لڑکے کے انتخاب کا معیار دین داری یا دولت ؟
29 دسمبر، 2025
دنیا جوں جوں ترقی کر رہی ہے ، انسان انسانیت سے عاری ہوتا جا رہا ہے ، لا مذہبیت اور بے دینی کے دلدل میں پھنستا جا رہا ہے ، ظاہرا تو روشن خیالی کا دعوی زبان زد ہے ؛ لیکن باطن ظلمات کا بسیرا ہے ، جدت پسندی کی ریل پیل میں اتنا مگن ہے ، کہ فحاشی ، اور عریانیت کا دل دادہ ہونے کی وجہ سے ”أولئك كاالأنعام ، بل هم أضل “کا مصداق بن چکا ہے ، غیر تو خیر غیر ہے، اپنے مسلمان بھی اس طوفان بدتمیزی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ، زبان پر” لا معبود الا اللہ“ کا دعوی ہے ؛ مگر ہر چیز میں مغربی تہذیب و ثقافت کو خدائی کا درجہ دے رکھا ہے، ہندوانہ رسم و رواج کو مذہب کے نام سے انجام دینے میں ذرا بھی نہیں ججھکتا ، نوبت بایں جا رسید کہ زندگی کے ہر شعبے میں غیروں کے طور طریقے اس طرح درآئے ہیں ، کہ مسلم و غیر مسلم میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ، خصوصاً شادی بیاہ کے رسوم میں اتنا افراط برتا جا رہا ہے، کہ ایک آسان کام نکاح کو مشکل بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے زنا عام ہوتا جا رہا ہے۔
چناں چہ جہاں جہیز جیسی لعنت نے ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ لیا ہے ، کہ غریب آدمی اپنی بیٹی کی شادی کے لیے برسوں محنت کرتا ہے ، اور آخر میں قرض کے بوجھ تلے دب کر اپنی بیٹی کو رخصت کرتا ہے؛ تاکہ سماج میں اس کی ناک اونچی رہے ۔ تو دوسری طرف لڑکیوں کے خواہشات اور مطالبات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ہر گھرانہ صرف دنیا کو ترجیح دے رہا ہے ، ہر کوئی صاحبِ ملازمت کی تلاش میں منہمک ہے ، چاہے اخلاقی اعتبار سے وہ کتنا ہی ذلیل کیوں نہ ہو، بس دنیاوی اعتبار سے اعلی بزنس مین اور سرکاری نوکری والا ہو ، تو اسی کو ترجیح دی جاتی ہے، حالاں کہ اس اہم موقع پر دین داری کو سب سے پہلے پیش نظر رکھنا چاہیے؛ لیکن آج ہوتا یہ ہے کہ ہماری لڑکیاں بھی ایسے لڑکوں کو ہی ترجیح دیتی ہیں ، جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو، بڑے گھرکا مالک ہو، بڑا بنگلہ والا ہو ، جس کے پاس زمین اور جائیداد کی ریل پیل ہو ؛ حالاں کہ اس کے ساتھ ان کو مکمل زندگی گزارنی ہے ، جس کے لیے رفیقِ حیات کا انتخاب ایسا ہونا چاہیے ، کہ مالی اعتبار سے گرچہ کم زور ہو ؛ لیکن دینی اور اخلاقی اعتبار سے اتنا معیاری ہو کہ عزت و سکون کے ساتھ پوری زندگی بیوی کے حقوق کی رعایت کرسکے ، اور اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکے ۔
آج ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو ”حضرت فاطمہ بنت وہب رضی اللہ عنہا “ کے واقعے سے سبق حاصل کرنا چاہیے ، کہ متمول گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود، صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ایک غریب الدیار ، مسکین صحابی کو رفیقِ حیات بنانے پر راضی ہو جاتی ہیں ۔ چناں چہ حضرت سعد اسود صحابی رسول ہیں ، دیہات کے باشندے ہیں ، شکل و صورت اچھی نہیں ہے، آپ کے کالے پن کی وجہ سے” اسود“ لقب پڑ جاتا ہے، مالی اعتبار سے اتنا کم زور ہیں کہ کئی کئی ایام فاقے پر گزر جاتے ہیں ، آپ نے مدینے کے ہر گھر میں اپنا رشتہ بھیجا ؛ مگر آپ کی شکل و صورت اور مالی حالت کو دیکھ کر سب نے اپنی بیٹی دینے سے انکار کردیا ، با لآخر مایوسی اور نا امیدی کی حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے ، جب سعد اسود نے اپنے حالات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو گئی ، اور تھوڑی دیر بعد ارشاد فرمایا : ”جاؤ سعد میں نے تمہارا نکاح مدینے کی سب سے خوب رو اور سب سے زیادہ مال دار لڑکی” فاطمہ بنت وہب بن عمرو بن ثقفی“ سے کر دیا ۔ چناں چہ یہ پیغام لے کر حضرت سعد، وہب ثقفی کے گھر گئے، دروازے پر دستک دی ، فاطمہ کے والد وہب ثقفی نے دروازہ کھولا ، اور آنے کا سبب معلوم کیا ، حضرت سعد نے پورا ماجرہ بیان کیا ، جس کو سن کر وہ غصہ میں آگئے، اور چیخ کر کہنے لگے ”یہاں سے چلے جاؤ، میں اپنی بیٹی کا نکاح ایسے آدمی سے ہرگز نہیں کروں گا ، جس کی نہ شکل اچھی ہو، اور نہ مال و دولت پاس ہو“ ؛ لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چھپ کر ساری باتیں سن رہی تھیں ، انھوں نے اندر سے آواز دے کر کہا کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح کر دیا ہے، تو مجھے یہ نکاح منظور ہے ، فرمانِ رسول کے آگے مال و دولت اور شکل و شباہت کی کوئی حیثیت نہیں “ ۔
الغرض! حضرت سعد ان کو لے کر اپنا گھر دیہات آگئے ؛ لیکن گھر میں اشیاءِ خورد و نوش نہ تھیں ، جس کی وجہ سے مسلسل انہیں یہ فکر پریشان کرنے لگی، کہ فاطمہ بڑے گھر کی صاحب زادی ہیں ، ان کے لیے کچھ نہ کچھ انتظام کرنا پڑے گا، اسی مقصد کے لیے فاطمہ سے چند ساعتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت چاہی ؛ لیکن فاطمہ نے اجازت نہیں دی، اور کہنے لگی ”میرے سرتاج! مجھے چھوڑ کر آپ کہیں نہ جائیں“ حضرت سعد جب بار بار اصرار کرنے لگے ، تو حضرت فاطمہ نے باہر جانے کی وجہ پوچھی ، حضرت سعد نے کہا کہ خورد و نوش کا انتظام کرنا ہے، تو کہنے لگی کہ آپ کیا کھائیں گے؟ حضرت سعد نے جواب دیا کہ میرا روزہ ہے ، تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی بول پڑی کہ ” قسم بہ خدا میرا بھی روزہ ہے “ پھر دریافت کیا کہ افطارکس سے کریں گے ؟۔ اس سوال پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے گھر کے کسی کونے سے روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکال کر دکھایا ، کہ میں اسی سے افطار کر لوں گا۔ حضرت فاطمہ نے بھی کہا کہ مجھے مزید کسی چیز کی خواہش نہیں ، یہی میرے لیے کافی ہے۔ اللہ اللہ! کتنی وفاداری شوہر کے ساتھ، اور کتنا توکل اللہ پر، کہ ایک مال دار گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود سوکھی روٹی پر شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے پر راضی ہیں ۔
آج ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے ، یقیناً آپ اس درجے کی قناعت اور توکل کا مظاہرہ نہیں کرسکتی ؛ کیوں کہ یہ خیر القرون کا واقعہ ہے ، جس سے ہم کافی دور ہوچکے ہیں ؛ لیکن اتنا تو کر ہی سکتی ہیں کہ نکاح کے موقع پر مال کو زیادہ اہمیت نہ دیں ؛ بلکہ دین داری ، وفاداری اور حسن اخلاق کو معیار بنائیں ؛ کیوں کہ مال زائل ہونے والا سایہ ہے ، آج ہے تو کل نہیں ؛ لیکن اچھے اخلاق ، وفاداری ، فرائضِ منصبی کو انجام دینے کی فکر اور سارے حقوق کی پاس داری کی کوشش ، ایسی چیز ہے کہ جس کے اندر یہ خوبی ہو، وہ کبھی بھی کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں آنے دیتا ؛ اس لیے ہماری لڑکیوں ، اور ان کے والدین کو بھی چاہیے کہ انھیں چیزوں کو مدنظر رکھ اپنی بیٹی کو سپرد کریں ، یقینا ان کی دنیا و آخرت دونوں کام یاب ہوجائیں گی ۔ ان شاء اللہ
*✍️: محمد شاہد گڈاوی*