”وندے ماترم “ ہمیں ہرگز قبول نہیں!
25 دسمبر، 2025
۱۵/ اگست 1947 کو ہمارا ملک انگریزوں کے ناجائز قبضے سے آزاد ہوا، اور اس آزادی کو ۷۵ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ؛ لیکن مسلمان حقیقی طور پر اب تک آزاد نہیں ہوئے ہیں ، جس طرح کی شخصی اور مذہبی آزادی انھیں ملنی چاہیےتھی، اس سے اب تک محروم ہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ اول دن ہی سے مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ، آئے دن حکومت کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مختلف بہانوں اور حیلوں سے مسلمانوں کو غدار ثابت کرنے کی سعی جاری ہے ؛ کبھی ”طلاق ثلاثہ “میں ترمیم کر کے شریعت میں مداخلت کی جاتی ہے، تو کبھی ”وقف ترمیمی ایکٹ ٢٠٢٤“ کے ذریعے مسلمانوں کو مالی اعتبار سے کم زور کرنے کی ناپاک کوشش کی جاتی ہے، کبھی” یونیفارم سول کورڈ“ کو نافذ کر کے مذہبی آزادی سلب کرنے کی تگ ودو کی جارہی ہے ، تو کبھی مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کر کے ان کی زندگی اجیرن بنائی جارہی ہے۔ الغرض ! یکے بعد دیگرے طرح طرح کے مصائب کے ذریعے مسلمانوں کو اس ملک میں پریشان کیا جا رہا ہے، اور نہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ؛ مگر مسلمان صبر کررہے ہیں ، اس امید سے کہ ” لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے “۔
ابھی ایک مصیبت سے جان نہیں چھوٹی تھی ، کہ ایک نئی مصیبت ہماری گردنوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، ”وندے ماترم “ جو ایک شرکیہ گیت ہے ، جس کو پڑھنے سے اسلام کا بنیادی عقیدہ ” عقیدۂ توحید“ خطرے میں آسکتا ہے ، 150 سال پورا ہونے کا بہانہ بنا کر، اس کو مسلمانوں پر زبردستی تھوپنے کے لیے پارلیمنٹ میں بحث کی جا رہی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کسی خاص گیت، کسی خاص نظم اور کسی خاص غزل کے گنگنانے سے ہمارے ملک میں ترقی ہو جائے گی ، یہاں سے غریبی کا نام و نشان مٹ جائے گا ، مہنگائی ختم ہو جائے گی ، ریپ اور زنا بالجبر کے معاملات کم ہو جائیں گے، ماب لنچنگ رک جائے گی، زہریلی فضا صاف و شفاف فضا میں تبدیل ہو جائے گی ، اور ملک میں امن و سکون اور محبت و مودت کی ہوا چلنے لگے گی ، کہ اس شرکیہ گیت کے لیے پارلیمنٹ کا قیمتی وقت، جس کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا؛ مگر صرف اور صرف مسلمانوں کو پریشان کرنے ، اور الیکشن کے موقع پر ”ہندو مسلم سیاست “ اور ” مذہبی سیاست “ کو ہوا دینے کے لیے، ایک غیر ضروری بحث میں تمام اوقات ضائع کر دیے جاتے ہیں، ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ظالموں کو نہ عوام کی پروا ہے ، اور نہ ملک کی سالمیت کی، انہیں بس فکر ہے تو صرف اور صرف اپنی سیاست چمکانے، اور ہندو مسلم کر کے کرسی پر براجمان ہونے کی ۔
”وندے ماترم “ مسلمانوں پر جبرا مسلط کیا جا رہا ہے ، اور بہ بانگِ دہل اعلان کیا جا رہا ہے، کہ ”اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا“ حالاں کہ یہ ایک شرکیہ گیت ہے ، جس میں عناصرِ اربعہ کے ساتھ ساتھ مختلف چیزوں کی عبادت کی بات کہی گئی ہے ، جو اسلام کے عقیدۂ توحید کے سراسر خلاف ہے ، اور مسلمان کسی بھی طرح سے اس کو قبول کرنے پر راضی نہیں ہوں گے ۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ، جس میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے، کسی کے مذہب میں مداخلت کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے ، ہر ایک کی اپنی تہذیب و ثقافت ہے ، جس پر عمل کرنے کی پوری گنجائش ”آئینِ ہند“ دیتا ہے، اسی طرح مسلمان بھی اس ملک کے باشندے ہیں ، اس ملک کی آزادی میں ان کی قربانیاں دیگر اقوام کے مقابلے میں کئی گنا ہیں ، اور ہمیشہ اس ملک کی حفاظت کے لیے مسلمانوں نے جدوجہد کیا ہے، انھیں بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے، اور ”وندے ماترم“ کو اس کے سر ڈالنا اس کے مذہبی اختیارات کو سلب کرنا ہے، جو کسی بھی قیمت پر ہم مسلمانوں کو قبول نہیں ہے،اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مذہب کے لیے ، اور ملک کے لیے جان دینے سے مسلمانوں نے کبھی پس و پیش نہیں کیا ہے، اگر آج بھی یہ نوبت آتی ہے، تو ہم مسلمان اس کے لیے بھی تیار ہیں، اور بہ قول قائدِ محترم ”مر جائیں گے ؛مگر وندے ماتم نہیں پڑھیں گے “ ؛ کیوں کہ ہم مسلمان ہیں ، ہمارا سرصرف خداءِ وحدہ لا شریک کے سامنے جھک سکتا ہے، وہی عبادت کے لائق ہے ، اس کے علاوہ سب اس کی مخلوقات میں ہیں، اس کی عبادت کا تصور بھی ہمارے عقائد اسلام کے منافی ہے ، جسے ہم کبھی نہیں کر سکتے۔
توحید کی امانت سینوں میں ہےہمارے ★ آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
(علامہ اقبال)
✍️: محمد شاہد گڈاوی