ملحد جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی صاحب کا مناظرہ ہوا دنیا نے دیکھا اور اہل اسلام کو اللہ نے جو شاندار فتح نصیب فرمائی پچھلے 100..150 سالوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی کے شاگرد حضرت مفتی شمائل ندوی نے جس ہمت اور تیز انگریزی اور اردو کی مکس زبان کے ذریعے خدا کے منکروں کے ہوش اڑائے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں
اور یہ کوئی پہلی مرتبہ بھی نہیں ہوا علامہ کشمیری رحمہ اللہ ہو یا حضرت مولانا قاسم نانوتوی یا پھر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ان لوگوں نے بھی اس فتنے کو ابھرنے نہیں دیا تھا۔
حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کو جہاں بھی یہ پتہ لگتا کہ فلاں جگہ کوئی مسلمانوں کو بہکانے کی کوشش کر رہا ہے تو وہیں پہنچ جاتے تھے اور اسے پوری طرح ایکسپوز کر دیتے تھے۔
آریہ سماج کے فاؤنڈر سوامی دیانند سرسوتی کو کئی بار مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے پٹخنی دی۔
اور مفتی شمائل ندوی صاحب یا مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب نے جو یہ ملحدوں کو ننگا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے یہ انہیں حضرات کی لکھی کتابوں کے مطالعے کا نتیجہ ہے اشرف الجوابات ہو یا حجۃ الاسلام، حجۃ البالغہ اور دوسری کتابیں۔
یہ منطق اور فلسفہ انہیں کتابوں سے آیا ہے
ہمارے اسلاف کتنے دور اندیشی تھے کہ آنے والے وقت جو پہلے ہی بھانپ گئے تھے کہ یہ سائنٹیزم اور ایتھیزم ضرور آنے والے وقت میں مسلم نوجوانوں کو بہکائیں گے۔
کیونکہ بظاہر بڑا رنگین اور منطقی فلسفہ ہے سائنس۔
خیر چونکہ اللہ کو دین اسلام قیامت تک باقی رکھنا ہے اس لیے اللہ ہر زمانے میں ایسے لوگ بھیجتا ہے جو اس کی زمانے کی زبان میں اور اسی زمانے کے ہتھیاروں سے اسلام کا دفاع کرتے ہے جیسے انبیاء علیہم السلام جس قوم میں مبعوث ہوتے اسی کی زبان میں دعوت دیتے
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے