فن کتابت صاحب ذوق کی خصوصیت
25 دسمبر، 2025
کتابت ،لکھاوٹ، سجاوٹ، تحریر کو خوب صورت بنانا، ایک لفظ کو کئی خط( مثلاً خط نستعلیق، خط دیوانی ، خط کوفی اور خط رقعہ) میں لکھنا جسے دیکھ کر قارئین و ناظرین کے آنکھیں ،دل خوش ہوجاۓ یہ اہل ذوق ،فکر لطیف کی علامت ہے
اس کی ایک مستقل تاریخ ہے جس کو ادیب لبیب ،مزاج لطیف حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رح نے اپنی کتاب "خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں " میں ذکر کیاہے
سابقہ زمانے میں جب کمپیوٹر اور اس طرح کے دیگر آلات نہیں تھے جس سے لوگ بآسانی لکھ سکیں تو یہ کام باذوق آدمی اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے تھے ،عمارتوں میں فن کاری کا جوہر دکھاتے تھے،پتھروں کو تراش کر اس میں عربی خطوط پرونا قرآنی آیات لکھنا یہ ان کا زبردست کمال تھا ،آپ ہندوستان میں مختلف قدیم تاریخی مساجد ، قطب مینار ،تاج محل دیگر جگہوں کے محلات کو بھی دیکھیں گے تو آپ کو معلوم چل جاۓ گا کہ وہ کس محنت و جانفشانی سے یہ کام انجام دیتے تھے ،کیسے کیسے آیات قرآنیہ کو عمارتوں کے وابستہ کرتے تھے ،آج وہ دنیا سے چلے گیے لیکن ان کے فن کا کمال زندہ ہے جس سے لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈک محسوس کرتی ہے اور انہیں دعائیں دیتے ہیں ،
آج اگر چہ اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی ہے مگر پھر بھی اس کی اہمیت اہل ذوق کی نظر میں کم نہیں ہے ،وہ آج بھی کاتب کے ہاتھوں سے لکھے ہوۓنقش طرازی اور نقش نگاری کو ہی پسند کرتے ہیں
کاتب کی دست بوسی کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس کے ذریعے سے اسلام کا پرچم بلند اور اس کا خاص اثر لوگوں چھوڑاہے
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک صاحب جو کتابت کے ماہر ہیں ان کا نام اسم گرامی گل ایوبی ہے انہوں نے صرف اسم گرامی قدر محمد صلی اللہ علیہ کو 24سو طرز تحریر پر لکھاتھا ،
اسی طرح کا ذوق نفیس ،فکر لطیف ،شوق فقیر رکھنے والے میرے محترم دوست، برادرم مولوی اویس قرنی کشن گنجی ہیں جو اس سلسلے میں محنت کررہےہیں روز بہ روز ترقی کررہے ہیں
انہوں نے میری محبت میں یہ لکھ کر دیا
میں اس کا شکر گزار ہوں
اللہ تعالیٰ انہیں مزید ترقیات سے نوازے آمین
گل رضاراہی ارریاوی