🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
یوں تو حضرت جیؒ کی کتاب "دواۓ دل" کئی بار پڑھی،یہ وہ کتاب ہے جو کئی مرتبہ دل کے زخموں پر مرہم بنی، روح کی تھکن اتارتی رہی، اور اصلاح کے سفر میں خاموش رہنما بنتی رہی۔
مگر گزشتہ کل جب میں نے اسے دوبارہ ہاتھ میں لیا تو کیفیت کچھ اور ہی تھی۔
کتاب ہاتھ میں تھی، مگر ہاتھ کانپ رہے تھے صفحے سامنے تھے، مگر دل لرز رہا تھا۔
کتاب کھولتے ہی یوں لگا جیسے دل کے نہاں خانے کھل گئے ہوں۔
ہر صفحہ ایک سوال بن کر سامنے کھڑا تھا، اور دل ان سوالوں سے نظریں چرا رہا تھا۔
مگر جونہی پہلے صفحے پر حضرت مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی مدظلہ کے وہ کلمات نگاہوں سے ٹکرائے، تو دل جیسے اچانک ساکت ہو گیا۔
اللہ حضرت جی کی عمر میں برکت عطا فرمائے
اللہ تعالیٰ انہیں سلامت و باکرامت رکھے۔
نہ جانے کیوں دل پر ایک وحشت سی طاری ہو گئی
آنکھیں ٹھہر گئیں، سانس بھاری ہو گئی، اور دل اس خیال کو ماننے سے انکاری ہو گیا۔
کہ حضرت جی اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
میں انہی صفحات پر گھنٹوں رک سی گئی، نہ آگے بڑھنے کی ہمت ہوئی، نہ کتاب بند کرنے کا دل چاہا۔
وقت جیسے ٹھہر گیا ہو، اور میں اسی لمحے میں قید ہو گئی ہوں۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے "دواۓ دل“ اس دن شفا نہیں، بلکہ امتحان بن گئی ہو۔
دل کے صبر، محبت اور وابستگی کا امتحان۔
ہر سطر حضرت جیؒ کی شفقت کی گواہی دے رہی تھی، ہر لفظ ان کی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔
دل یہی سوچتا رہا کہ جو ہستیاں دلوں کو زندہ کرتی ہیں، وہ کیسے رخصت ہو سکتی ہیں؟
وہ ہستی جو رہنمائی کا چراغ بن کر راہوں کو روشن کرے، وہ کیسے بجھ سکتی ہے؟
اس دن یہ کتاب محض مطالعہ نہ رہی، بلکہ ایک یاد، ایک امانت اور ایک خاموش گفتگو بن گئی۔
میرے اور میرے دل کے درمیان ،
میں نے محسوس کیا کہ کچھ تعلقات لفظوں سے نہیں، روحوں سے جُڑتے ہیں، اور کچھ ہستیاں دنیا میں ہوں یا نہ ہوں، دلوں سے کبھی جدا نہیں ہوتیں۔
واقعی، کچھ کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ دل کو تھام لیتی ہیں، آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں، اور انسان کو دیر تک خاموش کر دیتی ہیں۔
دواۓ دل“ بھی ایسی ہی کتاب ہے جو دل کو سنبھالتی بھی ہے"
اور اسے اس کی کمزوریوں کا احساس بھی دلا دیتی ہے۔
اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی تاثیر ہے۔
اے اللہ!
ہمارے حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرما
ان کی قبر کو نور سے بھر دے
اور انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت نصیب فرما۔
یا ربّ!
جن دلوں کو انہوں نے زندگی دی
اور جن راہوں کو انہوں نے روشن کیا
ان سب کا اجر ان کے نامۂ اعمال میں لکھ دے۔
اے اللہ!
ہمیں ان کی جدائی کا صدمہ سہنے کی توفیق دے
اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایمان پر خاتمہ نصیب فرما۔
آمین یارب العالمین 🤲🏻