آئینہ توڑنے کا ہنر، چہرہ سنوارنے کی ضد
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
انسان کی فطرت بظاہر نہایت پیچیدہ مگر حقیقت میں بہت واضح ہے۔ وہ اپنی تعریف پر فوراً مسکرا دیتا ہے، مگر اپنی اصلاح پر ناراض ہو جاتا ہے۔ سچائی پر مبنی تنقید اسے اپنی ذات پر حملہ محسوس ہوتی ہے، جبکہ جھوٹ پر مبنی خوشامد اس کے دل کو عارضی تسکین دے دیتی ہے۔
موجودہ حالات میں خوشامد سب سے آسان اور مقبول راستہ بن چکی ہے، اور سچ بولنا سب سے مشکل۔ جو شخص ہماری کمزوری کی نشاندہی کرے، وہ ہمیں دشمن نظر آتا ہے، اور جو ہماری انا کو سہلاتا رہے، وہ خیرخواہ کہلاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقید انسان کو نکھارتی ہے اور خوشامد اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
آج کا انسان آئینہ تو دیکھنا چاہتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ آئینہ صرف تعریف دکھائے۔ اگر وہ حقیقت بیان کر دے تو آئینہ قصوروار ٹھہرتا ہے۔ یہی رویہ فرد سے نکل کر معاشرے تک پھیل چکا ہے، جہاں احتساب کو دشمنی اور اصلاح کو بد نیتی سمجھا جانے لگا ہے۔
قومیں اور معاشرے خوشامد کے سہارے کبھی ترقی نہیں کرتے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ترقی ہمیشہ خود احتسابی، اصلاحِ احوال اور سچ کو قبول کرنے سے آتی ہے۔ جو معاشرے تنقید سے بھاگتے ہیں، وہ اپنی غلطیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں، اور یہی ان کی زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔
تنقید اگر خلوص نیت کے ساتھ ہو تو وہ زخم نہیں دیتی، بلکہ زخموں کا علاج بتاتی ہے۔ اس کے برعکس خوشامد وقتی مسرت تو دیتی ہے، مگر انجام میں فکری اور اخلاقی تباہی کا سبب بنتی ہے۔
آج سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ ہمیں زیادہ تعریف کرنے والے ملیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں وہ لوگ میسر ہوں جو ہمیں سچ کہنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، اور ہم میں وہ ظرف پیدا ہو کہ ہم سچ سن سکیں۔
آئینہ کبھی دشمن نہیں ہوتا، وہ صرف چہرہ دکھاتا ہے۔
دشمنی دراصل آئینے سے نہیں، اپنی حقیقت سے ہوتی ہے۔