🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

وہ عورت جو ہر صبح آئینہ دیکھ کر اپنے آنسو چھپا لیتی ہے، تاکہ کوئی پوچھ نہ لے کہ رات کیوں بھیگی تھی۔
وہ عورت جو سب سے منہ موڑ لیتی ہے کہ کوئی یہ نا پوچھ لے رات تمہارے
کمرے سے سسکیوں کی آواز کیوں آرہی تھی ؟ 
 وہ عورت جو اپنے چہرے کے زخم کو چھپانے کیلئے اپنے دوپٹے کو پھیلا لیتی ہے کہ اسکے بچے یہ نہ پوچھ لیں کہ امی یہ چہرے پر نشان کیسا ہے ؟ 

وہ ہنستی ہے اس لیے نہیں کہ خوش ہے بلکہ اس لیے کہ اس کی خاموشی ہی اس کی ڈھال ہے۔
اگر بول دی تو “بدتمیز”، “ناشکری”اور “گھر توڑنے والی” کہلائے گی۔

وہ عورت جب چیخنا چاہتی ہے تو آواز گھٹ کر رہ جاتی ہے،اس کے الفاظ
دیواروں سے ٹکرا کر وہیں دم توڑ دیتے ہیں۔

اور دیواریں وہ سب سن لیتی ہیں، مگر کچھ کہہ نہیں سکتیں۔
اس کے بدن پر زخم ہیں، اور روح پر اس سے بھی گہرے۔
وہ ہر وار کے ساتھ صرف جسم نہیں، اپنی ہمت، اپنا خواب، اور اپنا وجود بھی
کھو دیتی ہے۔

وہ ماں ہے جو اپنے بچوں کے سامنے اپنا درد پی جاتی ہے
کہ کہیں بچے یہ نہ سمجھ لیں کہ ماں کمزور ہے۔

"وہ بیوی ہے جو ہر ظلم کو “شاید میری ہی غلطی ہو
کہہ کر خود پر ڈال لیتی ہے۔
رات کے سناٹے میں وہ سجدے میں گر کر روتی ہے،اور کہتی ہے
“یا اللہ"
میں انسانوں سے نہیں، اب صرف تجھ سے فریاد کرتی ہوں۔

مگر المیہ یہ ہے کہ جس خدا نے اسے عزت دی
اور اب اسے ذلیل کیا جا رہا ہے۔
غیرت کے نعرے لگتے ہیں، مگر غیرت صرف عورت کی زبان بند کرنے کے لیے ہوتی ہے
ظالم کے ہاتھ روکنے کے لیے نہیں۔
وہ مر تو نہیں جاتی، مگر ہر دن تھوڑی تھوڑی مر جاتی ہے۔
اس کی سانسیں چلتی ہیں، مگر زندگی کہیں اور ہوتی ہے۔

اور ہم؟
"ہم کہتے ہیں:  “یہ تو ان کا ذاتی مسئلہ ہے
اور یوں ہم اس کے خون میں خاموشی سے شریک ہو جاتے ہیں۔
آج اگر وہ عورت بولے تو اسے قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے
اور اگر خاموش رہے تو اسے بھلا دیا جاتا ہے۔

بتائیے
وہ جائے تو جائے کہاں؟
یہ تحریر صرف ایک عورت کی نہیں بلکہ میرے اور آپ کے معاشرے کی لاکھوں
بہن، بیٹیوں، ماؤں کا درد ہے

جسے سننے والا کوئی نہیں 
جسے پڑھنے والا کوئی نہیں 
 جس سے پوچھنے والا کوئی نہیں 
جس کے درد پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں 
جس کیلئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں 

ایک لرزتا ہوا سوال ہے
کیا عورت صرف سہنے کے لیے ہے؟
کیا اس کا درد واقعی نظر انداز کرنے کے قابل ہے؟

یاد رکھو!
جس دن اس عورت کی فریاد دیواروں سے نکل کر ضمیر تک پہنچ گئی،
اس دن بہت سے
محفوظ سمجھے جانے والے گھر اپنے اصل چہرے کے ساتھ بے نقاب ہو جائیں گے۔