مطالعہ کا انتخاب - ایمان کی حفاظت یا وقت کا زیاں؟
مضمون (62)بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کا انسان مطالعہ تو بہت کرتا ہے، مگرسوال یہ ہے کہ کیا وہ صحیح پڑھ رہا ہے؟دورِ حاضر میں تحریر کی کثرت ہے، کتابیں بے شمار ہیں، مگر ہر تحریر قاری کو نفع نہیں دیتی۔ بعض تحریریں اخلاق کو مجروح کرتی ہیں، بعض گناہ
کوخوبصورت بنا کر پیش کرتی ہیں، اور بعض ایسی ہوتی ہیں جو نہ علم میں اضافہ کرتی ہیں، نہ فکر میں وسعت-صرف وقت کا خاموش زیاں بن جاتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اس سیلاب میں وہ لوگ بھی بہہ جاتے ہیں جو خود کو مہذب، باشعور اور دین دار سمجھتے ہیں۔؛ 
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بڑی تعداد میں لوگ ایسی تحریریں پڑھنے میں مشغول ہیں جن میں یا تو قصہ کہانی کے سوا کچھ نہیں، یا ایسا مواد ہے جس کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہے، نہ آخرت میں کوئی وزن۔ کچھ تحریریں وقتی جذبات کو ضرور ابھارتی ہیں، مگر علم کی بنیاد نہیں بنتیں، شعور کو جِلا نہیں دیتیں۔
اس کے باوجود، اگر کوئی عام قاری مختلف النوع تحریریں پڑھتا ہے اور اس کے علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہو رہا ہے، تو وہ یقیناً خوش نصیب ہے۔ ایسی صورت میں ہر قاری کو چاہیے کہ وہ جس مصنف، مؤلف یا مضمون نگار سے استفادہ کرے، اس کا شکر گزار ہو اور اسے اپنی دعاؤں میں یاد رکھے-کیونکہ علم بانٹنا صدقۂ جاریہ ہے۔
لیکن!
اگر آپ محض عام قاری نہیں، بلکہ ایک باشعور، سنجیدہ اور صاحبِ فکر انسان ہیں
اگر آپ خود کو ہر کس و ناکس میں شمار نہیں کرتے
تو پھر محض تفریحی، سطحی یا غیر مؤثر مطالعہ آپ کے شایانِ شان نہیں۔
ایسے اہلِ فکر افراد کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں وہ تحریریں اور کتابیں اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں جو:ایمان کو مضبوط کرے. عقیدۂ اسلام کو استحکام بخشے. اٹھتے ہوئے فکری سوالات کا مدلل جواب فراہم کرے. اور ایسے نکات و دلائل مہیا کرے جن کی روشنی میں آپ ہر گرد آلود میدان میں حق کی ترجمانی کر سکیں
یا--کم از کم اتناضرور ہو کہ انسان اپنےاردگرد کے معاشرے اور سماج میں صحیح رہنمائی کر سکے، اور اپنے عمل و علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب بن سکے۔
کیونکہ یاد رکھیے!
کل یہ سوال صرف دوسروں سے نہیں، ہم سے بھی پوچھا جائے گا: تم کہاں تھے جب ایمان و اسلام پر حملے ہو رہے تھے؟تم خاموش کیوں رہے جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف زہریلی تحریریں لکھی جا رہی تھیں؟. تم نے اپنے قلم، اپنے مطالعے اور اپنے شعور کا مصرف کیوں نہیں پہچانا؟ آج ایمان و اسلام کے خلاف تحریروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہم اس کا صحیح اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ ایسے میں خاموش رہنا، غیر سنجیدہ مطالعے میں وقت گنوانا، دراصل اپنی ذمہ داری سے فرار ہے۔
اللہ کرے یہ بات ہمارے دل و دماغ تک اتر جائے، اور ہمارا مطالعہ محض مشغلہ نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بن جائے۔
آمین۔یا رب العالمین
   بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com