تجدیدِ نصاب کی ضرورت
29 دسمبر، 2025
✍️ سعید انور ارریاوی
دارالعلوم وقف دیوبند
گذشتہ دنوں مفتی شمائل صاحب کی ڈبیٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ موضوع ابھر آیا ہے کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تجدید کی ضرورت ہے،اس تعلق سے مختلف مضامین نظرِمطالعہ سے گزر چکی ہے، اور احاطۂ مدارس میں یہ مقولہ مشہور ہوچکا ہے کہ نصاب کافی طویل ہے اور اس میں دوبارہ غور وخوض کی ضرورت ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ نقص کہاں ہے ؟ اور کیا اس نصاب کو پڑھ کے جید عالم پیدا نہیں ہوسکتے،جب اس تعلق سے آپ کا معیارِ فکر تھوڑی عمق میں جائے تو آپ کو تین باتوں کا اندازہ ہوگا اور شاید یہ مسئلے کا حل ہوسکتا ہے ـ
(۱) اگر اس بات کی جواب تلاش کی جائے تو اتنی بات ضرور منصۂ شہود پہ آتی ہے کہ نصاب میں جزوی تبدیلی کی ضرورت ہے،قدیم کلام و فلسفہ اور مسائل کے ساتھ جدید علوم کی معیت قابل تحسین اقدام ہوگا البتہ مکمل یا اکثر نصاب کی تبدیلی کا نقصان ضعف استعداد کی صورت میں ظاہر ہوگا صرف یہی نہیں بلکہ مدت تعلیم میں کمی اس سے کہیں زیادہ مہلک ہے ـ
(۲) افادہ و استفادہ کے تعلق سے معلم اور متعلم دونوں کو اپنا کردار بخوبی ادا کرنا ہوگا،چناں چہ حضراتِ اساتذہ سے یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ ہرکتاب کو بطورِ فن کے پڑھائیں،قدیم کتابوں کو جدید اسلوب،حالیہ مثال ،نئی اصطلاحات سے مزین کرکے اسباق کو سمجھائیں ـ
(۳) تیسری بات یہ کہ جو طلبہ اس نصاب پہ سوال اٹھاتے ہیں ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ نے بغور سبق سنا؟ بعدہ تکرار ومطالعہ کیا ؟ خیر! واقعہ یہ ہے کہ طلبہ میں محنت کا شوق ولگن ،تحقیق وجستجو کی خواہش،تکرار ومطالعہ کا ذوق سب ماند پڑگئی ہے، کتاب سے زیادہ موبائل عزیز ہوگئی ہے ، ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں جید علماء کی امید رکھنا باعث تکلیف ہوگی ـ
لہذا نصاب کا الزام ترک کرکے ہر ایک اپنا فریضہ بخوبی ادا کرنے کی کوشش کرے تو بالیقین یہ پریشانی دفع ہوجائے گی اور احاطۂ ادارہ میں علم و عمل کی مہک ،تکرار ومطالعہ کی خوشبو ،تحقیق و تفتیش کی کرنیں پھوٹنے لگیں گی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو حصول علم کی توفیق عطا فرمائے ـ