یہ مشہور سوال ہیکہ پہلے انسانیت یا مذہب ؟                                
بہت سے لوگوں کو مذہب پہ اعتراض ہوتاہے کہ سب بڑا مذہب انسانیت ہے۔
 یہ سوال وہ لوگ کرتے ہیں جو مذہب بیزار ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو مذہب کی زنجیروں اور اس کی بیڑیوں سےآزاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں 

اسکا جواب ملاحظہ فرمالیں!

 انساینت کوٸی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مذہب کا ایک کا جز ہے ،مذہب اصل ہے انسانیت اسکی فرع ہے،کوٸی مذہب ایسانہیں کہ جو انسانیت سےقطع نظر کرتے ہوۓ مذہب کی تعلیم دیتی ہو ،ہر مذہب انسانیت کےلیے حساس ہے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ مذہب تو انسان کےلیۓ ہو اور وہ خود اس سے عاری ہو ،اس لیے ہرمذہب انسانیت کا حسین گلدستہ ہے ،
جہاں تک مذہب اسلام کی بات ہے ، تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مذہب اسلام نے جو انسایت کے حقوق کا عملی پیغام دیاہے شاید وباید ہی کسی مذہب نے دی ہو ، کیونکہ مذہب اسلام کاہرجز انسانی ہمدردی و غمگساری سے سرشار ہے ، آپ مذہب اسلام کی صحیح ومستند تاریخ اٹھا کر ورق گردانی کریں تو آپ کے سامنے حقیقت کا پردہ چاک ہوجاۓگا اورآپ مذہب اسلام کہ صحیح تعلیمات سےروشناس ہونگے ،آپ اسلام سے پہلے( محمد عربیﷺ کی آمد سےپہلے) کی تاریخ کا بغورمطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس وقت انسانیت کا نام بالکل معدوم ہو چکا تھا قتل وغارتگری و خونریزی اور حقوق انسانیت سے بے شناش ہوکر زندگی گزارنا ہی اہل عرب کااصل محور ومشغلہ تھا، لیکن جب اسلام کاورد مسعود ہوا تو اسلام نے انسانیت کادرس دیا ،اسلام نے انسانیت کے وہ تمام حقوق دییۓ، جس کی ہر انسان کو تلاش وجسجو تھی ،اسلام نےسب کچھ عطا کیا، حقوق انساینت کےسلسلے میں بے شمارآیات و احادیث موجود ہیں ،صرف دیکھنے اور پرکھنے والی آنکھیں ہونی چاہیۓ کیونکہ قدر جوہر شاہ داند یا بداند جوہری ع
 قرآن مجید سورہ ماٸدہ آیت نمبر32میں انسانیت کے متعلق ارشاد ربانی ہے اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسراٸیل کو یہ حکم دیا کہ جس نے بغیر جرم کے یعنی (کسی جان کے بدلے نہ ہو )یا ملک میں خرابی کےبغیر قتل کیا تو اس نے گویاکہ ساری انسانیت کاقتل کیا اور جس نے کسی نفس کو زندہ رکھا گو یااس نے ساری انسانیت کو زندہ رکھا- دوسری جگہ سورہ نمبر 17آیت نمبر 33 ارشاد باری تعالی ہے اس آدمی کاقتل مت کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہاں مگر حق کے ساتھ اور جوشخص ظلما قتل کیا گیا تو اس کے ولیوں کو ہم نےاختیار دیا ہے کہ وہ قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے،یقینا وہ مددکیاہوا ہے، والدین کاحقوق اولادپرکیاہے بتلاتے ہوتےکہاکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اورجب تمہارے سامنےوالدین میں سے دونوں یاکوٸی ایک عمر رسیدہ ہوجاۓ تم انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ جھڑ کواور نرم لہجہ میں گفتگو کرو، اور ان کے سامنے عاجزی کابازو جھکادو اورانکے لیۓدعاٸیں کرو کہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فر ما جیساکہ اس نے ہماری طفلگی میں پرورش کی،ایک جگہ والدین سے کہاجارہاہےاور تم اپنی اولاد کو قتل مت کرو مال کے ڈر سے ہم انہیں بھی اور تمہیں بھی رزق دیتے ہیں، حقیقی بات تو یہ ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے ، یہ تو بطور مثال کے میں نے آیتیں پیش کی، ورنہ انسان کے سارے حقوق قرآن وحدیث نے بتلایا ہے ، بس صرف بالغ النظر ،مبلغ فہم و دور رس نگاہ اورحق شناس بندہ ہوناچاہیے، جو لوگ بھی منشا و مشیت الہی کی معرفت رکھتے ہیں،
 انکی نظر میں مذہب اسلام سے بہتر
 کوٸی دوسرا مذہب نہیں ہے-
بڑے قلق وتأسف سے یہ بات کہنی پڑرہی ہیکہ کچھ عرصہ سے شوشل ومیڈیا وانٹرنیت کےتوسط سے اسلام کی غلط وبے مطلب وبےمعنی تشریح وتوضیح ایسے لوگوں کی جانب سے کی جارہی جودین کالبادے میں جاہل ہیں، اور
ہمارے سادہ لوح مسلم بھاٸی وبہن کوگمراہ کرنے کی سعی کررہےہیں ،اور اسلام کے خلاف زہریلے بیانات وبے جااعتراضات کرکے مسلمانوں کو راہ حق ہٹانے کوشش کررہے ہیں -
آج ہماری غفلت ولاپرواہی کی وجہ سے بیشتر مسلمان دینی تعلیم سے دور ،عقاٸد اسلام سے دور ہیں ،انہیں محبت اسلام سے کوٸی واسطہ نہیں ہے-
آج ہماری صاف وشفاف وبے غبارتاریخ کو داغدار وپلیدیوں سے آلودہ کرکے پیش کیاجارہاہے، ہماری روشن تعلیمات کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہرشخص اپنی راۓ میں غیروں کی حمایت کرتاہوا ملتا ہے غیر توغیر کچھ اپنے بھی آستین کے سانپ بنے بیٹھے ہیں -
اسلیے آج کے اس پرفتن دور میں اسلامی عقاٸد و تعلیمات اوراسرار وحِکَم بیان کرنے کی سخت ضرورت ہے ،اس کے لیےعوام المسلمین کو یکجاکرکے اسکو دینی تعلیمات سے روشناس کراکر مسلمانوں کو مستحکم کرنے کی سعی کریں ،رب العالمین دین پرمسلمانوں کو استقامت عطافرماۓ ،ناموافق حالات کو موافق بنادے ، اور ظلم کی آندھیوں کو روک دے،آمین              
  اللہ کی ذات سے توقع ہےکہ جلد ہی حالات سازگار ہوجاٸیں گے-
بقول شاعر!
کتاب سادہ رہے گی کب تک کبھی تو آغاز باب ہوگا 
جنہوں نے بستیاں اجاڑ ڈالی ہے کبھی تو حساب ہوگا