Translation unavailable. Showing original.
وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت
26 دسمبر، 2025
وقت ایک قیمتی تحفہ ہے جسے عطاۓ الہی کا ایک عظیم عطیہ مان کر ہمیں رب کریم شکر ادا کرنا چاہیے ،وقت کی اہمیت ہر مصروف العمل شخص کے نزدیک یکساں مسلم ہے ،وقت سے ہی دنیا کاتکوینی نظام چل رہاہے ،انسان ولادت سے لیکر وفات تک ماں کی گود سے لیکر قبر کی لحد تک اوقات کے داٸرہ میں محیط اور اوقات کی زنجیر میں مقید ہے ۔
بچپن ،جوانی ،بڑھاپہ انسانی زندگی کے حصہ کامختلف تغیرات گردش اوقات کا عظیم کارنامہ ہے ۔
آفتاب وماہتاب ،صبح وشام کی آمد ورفت یہ سب ہماری زندگی کی تبدیلی کا اہم ذریعہ ہے، چنانچہ رب کریم نے وقت کی اہمیت قرآن کریم میں بتلایا ہے، بے شمار آیات وآحادیث اور سلف صالحین کے اقوال زریں اس پہ دال ہے ، چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :
ھو الذی جعل لکم اللیل والنھار لتسکنو فیہ ولتبتغو من فضلہ ولعلکم تشکرون ،
ترجمہ :اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے شب وروز بنایا تاکہ تم سکوں حاصل کرو فضل الہی کی جستجو کرو اور شاید کہ تم شکرادا کرو -
قل أرأیتم ان جعل اللہ علیکم النھار سرمدا الی یوم القیامة من الہ غیر اللہ بلیل تسکنون فیہ ط افلا تبصرون .
نبی جی فرمادیجے کیا تم غور نہیں کرتے کہ اگر اللہ قیامت تک دن بنادیتا سواۓ اللہ کون ہے وہ جو رات کے ذریعے تمہیں اس میں سکون دے ،کیا تم بصیرت نہیں رکھتے-
فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون ، صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان فرماٸیں -
فأذا فرغت فانصب والی ربک فرغب ،پس جب آپ فارغ ہوجاٸیں تو محنت کریں اوراپنے رب کی طرف رغبت فرماٸیں -
و العصر
قسم ہے زمانے کی -
چنانچہ علاوہ ازیں بہت سی آیتیں ہیں جس کے ذریعے اللہ نے وقت کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول فرماٸی ہے، اور اپنی قدرت کا اظہار فرمایا-
””وقت کی قدر عمر عزیز کی اہمیت ،اس کے احساس اور تعمیری زندگی اختیار کرنے کی طرف نبی ﷺنے احادیث میں بھی مختلف اسلوب و اندازسےتوجہ دلاٸی گٸی ہے-
حدیث کے مشہور امام ابوداٶد جن کی سنن صحاح ستہ میں شمار کی جاتی ہے وہ فرمایاکرتے تھے، میں نے اپنی سنن پانچ لاکھ احادیث سے منتخب کی ہے(انکی سنن چارہزار آٹھ سو احادیث پر مشتمل ہے)پھر انہوں نے سنن سے اسلامی نظام زندگی کے دستور کی جامعیت پر نمونہ کے طور پر چار احادیث کا انتخاب پیش کیا ان چار میں ایک حدیث ہے من حسن اسلام المر ٕ ترکہ مالا یعنیہ
ترجمہ: اسلام کے حسن میں سے ایک یہ بھی ہیکہ انسان لایعنی مشاغل ترک کردے -
اسی طرح نبی ﷺ کی ایک اور حدیث میں فرمایا :اغتم خمسا قبل خمس:١ حیاتک قبل موتک و٢صحتک قبل سقمک ،٣فراغک قبل شغلک و ٤شبابک قبل ھرمک و٥غناک قبل فقرک ،پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو : ١ زندگی کو موت سے پہلے ٢ صحت کو مرض سے پہلے فراغت کو موت سے پہلے ٣فرصت مصروفیت سے پہلے ٤جوانی کو بڑھاپے سے پہلے٥تونگری کوتنگ دستی، امام بخاری نے کتاب الرقاق میں امام ترمذی نے کتاب الزہد میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس : الصحة والفراغ دو نعمتیں ایسی ہے کہ جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکہ کے شکار ہیں ایک صحت دوسری فراغت صحت کی کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب بیماری کی تکلیف سر پہ آجاتی ہے،دوسری نعمت ان لوگوں سے پوچھیے جو فراغت کےچند گھڑیوں کیلیے ترستے ہیں
علامہ سیوطی ؒنے ”جمع الجوامع “میں ایک حدیث نقل کی ہے نبی ﷺنے فرمایا :ہرروز صبح کو جب آفتاب طلوع ہوتاہے تو اس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے من استطاع ان یعمل خیرا فلیعملہ فانی غیر مکر ر علیکم ابدا
آج اگر کوٸی بھلاٸی کرسکتاہے تو کرلے آج کے بعد میں پھر کبھی واپس نہیں لوٹوں گا -(متاع وقت اور کاروان علم ص٤٣/٤٤)
اقوال صحابہ کرام سے بھی وقت کی اہمیت پتا چلتاہے اور اسکی تاٸید ملتی ہے ،بزرگوں کا مقولہ ہے الوقت اثمن من الذھب والفضہ وقت سونے اور چاندی سے زیادہ قیمتی ، کیونکہ سونے چاندی کھونے کے بعد بھی محنت سےحاصل کیا جاسکتاہے مگروقت نہیں ۔
ألا لیت الشباب یعود
فأخبرہ بمافعل المشیب
اے کاش کہ جوانی لوٹ آتی تاکہ میں اسکوآگاہ کرتاکہ بڑھاپےنے میرے ساتھ کیاسلوک کیا-
سلف صالحین نے بھی اپنی کتابوں میں وقت کی قدر بہترین انداز سے سمجایاہے چنانچہ شیخ سعدی کا قول ہے:
خیرے کن کہ اے فلاں غنیمت شمار عمر پیشتر ازاںکہ بانگ برآید فلاں نماند-
اے انسان بھلاٸی کراورعمر عزیز کو غنیمت جان قبل اس کے کوٸی آواز لگاۓ فلاں نہیں رہا
آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے اکابر واسلاف کےعلم وفن اور عمل کا شاہکار نمونہ بنے میں جہاں بہت سے اسباب وعلل موجود ہیں، وہیں پہ بڑاسبب وقت کی قدر دانی بھی ہے وہ نظام الاوقات کے عین مطابق سارے امور انجام دینے کا پابند تھے ، ساری قوم کی ترقی کا راز بھی قدر وقت میں مضمر ہے،
آج جو لوگ بھی زندگی کے جس شعبہ میں کامیاب ہیں وہ اہمیت وقت اور اس پر عمل کا نتیجہ ہے ،اور جو قوم زوال وسطحیت کا شکار ہے وہ ضیاع اوقات کانتیجہ ہے-
آج ہماری قوم وقت کو جس طرح سے ضاٸع کررہی وہ ہماری نسل نو کی تباہی کا عندیہ دیتی ہے ، ہمارا تعلق جس مذہب سے وہ تو ہمیں کامیاب بننے کا نسخہ دیتاہے مگر مقام حیف ہے کہ ہم غفلت ولا أبالی کا شکارہیں ، علمی وعملی دنیا میں ضیاع اوقات کی رفتارطوفان سے زیادہ تیزچل پڑا ہے جس کی وجہ ہمارے علم وعمل سے وابستہ حضرات میں وہ صلاحیت و صالحیت نظر نہیں آتی جو ہمارے اسلاف واکابر میں ہے یاتھی ، قدردانی وقت کا فقدان وجدان فوزو فلاح کی ضمانت ہرگز ہرگز نہیں بن سکتی ہے -
رب کریم ہمیں بالغ النظر سرعت صحت فہم اورقدردانی وقت کی دولت مرحمت فرماۓ آمین