وہ کریں گے ناخدائی تو لگے گی پار کشتی-یعنی والدین کی قربانیاں
25 دسمبر، 2025
وہ پندرہ اگست کی سہانی شام تھی ،بارش کی پھواریں اورسرد ہوائیں دلوں کو سکون بخش رہی تھیں ،اسی مسرت و شادمانی میں ایک فرد بشر سے ملاقات ہوئی ،آں جناب کے بے تکلفانہ انداز اور ان کی نٹکھٹ بیٹی کو دیکھ کر میں سوال کر بیٹھا کہ آخر آپ کے صاحبزادگان کتنے ہیں ؟اتنا پوچھنا تھا کہ ایک دلخراش داستان کا آغاز ہوگیا ؛ فرمانے لگے : کہ بچوں کی تعداد تو فقط دو ہے لیکن یہ دوسرا بچہ دماغی مرض سے دوچار ہے ،ہوا کچھ یوں کہ جب یہ معصوم فقط ۹ماہ کا تھا تو ایک روز اچانک پلنگ سے گرپڑا ،جس کے نتیجے میں دماغ کا اہم ترین حصہ زخم آلود ہوگیا ۔ہم اسے لے کر فی الفور ناگپور کے مشہور ہاسپٹل پہونچے ،ڈاکٹروں نے دستبرداری کا اظہار کرتے ہوئے برملا کہ دیا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں،اب توامید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لیکن ہم کوشش کریں گے لہذا آپ ان کاغذات پر دستخط فرمادیں ،چار و ناچار ڈھڑکتے دل کے ساتھ ہم نے دستخط کردئے ،۳ یوم انتظار کے بعد ڈاکٹروں نے اپنا بل و صول کیا اور انہیں ریفر کردیا ،
افراتفری کے ماحول میں ہم اسے لیکر لتامنگیشکر ہاسپٹل پہونچے ،زہے قسمت کہ وہاں ڈاکٹرموجود ہی نہ تھے ،اس بے ہنگم صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے آنا فانا فیصلہ کیا کہ ہم اسے لے کر اس ہاسپٹل میں جائیں جو دماغی علاج میں بلا کی مہارت رکھتا ہے ،
ادھر قدم قدم پہ ناکامیاں ہاتھ لگ رہی تھیں اور ادھر معصوم سی جان وینٹی لیٹر پہ آخری لمحات گزارنے پر مجبورتھی ، والدین کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا ،معاشی قوت ساتھ دینے سے انکار کررہی تھی ،جیب میں بل اور ہاتھوں میں چند کاغذات کے سواکچھ بھی نہ تھا ،اب ہمت ٹوٹ رہی تھی ،حوصلہ جواب دے رہاتھا ،لیکن اس مرجھاتی کلی کو دیکھ کر والدین کا حوصلہ چیخ چیخ کر کہنے لگا
،’’ابھی تو میں جوان ہوں ،ابھی تو میں جوان ہوں ،
،
حوصلے کی ہمت افزاء آواز ان کے دل وجاں سے ٹکرا گئی ،بس کیا تھا؟والدین نے عزم مصمم کرلیا کہ اب چاہے جو ہوجائے ہم ہمت نہیں ہاریں گے ،اس معصوم کی آخری سانس تک ہم ساتھ نبھائیں گے ،اسی کشمکش کے عالمِ دگرگوں میں ان کی گاڑی ہاسپٹل جا پہونچی ،جب وہاں فیس سے واقف کرایا گیا تو ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ،یومیہ ایک لاکھ؟؟وہ مصائب و آلام کیا کم تھے کہ مزید آ دھمکے
لیکن وہ تو والد کا حوصلہ تھا نہ؟ وہ کب جواب دے سکتا تھا؟؟اس کی ہمت کب ٹوٹ سکتی تھی؟اس عزم و حوصلے کے پہاڑنے لوگوں سے قرض لئے اور اپنے بچے کو ایمرجنسی واڈ میں داخل کرادیا ،پھر وہی پرانی روش، ان ڈاکٹروں نے اپنا پلہ جھاڑنے کیلئے ان کے دستخط محفوظ کرالئے ،الغرض تین یوم کے بعد ڈاکٹروں نے خوش خبری سنائی کہ آپ کے بچے نے زندگی کی جنگ جیت لی البتہ جوزخم اسے لگے تھے وہ تاحیات اس کے ہمسفر رہیں گے ،اتنا سننا تھا کہ والدین خوشی سے اچھل پڑے ،ان غریب والدین نے دولاکھ ستر ہزار روپئے ادا کئے اور اس خوشی میں گھر لوٹ گئے کہ
’’پھر فصل بہاراں آئی ہے ،امیدوں کی کرن جگمگائی ہے،،
ان تمام تر مصائب سے الجھنے اور پر خطرراہوں سے گزرنے کے بعد بھی دماغی عارضہ باقی رہ ہی گیا ،میں نے سوال کیاکہ دربدر ،شہر شہر،گلی گلی بھٹک بھٹک کر اور ان مشقتوں کی وادیوں کے خاروں سے الجھ الجھ کر جب وہ صحتیاب نہ ہوسکا تو کیا آپ مایوس نہیں ہوئے ؟؟۔ذر اجواب سنئے گا ! انہوں نے برجستہ کہا کہ میرا نور نظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جس کو جنگِ زندگانی میں فتح نصیب ہوئی ہے ،اب اس کے سوا اور کیا چاہئے ؟ اللہ اکبر ،اے رب دو جہاں تو نے کیا انوکھی نعمت دی ہے ،ہم ہی ناقدرے ہیں جو اس نعمت عظمیٰ کی قدر نہیں کرتے ۔
یہ تو صرف ایک واقعہ ہے جسے آپ تک پہونچایا گیا ورنہ تو ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جہاں اپنی اولاد کو مصائب میں الجھتا دیکھ کر یہ مائیں سسک سسک کررو پڑتی ہیں گویا کہ’’نہ تاب نظر رہتی ہے نہ تاب نظارہ اسے،،یہ مائیں کتنی قربانیاں دیتی ہیں ہمیں کچھ خبر بھی ہے ؟ان کے حوصلوں کی بلندی سے ہم کچھ واقف بھی ہیں؟ذرا غور کیجئے ،کہ وہ دسمبر کی یخ بستہ ہوائیں ہوں یا جون کی باد سموم ، ان کی ہمتیں کبھی نہیں ہارتیں ،حوصلوں کی اڑان میں کوئی کمی نہیں آتی ،وہ وقتِ سحر بیدار ہوکر بارگاہ خدا میں دست بہ دعاء ہوتے ہیں،زندگی کے ہر موڑ پر اپنی خواہشیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں!خود بھوکے رہ کر بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں ،اپنی اولاد کو کامیابیوں کے منازل سے ہمکنار کرانے کیلئے طرح طرح کی پریشانیاں اٹھاتے ہیں،
،لیکن لیکن ،گردش دوراں کبھی کسی سے وفاء نہیں کرْْتی ْْْْ؛
ایک وقت آتا ہے ،کہ وہ سن رسیدہ ہوجاتے ہیں،بھولنے کی عادت سی پڑجاتی ہے ،ادنی ادنیٰ سی باتوں پر غیض و غضب کا شکار ہوجاتے ہیں ،یہ ایسے دشوار گزار مراحل ہوتے ہیں جہاں خدمت گزاری کی سعادت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی،آپ نسل نو کو ہی دیکھ لیں!قدردانی تو دور و ہ تو بے غیرتی کی انتہاء کردیتی ہے ،الغرض لکھنے کو تو بہت کچھ ہے پر
’’آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں وہ لب پر آئیں کیا۔
،بس یہیں قلم روکتا ہوں اور وقتِ رخصت یہ گزارش کرتا جاتا ہوں کہ یاد رکھئے !یہی وہ ہستی ہے جو ہر موڑ پر آپ کی رہنمائی کرے گی ،کشتی حوصلہ کی ناخدائی کرے گی،اور لڑکھڑاتے قدموں کی حوصلہ افزائی کرے گی گویا یوں کہ
وہ کریں گے ناخدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیرؔ ورنہ مشکل تیرا پار یوں اترنا
_________________
8/11/2021
یہ تحریر بہت پہلے لکھی تھی
ابوالفضل حیدریؔ