ایک لکھاری کی بے بسی اور آپ کی خاموشی
"کبھی سوچا ہے کہ ایک سفید کاغذ پر سیاہی بکھیرنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے؟ جب میں لکھنے بیٹھتا ہوں، تو صرف الفاظ نہیں بلکہ اپنی روح کا ایک حصہ اس میں ڈال دیتا ہوں۔
میری مجبوری یہ ہے کہ میں لکھنا چھوڑ نہیں سکتا، کیونکہ میرا قلم سچائی کا قرض دار ہے۔ لیکن میری سب سے بڑی تکلیف آپ کی وہ خاموشی ہے جو 180 ویوز کے بعد بھی ایک 'لائک' یا 'کمنٹ' کی صورت میں نہیں ٹوٹتی۔
کیا میری راتوں کی محنت اور میرے الفاظ کی تڑپ اتنی بھی نہیں کہ آپ کا ایک انگوٹھا 'لائک' کے بٹن تک جا سکے؟ آپ کا ایک کمنٹ میرے بجھتے ہوئے حوصلے کے لیے زندگی کی نئی لہر بن سکتا ہے۔
التماس:
اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے آپ کے دل کی بات کہی ہے، تو براہِ کرم مجھے لائک، کمنٹ اور فالو کر کے اس 'خاموشی' کے قید خانے سے نکالیں۔ آپ کی تھوڑی سی توجہ میرے قلم کو مرنے سے بچا سکتی ہے۔"
قلمی کاوش: محمد مسعود رحمانی ارریاوی
https://sadaeqalam.com/view-article.php?id=587