*نوجوان نسل کی رہنمائی ضروری ہے 

     اللہ رب العزت نے انسانی زندگی کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا ہے ،پہلا مرحلہ بچپن کا ہے جس میں کھیل کود سیر و سیاحت لہو ولعب ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے ،آخری مرحلہ بڑھاپے کا ہے جس میں عقل و شعور کامل، اورتجربات اختتام کو پہنچ جاتی ہیں لیکن قوی مضمحل اور اعضاء کمزور پڑجاتے ہیں ، ان کے درمیان سب سے اہم اور ضروری مرحلہ جوانی کا ہے۔
 چناں چہ اس مرحلہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ قیامت کے دن پانچ سوالوں میں سے ایک سوال جوانی کے متعلق ہوگا ،بتاؤ جوانی کہاں گزاری ؟اسی طرح دوسری حدیث میں فرمایا کہ جس کی جوانی اللہ کی عبادت میں گزری ہو وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا(صحیح بخاری)۔
یہ دور قوت و توانائی سے بھرپور نت نئے خیالات عقل و دانش کی پروان، اعضاء مظبوط ،حوصلہ بلند، جذبات سے لبریز ،امنگ کی کثرت، نفسانی خواہش کا غلبہ ہوتا ہے ۔ 

           یہ نوجوان ہی قوم کے مستقبل اور معمار ہوتے ہیں ،ان سے معاشرے کا استحکام ہوتا ہے ، معاشرے کا قیمتہ اثاثہ ہوتے ہیں ۔

   لیکن حالاتِ حاضرہ میں جب نوجوان کے شب و روز کا جائزہ لیتے ہیں،ا ن کے اقوال و افعال کا تجزیہ کرتے ہیں تو قوم مسلم کےنوجوانوں پہ سوالیہ نشان نظر آتا ہے، مستقبل کا انحطاط دکھتا ہے، آج کےنوجوانوں کا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ تعلیمات اسلامی سے کوسوں دور ہیں ،دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جنریشن گیپ رکاوٹ بنتی جارہی ہے، نتیجتاً معاشرے کے تعلیمی ثقافتی اور معاشی میدان میں ان کا کردار نظر نہیں آتا ان کی رائے کو نکار دیا جاتا ہے ،نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ مغربی تہذیب انہیں ذہنی مریض بنارہی ہے ملک کے تعلیمی نظام نے انہیں احساس کمتری کا شکار بنادیا ہے ،معاشی انحطاط نے انہیں تابناک مستقبل سے ناامید کردیا ہے 
کم حوصلوں سے وہ بے عمل ہوجاتے ہیں ، شیطانی وسوسوں میں پڑجاتے ہیں ،منفی خیالات نے انہیں ذمہ داریوں اور اسلام سے دور کر دیاہے ،اکثر نوجوان وہ ہیں جنہیں اپنی منزل کا نہیں پتہ ،بے راہ روی کے شکار ہیں، نفسانی امراض ان میں جنم لیتے جا رہے ہیں ،بےحیائی فحش کام ،زنا،ان میں بڑھتا جارہا ہے،سوشل میڈیا ان کی زندگی کا مدار بن گیا ہے زیادہ تر نوجوان ڈپریشن کے شکار ہیں ،یہاں تک کہ بعض کچھ طمع میں آکر ارتداد کے شکار ہو 
جاتے ہیں 
  ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ہم نوجوان نسل سے بہتری کی امید نہیں کرسکتے ،معاشرے میں خیر کے بجائے شر کو فروغ ملےگا ،اور ممکن ہے کہ عدم تلافی والا نقصان اٹھانا پڑے۔
ان حالات کو تمہارا یا ہمارا ذاتی مسئلہ کہہ کر دامن نہیں چھوڑ سکتے؛ بلکہ ہم سب کا یہ فریضہ ہے کہ سیرت نبوی اور تعلیمات اسلامی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان نوجوانوں کو کام میں لایا جائے ، جب تعلیمی میدان میں ہوں تو ان کی کار آمد تعلیم کی طرف رہنمائی کی جائے ،جب رزق حلال کی تلاش میں ہوں تو ان کی معاشی رہنمائی کی جائے ، جب یہ نکاح کے عمر کو پہنچ جائیں تو رشتہ ازدواج میں منسلک کرایا جائے،ان کے جذبات و ولولہ کو کمزور نہ پڑنے دیاجائے ،اس سے پہلے کہ ان میں کاہلی پائی جائے ، انہیں معاشرتی امور میں مصروف رکھا جائے ، سیاسی امور میں انہیں مداخلت کی اجازت دی جائے، روزانہ مسجدوں میں ان کی ذہنی وفکری تربیت کی جائے ،جب ان کی تعطیل ہوجائے تو جماعت میں روانہ کردیں ،اگر ممکن ہو تو تاریخ اسلام کو نصاب میں شامل کیا جائے ، حدود سے تجاوز کرنے والوں سے قطع تعلق کا اعلان کیا جائے ،نبوی دور میں اس کی بےشمار نظیریں ملتی ہے؛ چناں چہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض 19 سال کی عمر میں رومیوں سے لڑنے والے لشکر کی قیادت سونپی جب کہ حضرت عمر جیسے تجربہ کار موجود تھے
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو پہلا سفیر مقرر کرکے 
دینی تعلیم کے لیے مدینہ بھیجا 
 اول اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ توجہ نوجوانوں پہ دیی؛ چناں چہ سوائے چند لوگوں کے اکثر نوجوانوں نے اسلام قبول کیا،آج بھی انہیں صحابہ کے واقعات سناکر راہ راست پہ لایا جاسکتا ہے ،ان کے امنگوں کو کار آمد بنایا جاسکتا ہے ،ان کی صحیح رہنمائی کرکے پھر سے معاشرہ کو مظبوط و مستحکم خوشگوار بنایا جاسکتا ہے 
 ہمارے بڑے بوڑھوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم نوجوانوں کے جذبات و احساسات اور ضروریات سے منہ نہیں پھیر سکتے بلکہ ان پر مشفقانہ تربیتی نگاہ رکھیں ،ان سے کنارہ کش نہ ہوں ،تو وہیں نوجوان آباء و اجداد کی موجودگی کا لحاظ خاطر کرتے ہوئے ان سے رائے مشورہ کریں ان کی ہدایات زندگی کی راہوں میں چراغ کا کام کرنے والی ہیں 
اس طرح نوجوانوں کی توانائی اور بڑوں کی دانائی کا سنگم ہوگا تو تعلیم یافتہ، با سلیقہ، پر امن اور خوشگوار اور مثالی معاشرہ تشکیل پائےگا