🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

انسانی تاریخ کا ہر دور اپنے اندر کچھ سوالات، کچھ امکانات اور کچھ المیے سمیٹے ہوئے ہوتا ہے، مگر آج کا انسان جس موڑ پر کھڑا ہے وہ محض ایک تاریخی مرحلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی نے انسان کو فلک بوس عمارتوں تک پہنچا دیا، مگر دلوں کے درمیان فاصلے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے۔
ہاتھوں میں طاقت ہے، ذہنوں میں وسعت ہے، مگر دلوں میں رحم کم اور مفاد زیادہ نظر آتا ہے۔
آج انسان نے چاند کو مسخر کر لیا، مگر اپنے ہی ہم جنس انسان کے دکھ کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
ترقی کی دوڑ میں اس نے سہولتیں تو خرید لیں، لیکن سکون بیچ دیا۔
 زبان پر حقوقِ انسانی کے نعرے ہیں، مگر عمل میں کمزوروں کا استحصال، مظلوموں کی آہیں اور بے گناہوں کا خون سستا ہو چکا ہے۔
 انسانیت کے نام پر ہونے والی گفتگو اور انسانیت کے نام پر ہونے والے اعمال کے درمیان ایک گہرا تضاد پیدا ہو چکا ہے۔

معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے، رشتے مفاد کے تابع، دوستی ضرورت کی محتاج، اور محبت شرطوں میں جکڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
 والدین کا ادب قصوں میں رہ گیا، پڑوسی کا حق بھلا دیا گیا، اور بھوکے کے درد پر نظریں چرا لینا معمول بن چکا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں، سوال یہ ہے کہ احساس کم کیوں ہو گیا ہے؟
 سچ دب جاتا ہے، جھوٹ سنور جاتا ہے۔
 ایسے میں انسانیت کا چراغ مدھم ضرور ہوا ہے، مگر بجھا نہیں۔

ابھی بھی کہیں کسی ماں کی دعا، کسی مظلوم کی آہ، کسی نیک دل کی
خاموش مدد انسانیت کی سانسوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

انسانیت آج ایک دوراہے پر کھڑی ہے: ایک راستہ وہ ہے جو خود غرضی، ظلم اور
بے حسی کی طرف جاتا ہے؛ دوسرا وہ جو رحم، عدل اور ایثار کی طرف بلاتا ہے۔

 فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم کس سمت قدم بڑھاتے ہیں۔
 اگر ہم نے دلوں کو زندہ رکھا، ضمیر کو بیدار کیا اور کمزوروں کا ہاتھ تھاما، تو انسانیت پھر سے سر اٹھا کر چل سکتی ہے؛ ورنہ ترقی کے میناروں کے سائے میں اخلاق کی لاشیں اٹھتی رہیں گی۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انسانیت آج کمزور ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوئی۔
اسے صرف خلوص، انصاف اور ذمہ داری کے سہارے کی ضرورت ہے۔
 اگر ہر انسان اپنے حصے کا چراغ جلا لے، تو یہ اندھیرا زیادہ دیر باقی نہیں رہ سکتا۔