نسیم حسین لکھیم پوری

خدارا جاوید اختر کو معاف کردیں

مفتی شمائل صاحب ندوی اور جاوید اختر کے
 درمیان جو مناظرہ ہوا اس مناظرے نے ہمیں کئی ایسے لوگوں سے روشناس کروایا جن کی تحریریں پڑھ کر اور اشعار سن کر ہمیں سخت افسوس ہوا.
جاوید اختر صاحب اگرچہ ملحد ہیں خدا کے منکر ہیں لیکن ہیں وہ بھی ایک انسان ان کی بھی لوگوں کے دلوں میں عزت ہے جو انہوں نے گیت. غزلیں. اور کہانیاں لکھیں. انہوں نے بہت سی فلمیں کہانیاں لکھیں فلمی اور شاعری کی دنیا کے وہ مشہور و معروف شخص ہیں

اللہ تعالی نے ان کو عزت دی شہرت دی مال اور اولاد سب کچھ دیا حالانکہ وہ اسی خدا کا انکار کر بیٹھے.
ان کو ان کے فن اور ان کے علم نے عزت دی لیکن مناظرے کے بعد ہم نے اپنے بہت سے موحدین کو دیکھا اور ایسی تحریریں لکھیں جو کہ ہمارے مذہب کی تعلیم کے بالکل برعکس ہیں اور انسانیت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی.

مناظرے کے بعد مسلسل ہمارے کچھ اہل ایمان کی جانب سے ان کو تضحیک اور استہزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ بات بہت ہی افسوسناک ہے.

کیا اس سے ان کو ان کے اہل خانہ کو تکلیف نہیں ہوتی ہوگی اگر کوئی غلط ہے اور اس کا عقیدہ غلط ہے تو اس کو ذلیل اور رسوا کیا جائے گا
نہیں ہرگز نہیں یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اسلام کی تعلیم ہونا تو دور کی بات یہ انسانیت کے تقاضے کی بھی خلاف ہے.
بعض لوگوں نے اوٹ پٹانگ اشعار بنا رکھے ہیں.
ایک صاحب کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے
جتنا سمجھا تھا اس سے فروتر نکلا
ہو کہ رسوا سر بازار وہ اختر نکلا
ملحدی اس کو سمجھتے تھے سکندر اپنا
یہ تو بدبخت حقیقت میں چقندر نکلا
کوئی کہتا تھا اسے فکر کا میزان ہے وہ
وقت نے پرکھا تو وہ ناپ میں کمتر نکلا
دم دبائے ہوئے وہ مجلس سے نکلا ایسا
جیسے لگتا تھا اٹھ کے کوئی بندر نکلا

ان اشعار میں کتنی تحقیر ہے کیا یہ ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم کسی کو اس طرح سے ذلیل کریں.
ہم کسی کو اس کے عقائد کی خرابی کی بنا پر ذلیل کریں.

کیا اسلام ہمارے اخلاق سے نہیں پھیلا. اسلام تو ہمیں حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے.

ایک مرتبہ حضور صلی اللّہ علیہ وسلم کے گلے سے ایک بدو نے چادر اس زور سے کھینچی کہ اپ کی گردن مبارک سرخ ہو گئی قریب تھا کہ آپ سر کے بل گرتے لیکن اپ مسکرائے جاتے تھے.
مکہ کی زندگی میں آپ کو کتنی تکلیفوں سے گزرنا پڑا لیکن اپ نے فتح مکہ کے بعد کسی سے بدلہ نہیں لیا کسی سے بدلہ لینا تو دور کی بات کسی کو ایذا رسانی کی وجہ سے لعن و طعن بھی نہیں کیا بلکہ آپ نے سب کو معاف کر دیا.
یہی اخلاق تھے جنہوں نے دشمنوں کو بھی دوست بنا لیا اور لا الہ الا اللہ کہنے پر مجبور کر دیا ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ثمامہ بن اثال کو قید کر کے لائے اور مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تین دن تک وہ اسی ستون سے بندھے رہے آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں آزاد کر دو صحابہ کرام نے آزاد کر دیا.
اگلے روز اور نہا دھو کر تشریف لائے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ آپ مجھے کلمہ پڑھا دیجئے اور لا الہ الا اللہ کہہ کر اسلام میں داخل ہوگئے اور کہنے لگے اے محمد مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ آپ سے نفرت تھی لیکن اب جتنے بھی روئے زمین پر انسان ہیں ان سب میں زیادہ محبت آپ سے ہے یہ ہمارے نبی کے اخلاق تھے یہ ہمارے نبی کا کردار تھا.
اب ہم نے جاوید اختر کے نام پر وہ طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ خدا کی پناہ.

ہدایت دینے والی ذات اللہ کی ہے لیکن کیا ہمارے ان اخلاق کی وجہ سے جاوید اختر صاحب راہ راست پر آسکتے ہیں کیا ہمارے ان کارناموں کی وجہ سے ایمان قبول کر سکتے ہیں.
اگر ان کے دل میں خیال آئے گا بھی تو ہمارے اخلاق ان کی تباہی کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں لیکن ہدایت کا ذریعہ بن جائیں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے
جاوید صاحب کو یہ طعنہ دیا گیا کہ وہ مفتی صاحب کی انگریزی نہیں سمجھ پائے اور اس پر بھی بہت سی پھپتیاں کسی گئیں جملے کسے گئے لطیفے بنائے گئے ہر فن کی الگ الگ اصطلاح ہوا کرتی ہیں جو اسی فن کا ماہر ہی سمجھ سکتا ہے حدیث. تفسیر. فقہ. اصول حدیث. اصول تفسیر. اصول فقہ. فصاحت و بلاغت. علم کلام ان کی الگ الگ اصطلاحیں ہوا کرتی ہیں جو اسی فن کا عالم سمجھ سکتا ہے.
جاوید صاحب اردو ادب اور فن شاعری کے ماہر ہیں اگر وہ اپنی شاعری کی اصطلاح مفتی صاحب کے سامنے بولتے تو کیا مفتی صاحب سمجھ پاتے ہو سکتا ہے نہیں سمجھ پاتے یہ تو جاوید صاحب کا بڑپن ہے کہ جو چیز انہیں نہیں معلوم تھی بلا جھجک معلوم کر لی کوئی اور ہوتا تو شاید لائیو ایسا کرنے میں شرم محسوس کرتا.

جاوید صاحب کی عمر کا خیال کریں 80 سال کے ہو گئے ہیں ہاتھ کانپتے ہیں اس کو بھی لوگوں نے خوف سے تعبیر کر لیا کہ وہ مفتی صاحب کے سامنے بولنے سے کانپ رہے تھے خدا کا خوف کریں اور ایسی باتیں نہ کریں جس سے کسی کے دل کو ٹھیس پہنچے اور جاوید صاحب کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت عطا فرمائے امین