*اے دنیا پرستوں اور عزت نفس سے کھیلنے والوں رشتے میرا رب بناتا ہے تم نہیں*

*قسط ثانی*

میری ہیڈ لائن ہی آپ حضرات کو سب سمجھا رہی ہوگی،لیکن داستان بہت رلانے والی ہے،ہمارے معاشرے میں شادی اب رشتہ نہیں رہی، ایک ایسا امتحان بن چکی ہے جس میں لڑکی کی مسکراہٹ، خاموشی، آواز، چال، رنگ، عمر، سلیقہ اور حد سے بڑھی ہوئی فرماں برداری تک کو پرکھا جاتا ہے، اور اگر وہ کسی ایک کسوٹی پر بھی کم پڑ جائے تو اسے بے دردی سے ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے، بغیر یہ سوچے کہ اس ایک فیصلے کے پیچھے ایک زندہ دل لڑکی، اور دو ٹوٹتے ہوئے ماں باپ کھڑے ہیں، یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ ہمارے سماج کے ضمیر کی سچی تصویر ہے، میں آج پڑھا اور بہت رونا آیا اور دل نے بغیر رکے خود سے سوالات کرنے شروع کر دیے،اور ابھی کچھ دن پہلے ہی میں ایک تحریر لکھا تھا جس کا عنوان تھا *لڑکی دیکھنے پورا پریوار نہیں بلکہ صرف لڑکا جائے* اسی کی ایک سچی تصویر آپکے سامنے ہے اسی وجہ سے اس کا قسط ثانی نام رکھا ہے۔ایک ڈاکٹرنی نے ہیں انہوں نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

میں ڈاکٹر فاطمہ ہوں،کل میں ڈیوٹی پر تھی کہ ایک خودکشی کا ایمرجنسی کیس ہسپتال لایا گیا، مریضہ ایک لڑکی تھی، نام *منتہیٰ* اپنے آٹھ سالہ کیریئر اور گزری زندگی میں، میں نے اتنی خوبصورت، باوقار اور سلیقہ مند لڑکی پہلی بار دیکھی تھی، وہ بے ہوش تھی اسے اس کے والدین ہسپتال لائے تھے، ماشاءاللہ شریف، باوقار اور سنجیدہ لوگ، مگر اس لمحے ان کی حالت دل دہلا دینے والی تھی، بیٹی کے ایک قدم نے ان کی پوری دنیا ہلا دی تھی، جانے کیوں اس منظر نے میرے دل کو اندر تک زخمی کر دیا،منتہیٰ کو فوراً آپریشن تھیٹر لے جایا گیا، آپریشن کامیاب رہا اور اسے وارڈ منتقل کر دیا گیا، جب والدین کو بتایا گیا کہ اب خطرہ نہیں رہا تو اس کے والد شکرانے کے طور پر غریبوں میں کچھ تقسیم کرنے نکل گئے، میں نے منتہیٰ کی ماں کو اپنے آفس میں بلا لیا، کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر وہ ماں بولیں، اور میں سنتی رہ گئی،انہوں نے بتایا کہ منتہیٰ نے *ٹیکسٹائل انجینئرنگ* کر رکھی تھی تعلیم کے بعد والدین نے، ہر ماں باپ کی طرح، بیٹی کے گھر بسانے کا سوچا جب اس سے پسند پوچھی گئی تو اس نے مشرقی لڑکیوں کی طرح فیصلہ ماں باپ پر چھوڑ دیا، پہلا رشتہ آیا کھانے پینے کے بعد لڑکی کو یوں پرکھا گیا جیسے کسی نمائش کی چیز ہو کسی نے چل کر دکھانے کو کہا، کسی نے بولنے کو، کسی نے ہاتھ کی چائے مانگی چائے پی گئی، اجازت لی گئی، اور چند دن بعد بغیر کسی وجہ کے انکار کر دیا گیا، یہ منتہیٰ کی زندگی کا پہلا ریجیکشن تھا،دل ٹوٹا، مگر والدین نے حوصلہ دے دیا اور کہہ دیا بیٹا یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔

دوسری بار ایک اور فیملی آئی، انہوں نے بھی چائے پی، تین دن انتظار کروایا، اور پھر یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ لڑکی کو مہمان نوازی نہیں آتی، کیونکہ اس نے لڑکے کی ماں کو میز سے اٹھا کر ہاتھ میں چائے دینے کے بجائے عام مہمانوں کی طرح ٹیبل پر رکھ دی تھی، اس بار صرف منتہیٰ نہیں، اس کے والدین بھی اندر سے ٹوٹ گئے، مگر پھر بھی صبر کیا، تیسری بار آنے والی فیملی کے لیے منتہیٰ نے خود کو مٹا دیا، مہمان خواتین کے بیٹھتے ہی ان کے جوتے خود اتارے، وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ دھلوائے، اور پھر چائے پیش کی، ایک ہفتے بعد جواب آیا کہ آپ کی بیٹی پر جنات کا سایہ ہے، ورنہ کوئی پہلی بار آئے مہمانوں کی اتنی خدمت کیوں کرے گا،یوں آٹھ سالوں میں سو سے زیادہ رشتے آئے،ہر بار نیا عیب، نیا بہانہ اور ریجیکٹ کا ذریعہ نکالا اور ریجیکٹ کر دیا۔

کل جو فیملی آئی، انہوں نے سب کچھ ٹھیک قرار دیا، بس آخر میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ لڑکی کی عمر زیادہ ہو گئی ہے، اور پھر احسان جتاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ زیادہ مجبور ہیں تو ہم اپنا اڑتالیس سالہ بیٹا، جس کی اپنی دکان ہے، اس کے لیے منتہیٰ قبول کر لیتے ہیں، یہ سنتے ہی منتہیٰ کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بس اتنا کہہ سکی کہ آپ بھی تو ماں ہیں، کوئی ماں غیروں کے سامنے یہ الفاظ کیسے سن سکتی ہے؟

اس رات منتہیٰ سارا دن ماں کے سینے سے لگی روتی رہی، کہتی رہی کہ ان لوگوں کے معیار تک پہنچتے پہنچتے میری عمر زیادہ ہو گئی ہے،اور پھر نہ جانے کب اس نے دنیا کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا، وہ کہتی تھی کہ میرا منحوس سایا میری چھوٹی بہن کو بھی اسی دہلیز پر بوڑھا کر دے گا،اسی دوران اطلاع آئی کہ منتہیٰ کو ہوش آ گیا ہے، ماں دوڑتی ہوئی وارڈ میں پہنچی، منتہیٰ نے پہلے ماں کو سینے سے لگایا، پھر باپ کے گلے لگ کر سسکتے ہوئے کہا، پاپا بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں نا؟ آپ نے مجھے کیوں بچایا؟ مجھے مرنے دیتے، میرا منحوس سایا اس گھر سے نکل جاتا تو گڑیا کی شادی ہو جاتی، باپ خاموشی سے آنسو بہاتا رہا، حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر میں نے منتہیٰ کو سکون آور انجیکشن دیا اور والدین کو آفس لے آئی۔وہیں میں نے ایک فیصلہ کیا،میں نے منتہیٰ اور اس کی چھوٹی بہن کو اپنے دونوں بھائیوں کے لیے مانگ لیا، میرے دونوں بھائی ڈاکٹر ہیں، میں نے انہیں اپنا فیصلہ سنایا، اور انہوں نے فوراً قبول کر لیا، منتہیٰ کے والدین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر اس بار یہ آنسو خوشی کے تھے، آخر میں، میں ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں، آپ شادی عورت سے کر رہے ہوتے ہیں، حور سے نہیں، خدارا کسی کی بیٹی کو ریجیکٹ کرنے سے پہلے اسے اپنی بیٹی سمجھ کر سوچیے،اگر عیب کی بنیاد پر فیصلے ہوں تو لڑکیوں سے دوگنی تعداد میں لڑکے ریجیکٹ ہونے چاہئیں،مجھ سے دنیا کے کسی بھی پلاٹ فارم پر مجھ سے کوئی بھی بندہ بحث کرلے،میں ثابت کردوں گی مرد میں عیب عورت سے زیادہ ہوتے ہیں، آپ اللہ کی مخلوق کے عیبوں پر پردہ ڈالیں، اللہ آپ کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا، یاد رکھیے، آپ کا ایک بے رحم انکار کسی کو زندہ قبر تک پہنچا سکتا ہے۔

*اب میں پوچھنا چاہوں گا ہر اُس باپ سے جسے اللہ نے بیٹی کی نعمت عطا فرمائی ہے*کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس لڑکی کو آپ ایک نظر میں پرکھ کر ردّ کر دیتے ہیں، اگر وہ آپ کی اپنی بیٹی ہوتی تو کیا آپ کا فیصلہ بھی یہی ہوتا؟کیا آپ کو یاد ہے وہ دن جب آپ نے اپنی بیٹی کو پہلی بار گود میں اٹھایا تھا؟کیا اس دن آپ نے یہ سوچا تھا کہ ایک دن کوئی اجنبی آئے گا، اسے چائے پکڑنے کے انداز پر تولے گا، اور چند لمحوں میں اس کی پوری ذات کو ناموزوں قرار دے دے گا؟کیا بیٹی کا قد، رنگ، عمر، آواز یا خاموشی واقعی اتنی بڑی چیز ہے کہ اس کی تعلیم، اس کا کردار، اس کی شرافت اور اس کی نیت سب پیچھے رہ جائیں؟کیا آپ اپنی بیٹی کے لیے یہ گوارا کریں گے کہ کوئی اسے کم خدمت گزار کہہ کر ردّ کر دے؟یا یہ کہہ دے کہ اس پر جنات کا سایہ ہے؟یا عمر کا طعنہ دے کر احسان جتائے؟کیا آپ یہ سن سکتے ہیں کہ کوئی آپ کی بیٹی سے کہے: اگر تم بہت مجبور ہو تو ہم تمہیں اپنے باپ کی عمر کے آدمی کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں؟سوچیے،کیا یہ فیصلے رشتے ہیں یا تذلیل کے سرٹیفکیٹ؟کیا ہمیں واقعی ایسی بہو چاہیے جو انسان نہ ہو، بلکہ ایک مکمل، بے عیب مجسمہ ہو؟کیا شادی انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی؟اور اگر عیب ہی معیار ہے،تو کیا ہم نے کبھی اپنے بیٹوں کے عیبوں کو اسی ترازو میں تولا ہے؟ان کے اخلاق، مزاج، غیرت، ذمہ داری اور نیت کو بھی اسی باریکی سے دیکھا ہے؟کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہمارے ایک انکار کے بعد کسی گھر میں کیا گزرتی ہے؟کسی ماں کے دل پر کیا بیتی ہے؟اور کسی بیٹی کے ذہن میں کون سے سوال جنم لیتے ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ یہی سوال، یہی جملے، یہی ریجیکشن کئی لڑکیوں کو جینے سے زیادہ مرنا آسان بنا دئیے ہیں؟یاد رکھو، رشتے اللہ ربّ العزت بناتا ہے، تم نہیں،تم کسی کی بیٹی کو ردّ کر سکتے ہو، مگر اس کے نصیب کا فیصلہ نہیں کر سکتے،جسے اللہ نے کسی کے لیے لکھ دیا ہو، وہ تمہارے معیار، انا اور بہانوں سے نہیں ٹوٹتا،اور جسے اس نے نہ لکھا ہو، اسے تمہاری ہزار ہاں بھی نہیں جوڑ سکتیں،اس لیے رشتے دیکھتے وقت خود کو خدا مت سمجھوکسی کی بیٹی کے نصیب پر انگلی مت اٹھاؤ،کیونکہ نصیب لکھنے والے تم نہیں،عیب ڈھونڈنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ اللہ نے تمہارے عیبوں پر پردہ کیوں ڈال رکھا ہے،رشتہ قبول کرنا تمہارا حق ہے،مگر کسی کی عزت توڑنا گناہ ہے،یاد رکھو،کسی ماں کی آہ عرش تک پہنچنے میں دیر نہیں لگاتی۔

اللہ کریم امت مسلمہ کو ہمیشہ شاد و باد رکھے،اسلام کو سمجھنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*