تحریر: شفیق الرحمن بلال
پہلی قسط:
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے عالی مقام رفقاء حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمت اللہ علیہ کے اندر جو جذبہ کارفرما تھا،وہ حمیت اسلامی کا جذبہ تھا.اسی نے ان سے اس دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھوائی ، مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ کو دینی علوم میں اجتہاد کا مقام حاصل تھا، اللہ تعالی نے ان کو علم کلام اور معارف الہیہ میں دیدہ وری اور نکتہ سنجی کی غیر معمولی دولت سے نوازا تھا ، جس کی شاہد ان کی کتابیں ، آب حیات تقریر دلپزیر اور حجت الاسلام ہیں ، لیکن ان کا سب سے بڑا امتیاز یہ تھا کہ اللہ تعالی نے ان کو حمیت اسلامی کے جوہر سے حصہ وافر عطاء فرمایا تھا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بے چین روح اور ایک مضطرب دل عطاء فرمایا تھا ، اور وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ ہندوستان جس پر ہمارے اسلاف کی بہترین صلاحیتیں صرف ہوئی ہیں اور جس نے اسلام کی خدمت اور دینی علوم کے میدان میں وہ کارنمایاں انجام دیے، جن کے نزدیک بڑے بڑے اسلامی ملک نہیں پیش کر سکتے ، تاریخ کے پچھلے دور میں وہ مسلمانوں کی ذہانت، ان کی قوت اجتہادی، ان کی اولو العزمی ،اور۔حوصلہ مندی کے اظہار کا سب سے بڑا میدان رہا ہے، انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ایسے بہترین خطے کو اس آسانی کے ساتھ مغربی تہذیب کی تحویل اور اس کے علم برداروں کے چارج میں دے دیا جائے ؟ کیا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ مسلمان خاندانوں کے نونہال ،صدیقی، فاروقی علوی، عثمانی، اور سادات و شیوخ کے گھرانوں کے چشم و چراغ جن کے اسلاف کرام کی کوششوں کی بدولت لاکھوں انسانوں کو اسلام کی ہدایت اور علم کی دولت نصیب ہوئی ، جنہوں نے اسلام کے چراغ کو اپنے سینے سے لگائے رکھا اور بڑی بڑی آندھیوں اور طوفانوں میں بھی اس کو گُل ہونے نہ دیا اسلامی تہذیب و معاشرت اور سنت و شریعت سے رشتہ توڑ کر خالص مادہ پرست انگریزوں کے قبضے میں چلے جائیں؟ اور وہ ان کو اپنی نئی تہذیب و تعلیم کے سانچے میں ڈھال کر مسلمانوں یا صحیح الفاظ میں دنیا داروں کی ایک نئی نسل تیار کردیں ؟ جس کو نام اور قومیت کے سوا کسی چیز میں سابق نسل سے مناسبت اور مشابہت نہ ہو؟
یہ سوال تھا جو مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ کے سامنے ایک مسئلہ بن کر کھڑا ہو گیا یہ مسئلہ محض ایک مدرسہ اور تعلیم گاہ کے قیام کا نہیں تھا میں سمجھتا ہوں کہ دارالعلوم دیوبند کے حق میں ازالہ حیثیت عرفی کا جرم ہوگا اگر کہا جائے کہ دارالعلوم چند مخصوص کتابوں کے پڑھنے پڑھانے اور ترس و تدریس کے ایک مرکزی حیثیت سے قائم ہوا تھا اس سے بڑھ کر اس کے بانیوں کے ساتھ کوئی نہ انصافی نہیں ہو سکتی ایسا کہنے والوں کو ان بزرگوں کی روحوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا، جس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ یہ محض ایک مدرسہ ہے تو حضرت شیخ الہند تڑپ اٹھتے تھے ، ان کے نزدیک اسلام کا ایک قلعہ اس کے داعیوں اور مجاہدوں کی تربیت کی ایک چھاونی اور سلطنت مغلیہ کے گُل ہونے والے چراغ کا بدل بلکہ نعم البدل تھا۔