے تھا. اسی تدریج نے:
افراد کو بدلا. خاندان سنوارے. اور ایک بکھرے معاشرے کو امت بنا دیا۔یہی وجہ ہے کہ نبوت کا یہ اسلوب عقل کو مطمئن کرتا ہے، فطرت سے ہم آہنگ ہے اور امتحانِ ایمان کو بامعنی بناتا ہے۔مختصر یہ کہ: رسول انسان تھے تاکہ نمونہ قائم ہو،اور قرآن تدریجاً نازل ہوا تاکہ انسان سنور سکے.
 لہٰذا قرآن کی تاثیر،اللہ کی کامل حکمت کا حسین اظہار ہے اس کی ابدیت اس کے انقلابی کردار کا مکمل روشن ثبوت ہے۔
           ________________
  بقلم محمودالباری. 
Mahmoodulbari342@gmail.com