آج کیوں خاموش ہے محفل میں وہ محفل گداز

جس کی جرأت پر ہے حیراں یہ جہانِ کار ساز


باعثِ حیرت ہے رندانِ حرم کی سادگی

گردشِ مینا کرے پیدا دلوں میں سوز و ساز


ہو رہا ہے دہر میں جو کچھ ہو اس پر بھی نظر

اے گرفتارِ نگاہِ نرگسِ گیسو دراز


بچۂ شاہیں کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ

رزم گاہِ زیست میں اترے بشکلِ شاہباز


کون ہے پابندِ دستورِ کہن اب ساقیا !

کس کو حاصل ہے نظامِ نو میں آئینی جواز


وہ نظامِ حکمراں جمہوریت کی موت ہے

جس سے ظاہر ہو جہانِ رنگ و بو میں امتیاز


ہے وہی اس دور میں شیخ و برہمن کا امام

جس کی قومیت رہے ملک و وطن سے بے نیاز


یہ جہانِ نو کی خوش بختی ہے کہ اس دور میں

کوئی ابراہم نہیں ، کوئی نہیں رشکِ ایاز


ہے یہی اسلامیانِ ہند کے دکھ کا علاج

حرمتِ ملت چڑھائے بت پہ از راہِ نیاز


آدمیت ہے جہاں میں سر بہ زیر و سرنگوں

کیا خوشی ہو مجھ کو گر ہو نوعِ آدم سر فراز


سلطنت اس کی ہے جو ہر چیز سے ہے ماورا

جس کے ہونے پر ہے شاہد ہر حقیقت ہر مجاز


جس کی آمد سے تہ و بالا ہوا عالم تمام

کر گیا مجھ کو جنوں سے آشنا وہ نغمہ ساز


آرزو میری نظر کو اس حسیں وادی کی ہے

جس کے دامن میں کہیں آباد ہے نجد و حجاز


آبروئے ملتِ آدم کا ہے وہ پاسباں

محرمِ انسانیت ہے شاہئ بندہ نواز