آزادی نسواں اور مغرب پسند مسلم
🩵راقم۔ ـــریاض بگٹی
اسلام نے عورت کو جو مقام و عزت دی جو حقوق دئیے جو آزادی دی جس انداز میں حقوق نسواں کی تحفظ پیش کی وہ کہیں اور نظر نہیں آتا لیکن اسلام کے اس تحفظ و آزادی اور عزت و عظمت کو مغرب ہضم نہ کرسکا ،
اس نے عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکالنے کی تحریک چلائ،اور آزادی کی نعرہ لگائ ،اولا تو یہ نعرہ ان کو بہت عمدہ اور اچھا لگا لیکن جب اس نعرے کے تحت یورپ کی عورتیں گھر کی چار دیواری سے نکل کر بازار اور شاہراہ عام کی رونق بن گئ،ایک مرد کی ملکیت سے اپنے آپ کو آزادی دلا کر سینکڑوں کی ہوس کی مطمع نظر بن گئ،گھر کا سکون چھوڑ کر بازار میں سکون تلاش کرنے نکلی ،گھر کے برتن چھوڑ کر ہوٹل کے ٹیبل صاف کرنے لگی،شوہر کی بات گراں گزرتی تھی اب سٹیشن پے لاکھوں لوگوں کے سخت لہجے اور روئیے سہنے لگی,کیوں نہ سہے کیوں کہ یہ تو ان کو آزادی ملی ،اسی کےلئے تو تحریکیں چلی تھی ،
یہ تو آزادی کا نتیجہ ہے کہ خاندانی نظام تباہ ہوگیا ،شادی کے جگہ ریلیشن شپ عام ہوگئ ،بھائ بہن کا رشتہ ختم ہوا،
جب یورپ نے دیکھا کہ اب بگڑا ہوا معاشرہ درست کرنا تو بہت مشکل ہے اب "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے "کہ تحت مسلم سوسائٹی کو بھی آگے بڑھنے نہیں دینا،
پھر اسلام کے تحفظات پر ہاتھ ڈالا ،گھر کے تحفظ کو قید و بند کرکے پیش کیا ،شادی کو عورت کے لئے مرد کے برابر حقوق کے خلاف قرار دے دیا ،پھر مسلم ممالک میں بھی اس بدبودار نعرے کو عام کیا کہ"اس قید سے نکلو ،گھر کی چار دیواری کے باہر بھی ایک دنیا آپ محترمہ کی منتظر ہے،
مسلم معاشرے کے اندر اس نعرے کو عام کرنے
کے لئے ان مغرب پرست اور مغرب پسندوں کو چن لیا ،جنہوں نے نصوص کی من گھڑت تشریح و تفسیر کی ،اور یورپ کو حق قرار دے کر کہا کہ اسلام تو اس طرح کے نظام کے لئے خواہاں ہے جس طرح یورپ ہے ،ان مولویوں کی باتوں میں نے آو!!!
وہی لباس اختیار کرو جو یورپ میں رائج ہے ،یہ پردہ تو ملاؤں کا ایجاد کیا ہوا ہے،
اس میں اسکالر قاسم امین کا کردار نمایاں ہے جس نے
،1912ء میں "تحریرۃ المرأۃ"کے نام پر ایک کتاب لکھی کچھ مدت بعد "المرأۃ الجدیدۃ"کے نام سے اس کی دوسری تصنیف منظر عام پر آئی،
ان کتابوں میں اس نے لکھا کہ جو پردہ مسلم سوسائٹی میں رائج ہے اس کا اسلام سے کچھ تعلق نہیں ،ایک اور جگہ پر اپنی خباثت کو ظاہر کرتے ہوے لکھا کہ مجھے کسی نص قرآنی سے پردے کے متعلق کوئی آیت نہیں ملی،اس موصوف کے علاوہ میرا جسم میری مرضی کے نعرہ لگانے والی ھدا شعروای بھی تھی،جنہوں نے پردے کو کیچڑ میں مسل کر اعلان کیا کہ آج کے بعد کوئ حجاب نہیں ،تم حجاب سے آزاد ہوے ،
اس کے بعد متعدد ایسے پروگرام منعقد ہوئے جس میں عورت کی آزادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ،اور حجاب کے بے حرمتی کی گئی
پھر 1934ءمیں آخر کار مسلم ممالک میں اسمبلی کے فلور تک عورتوں کو لانے میں جو کردار ادا کیا ،اس میں مغربیت سے مرغوب اور سیکولرزم اور دیسی لبرلزم کے رہنما مصطفی کمال اتاترک نام تھا ،
وہ شام جس میں دریائے نیل کے لہریں بھی شرمندہ ہوئیں جب فرنگی ماحول میں پلنے والیوں نے حجاب کو کیچڑ میں رگڑ ڈالا !!!
آج یہ نعرہ وطن عزیز پاکستان میں بھی عام ہوتا ہوا نظر آتا ہے میرا جسم میری مرضی کے گیت گانے والیاں سرعام روڈوں پر بہودہ بینرز اور سلوگنز۔ لیکر اسلام کے تحفظات پر انگلیاں اٹھاتی ہیں ،اور یہ دعوئ کرتی ہیں کہ عورت گھر میں رہ کر کچھ نہیں کرسکتی ،اس کو مردوں کے برابر حقوق دئیے جائیں ،
میں ان کے جواب میں صرف یہی لکھوں گا کہ "عورت گھر میں رہ کر جو کچھ کرسکتی ہے شائد وہ باہر رہ کر یہ خدمت سر انجام نہیں دے سکتی،اس کی زندہ و جاویدہ مثال حضرت امی جان امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا ہیں ،
کہ گھر کی چار دیواری میں رہ کر امت کی جو خدمت کی شائد وہ کسی اور عورت سے نہیں ہوسکتی تھی،
میں ان سے صرف یہی پوچھنا چاہتا ہوں کہ
امام بخاری کو تربیت دینے والے کون تھے،امام شافعی کو امامیت کے درجہ میں پہنچانے والے کون تھے،امام احمد بن حنبل کو صدیاں گزرنے کے بعد بھی یاد کرنے کی وجہ کیا ہے،حافظ ابن حجر کی پرورش کرنے والے کون تھے،
سبھی کے جواب میں عورت ہی جو کبھی ماں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے تو کبھی بہن کی صورت میں ،
آخر میں صرف یہی کہوں گا کہ عورت اولاد کی لئے سانچےاور قالب کے مانند ہیں ،وہ سانچہ اور قالب جیسے ہوگا ویسے ہی چیز وجود میں آے گی ،ایسے ہی جیسی عورت ہوگی ویسے ہی بچے معاشرے کو فراہم کئے جائیں گے ،اگر ماں تیمیہ ہو تو بیٹا مفسر نظر آئےگا ،لیکن اگر ماں نیم برہنہ ہوکر سڑکوں پر میرا جسم میری مرضی کی نعرے لگانے والی ہو، تو اس سے صلاح الدین ایوبی ،طارق بن زیاد ،اور محمد بن قاسم کی توقع نہ رکھی جائے ،اس سے اپنی ہی جیسے تین چار اور وجود میں آئیں گے،
کاش کے امت مسلمہ کی شہزادیاں یہ سمجھ لیتی کہ ہماری آئیڈیل یورپ کی لڑکیاں نہیں ،یہ لبرلزم ہماری خیر خواہ نہیں ،ہماری آئیڈیل تو سیدۃ النساء اہل جنۃ فاطمہ الزہراء ہیں ،تو آج یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ امت کی شہزادیوں کو امی جان امی عائشہ صدیقہ کے عفت و پاکدامنی ،فاطمہ الزہراء کی حیاء ،اور سمیہ کی دین پر ثابت قدمی عطاء فرمائیں