بسم الله الرحمن الرحيم ✨ 


تحریکِ کتب بینی

(Book Reading Movement

میں مفتی تقی عثمانی (دامت برکاتہم العالیہ) کی کتاب"  دنیا میرے اگے" کا مطالعہ کر رہی تھی ، اس میں ایک عبارت پڑھی؛ وہ لکھتے ہیں : قرطبہ کے کتب خانے دنیا بھر میں ضرب المثل تھے۔ علم و ادب کے ذوق اور اس کے ہمہ گیر چرچے کا عالم یہ تھا کہ کوئی گھر ایک اچھے کتب خانے سے خالی نہیں ہوتا تھا جو لوگ طبعی طور پر کتابوں کا ذوق نہ رکھتے ہوں انہیں معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ 
اس سلسلے میں مقری نے ایک حضرمی شخص کا ایک دلچسپ واقعہ اس کے الفاظ میں نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ - 
 مجھے ایک نادر کتاب کی ضرورت تھی ، میں اس کی تلاش میں قرطبہ آیا ، اور کتابوں کے سارے بازار چھان لئے ۔ بالآخر ایک جگہ کتابوں کا نیلام ہو رہا تھا ، وہاں مجھے وہ کتاب مل گئی جس کی مجھے ضرورت تھی ، میں اسے دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑا، اور اسے حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ بولی لگانی شروع کردی۔ لیکن جونہی میں کوئی بولی لگاتا ، ایک دوسرا شخص اس سے آگے بڑھ کر بولی لگا دیتا۔ ہوتے ہوتے اس شخص نے اتنی قیمت کی بولی لگادی کہ وہ حد سے زیادہ تھی۔ میں نے نیلام کرنے والے سے کہا کہ ذرا مجھے اس شخص سے ملاؤ جو یہ حد سے زیادہ بولی لگا رہا ہے۔ اس نے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو اپنے لباس سے کوئی رئیس معلوم ہوتا تھا۔ میں نے اس سے جا کر کہا کہ آپ کوئی بڑے فقیہ معلوم ہوتے ہیں، اللہ تعالی آپ کی عزت میں اضافہ کرے ، اگر واقعتا آپ کو اس کتاب کی ضرورت ہے تو میں آپ کے حق میں دستبردار ہو جاتا ہوں ۔
اس شخص نے جواب دیا " میں کوئی فقیہ نہیں ہوں ، بلکہ مجھے یہ بھی پتا نہیں کہ اس کتاب میں کیا ہے ؟ لیکن میں نے بڑی محنت سے اپنے گھر میں ایک کتب خانہ بنایا ہے جو شہر کے شرفاء میں کوئی مقام پاسکے۔ ایک الماری میں تھوڑی سی جگہ خالی ہے جس میں یہ کتاب سما سکتی ہے۔ اس کتاب کی جلد بھی بہت خوب صورت ہے، اور تحریر بھی بہت حسین ہے، اس لئے میں اس جگہ کو پر کرنے کے لئے یہ کتاب خریدنا چاہتا ہوں ۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ بادام اس شخص کو مل رہا ہے جس کے مونھ میں دانت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" 
        یہ واقعہ اس دور کے لوگوں کے شوق علم نیز حُب کتب کی بخوبی عکاسی کرتا ہے ۔ 
    اس کو پڑھنے کے بعد مجھے بڑا تعجب ہوا اور خوشی بھی ہوئی کہ واقعی اس دور کے مسلمانوں کا علمی و ادبی ذوق کس قدر بلند تھا۔ سیاسی میدان ہو یا سائنسی ہر میدان میں ان کو فوقیت حاصل تھی۔ یقیناً یہی وجہ رہی کہ انہوں نے کئی سو سالوں تک دنیا پر حکومت کی۔ 
        آج ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کتابوں کو پس پشت ڈال دیا اور اس کی جگہ لایعني چیزوں اور انٹرنیٹ کو دے دیا ، جس کے نتیجے میں ہم علمی و سیاسی زوال کے علاوہ متعدد برائیوں کا شکار ہوئے۔ جن میں صرف بعض اہم برائیوں کی طرف ہم اشارہ کرنا چاہیں گے : 
(۱) گمراہی نیز صلاحیت کا زیاں : ہم نے بجائے خود  آئڈیل بننے 
                                                      کے غیروں کی اقتدا شروع کر دی، بجائے کسی چیز کی کتابوں سے خود تحقیق کرنے کے انٹرنیٹ پر ایسے لوگوں سے علم حاصل کرنا شروع کر دیا جن کو خود صحیح معلومات نہیں ہوتیں۔آج ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو علمی لیاقت کے باوجود خود تحقیق نہ کرنے اور غیروں کو( خصوصا ملحدین ومرتدین )کو سننے کی وجہ سے ارتداد و گمراہی کا شکار ہو رہی ہے۔

(۲) بچوں پر غلط تاثر : ہمارے معاشرے کا بچہ بچہ انٹرنیٹ 
                                            ،کی لعنت میں مبتلا ہے اس کا اثر ان پر پوری طرح نمایاں ہوتا ہے۔ ناچتے ہوئے چلنا ،گانے گانا، ان میں عام بیماری بن چکی ہے، والدین بجائے اصلاح کے مزید خوش ہوتے اور تالیاں بجاتے ہیں ۔ افسوس ہے ! ہمارے معاشرے پر۔

(۳) وقت کا ضیاع : وقت کو ضائع کرنا، عام معمول بن چکا      
                                     ہے۔ نیٹ پر گھنٹوں اپنے وقت کو برباد کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کا اغاز مستحبات (اسلامی بیانات و تقاریر) سے ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ جواز، پھر مکروہات اور پھر اس سے آگے بڑھ کر محرمات تک پہنچ جاتا ہے ۔ 

(۴) غیبت : خواہ فون پر بات ہو رہی ہو یا یوں ہی دو چار لوگ /        
                    خواتین اکٹھا ہوں تو اصلاحی باتوں ، خاندان و سماج کی تہذیب و تادیب اور فتن کا سد باب کرنے کی تدبیر کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی غیبت کرنی شروع کر دیتے ہیں جو کہ ایک عظیم گناہ ہے ۔ مگر لوگوں نے تو اسکو گناہ سمجھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ 

        ان تمام برائیوں کا بہتر طور پر سدباب اگر کسی چیز کے ذریعے ہو سکتا ہے تو وہ ہے لوگوں میں مطالعاتی ذوق کا پیدا ہونا/کرنا ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عام بیانات و اجلاس میں عوام الناس کو اور اپنی گفتگو میں بھی اپنے دوست و احباب کو مطالعے کی ترغیب دیں۔ جب ایک بار انسان کو مطالعہ / کتب بینی کا ذوق لگ جائے گا تو وہ انٹرنیٹ کی وبا اور مذکورہ تمام برائیوں سے خود بخود بچ جائے گا ۔ اگر گھر کے تمام افراد پڑھے لکھے نہ ہوں تو ایک وقت مقرر کر لیا جائے جس میں گھر کے تمام افراد جمع ہوں اور پڑھے لکھے افراد میں سے کوئی ایک فرد کسی اچھی کتاب کا انتخاب کر کے اس کو پڑھ کر سب کو سنائے ۔ 

        ترغیب دینے کے علاوہ ہم ایک کام اور کر سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کو تحائف میں بجائے دنیاوی اشیاء دینے کے، کتابیں دیں۔ اس کا بہترین مقام شادیوں کے مواقع پر ہوتا ہے جبکہ اس موقع پر نہایت ہی قیمتی و گراں قدر اشیاء ہدیہ کی جاتی ہیں؛ اگر بچائے اس کے، مفید و مؤثر کتب ہدیہ کرنے کا معمول ہو جائے(رواج سمجھ کر نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کی غرض سے ) تو یقینا ہمارا معاشرہ ترقی کی راہوں کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ اگر ہر فرد اس موقع پر ایک کتاب یا کتب کا ایک سیٹ ہدیہ کرے تو بھی ایک لائبریری باسانی قائم ہو سکتی ہے۔ اس طرح ہر گھر میں لائبریری کا قیام عمل میں آ سکتا ہے ؛ جہاں بسہولت ہر فرد خصوصا خواتین مطالعہ کر سکتی ہیں۔ اس سے ان کی آنے والی نسلوں پر بھی ان شاءاللہ بہترین اثر مرتب ہوگا، کیونکہ جب مائیں خود مطالعہ و کتب بینی کی شوقین ہوں گی تو ظاہر ہے وہ اپنے بچوں کو بھی اس کی ترغیب دیں گی۔ اس کے لیے بہتر ہے کہ پہلے اسلامی قصص اور چھوٹے چھو ٹے کتابچوں سے آغاز کیا جائے اور پھر آہستہ آہستہ  ان کی ذہنیت کے اعتبار سے ان کی کتب کا لیول (معیار) بڑھایا جائے۔ اس طرح بچپن سے ان کے اندر مطالعہ کا ذوق پیدا ہو جائے گا ۔ 
 
         اس تعلق سے میں اپنی معلمہ کا ایک قول نقل کرنا چاہوں گی ،جو سنتے ہی میرے دل میں اتر گیا تھا۔ ایک مرتبہ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : 
" آج مسلمان پٹ رہے ہیں کیونکہ ان کو پتا ہی نہیں ہے، ان کی عقل کام ہی نہیں کرتی کہ مہنگے کپڑوں میں پیسے خرچ کیے جائیں یا نایاب اور مہنگی کتابیں خریدنے میں۔ " 
                                        (محترمہ امنہ رضوان صاحبہ، نائبۂ ناظمہ جامعۃ المومنات الاسلامیہ لکھنو۔) 
   اب آپکو اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں اپنے پیسے کہاں خرچ کرنے ہیں۔ 

        اس سلسلے میں یہ عذر بیان کیا جا سکتا ہے کہ بجائے کتابیں خریدنے اور لائبریری بنانے کے نیٹ پر بھی کتابیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ اُسکا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ نیٹ پر دستیاب کتب کے فوائد اپنی جگہ مسلم ہیں مگر اس میں دو خرابیاں ہیں : 
 (۱) انٹرنیٹ کی  لایعني چیزوں کو چھوڑ کر لوگ کتابیں ڈاؤن لوڈ کرنے اور ان کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے ۔یہی وجہ ہے کہ نیٹ پر لاکھوں کتب دستیاب ہونے کے باوجود ان سے مکمل استفادہ کرنے والے چند حضرات ہی ہوتے ہیں۔
(۲) دوسری بات نیٹ پر کتابیں پڑھنے کی صورت میں ڈائیورشن(divertion ) کا بہت خطرہ ہوتا ہے مثلا کال یا ایس ایم ایس کا جواب دینا ، جس میں گھنٹوں ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف ہارڈ کاپی میں پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے اور جب کوئی چیز توجہ کے ساتھ پڑھی جائے تبھی وہ نقش ہوتی ہے اور اس کے اسرار و رموز کھلتے ہیں اور اس کا عمدہ اثر مرتب ہوتا ہے۔

            مجھے معلوم ہے آج کے دور میں یہ کام بہت مشقت خیز اور معاشرے کی عداوت مول لینے کے برابر  ہے مگر ناممکن نہیں ۔ جس طرح نظام تعلیم میں تبدیلی( یعنی تعلیم کا قبلہ درست کرنا کہ تعلیم خدا کا باغی نہ بنائے بلکہ خدا کا معترف بنائے) کی تحریک کچھ حد تک کامیاب ہو رہی ہے اور مسلمانوں میں اس تعلق سے بیداری پیدا ہو رہی ہے اور وہ اس پر کام بھی کے رہے ہیں ، اسی طرح اگر کتب بینی کی تحریک سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے اور اس پر بھی عمل کر لیا جائے تو ان شاءاللہ یہ نورعلیٰ نور ہوگا اور مجھے رحمت باری تعالی سے پوری امید ہے کہ پھر وہ دور دور نہیں ہوگا جب اسلام اور اہل اسلام کی قیادت ہوگی ، وہ ہر میدان میں آگے ہونگے اور انکا ہی ڈنکا بجیگا۔ 

 انسان کو بناتا ہے اکمل مطالعہ
 ہے چشم دل کے واسطے کاجل مطالعہ 
دنیا کے ہر ہنر سے ہے افضل مطالعہ
 کرتا ہے آدمی کو مکمل مطالعہ
اسعد مطالعہ میں گزارو تمام عمر
 ہےعلم و فضل کے لیے مشعل مطالعہ 
                     
                (حضرت مولانا اسعد اللہ مظاہری رحمہ اللہ


قارئین سے گزارش ہے کہ اسے محض ایک مضمون سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ بیدار مغزی کے ساتھ اپنی اور پوری امت کی اصلاح کی نیت سے ایک تحریک سمجھ کر پڑھیں اور اپنے متعلقین و احباب کو بھی اس سے باخبر کریں۔جزاکم اللہ خیرا ۔ 



🤲ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم