آج امت نے ایک اور صلاح الدین کو کندھے اٹھایا
✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مرتے نہیں بلکہ قوموں 
کے شعور میں اتر جاتے ہیں۔ آج فضا میں جو بوجھ ہے امت محسوس کر رہی ہے وہ اس امانت کا بوجھ ہے جو ایک پورے عہد نے ہمارے ہاتھوں میں رکھ دی ہے۔ کتنی مائیں آج نوحہ کر رہی ہیں، کتنی دعائیں ہیں جو لبوں تک آ کر سسک گئی ہیں مگر اس غم میں بھی ایک عجب وقار ہے کیونکہ یہ غم قبولیت کا غم ہے۔
تیرا جینا بھی بابرکت تھا ابو عبیدہ کہ تو محاصرے میں بھی یقین بانٹتا رہا، اندھیروں میں بھی سمت دکھاتا رہا اور تیرا جانا بھی مبارک ٹھہرا کہ تو ہمیں یہ سکھا گیا کہ حق کے راستے میں گر جانا دراصل اٹھ جانے کا نام ہے۔ تو نے ثابت کیا کہ مردِ حق کا قد لاشوں سے ناپا نہیں جاتا اس کے اثر سے ناپا جاتا ہے۔۔۔۔۔
کہیں کوئی ماں اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر کہہ رہی ہوگی کہ
اگر مرنا ہے تو ایسا مرنا
اور کہیں کوئی آنکھ خاموشی سے یہ شعر دہرا رہی ہوگی
وہ جو حق پر مِٹ گئے وہی زندہ ٹھہرے
ہم تو زندہ ہیں مگر سانسوں کے اسیر ہیں
آج فلسطین رو رہا ہے مگر یہ آنسو بیج ہیں جو آنے والے دنوں میں حوصلہ بن کر اگیں گے۔۔۔۔۔
ابو عبیدہ تم گئے نہیں ہو تم تو پھیل گئے ہو ددعاؤں میں، نیتوں میں اور ان دلوں میں جو اب خاموش رہنے پر آمادہ نہیں۔
کسی نے سچ کہا تھا کہ
شہید مرتا نہیں وہ تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے اور آج اس موڑ پر کھڑی امت یہ جان چکی ہے کہ تیرا جانا بھی زندگی کی ایک نئی صورت ہے۔۔۔۔۔