نوجوانوں کو بربادی کی دنیا میں تیزی سے کھینچتا گناہ: مشتِ زنی( MASTRUBATION )

✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے عزیز نوجوان! یہ گناہ کسی کوچے میں بدنامی کی تختی لے کر نہیں کھڑا ہوتا بلکہ خاموشی سے انسان کے کمرے میں داخل ہوتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، ضمیر

 کو سلادیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ایک زندہ دل نوجوان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ مشتِ زنی یہ وہ لغزش ہے جو بظاہر تنہائی میں ہوتی ہے مگر اس کے اثرات پوری زندگی میں پھیل جاتے ہیں۔ عبادت میں سستی، ارادے میں کمزوری، نگاہ میں بے حیائی اور دل میں ایک مستقل بےچینی۔۔۔۔۔
اسلام انسان کو خواہشات سے خالی مخلوق نہیں بناتا بلکہ خواہش کو حدود میں رکھنا سکھاتا ہے۔ قرآن مجید کا اسلوب کتنا واضح اور کتنا بامقصد ہے کہ
> اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے..... تو جو اس کے علاوہ کچھ چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔۔۔۔
یہ آیت ایک مکمل فکری نقشہ ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ خواہش ہے لیکن اس کا راستہ متعین ہے۔ اور جو اس راستے سے ہٹ کر لذت تلاش کرے وہ وقتی سکون تو پا لیتا ہے مگر دائمی خسارے کا سودا کر بیٹھتا ہے۔ اسی لیے جمہور فقہاء نے مشت زنی کو ناجائز یا کم از کم شدید مکروہ قرار دیا کیونکہ یہ نفس کی تسکین نہیں بلکہ نفس کی غلامی ہے۔۔۔۔۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو سیدھا اور واضح نسخہ عطا فرمایا کہ
> اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھے وہ نکاح کرے اور جو استطاعت نہ رکھے وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے (بخاری، مسلم)
یہاں غور کیجیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ خواہش کو بےقابو چھوڑ دو یا اسے غلط راستے سے نکال لو بلکہ یا تو حلال ذریعہ یا پھر نفس کی تربیت۔ مشت زنی دراصل اسی نبوی منہج سے انحراف کا نام ہے۔۔۔۔
یہ گناہ سب سے پہلے نگاہ سے جنم لیتا ہے۔ حرام نظر، فحش منظر، موبائل اسکرین پر چمکتی ہوئی تصویریں یہ سب دل میں ایک آگ بھڑکاتے ہیں اور پھر انسان خود ہی اس آگ میں جھلسنے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے (حاکم) جب نگاہ بےقابو ہو جائے تو خیال آوارہ ہو جاتا ہے اور جب خیال آوارہ ہو جائے تو عمل کا پھسلنا طے ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
اس گناہ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ عادت بن جاتا ہے۔ اور عادت جب گناہ کی ہو تو پھر انسان چاہ کر بھی آسانی سے نہیں نکل پاتا۔ احساسِ جرم دل کو بوجھل کر دیتا ہے، بار بار کی لغزش خود اعتمادی توڑ دیتی ہے اور آہستہ آہستہ نوجوان خود کو ایک ایسے دائرے میں قید پاتا ہے جہاں وہ نہ پوری طرح دنیا کا رہتا ہے نہ دین کا۔
مگر اور یہ مگر بہت امید افزا ہے کہ اسلام مایوسی کا مذہب نہیں۔ چاہے گناہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔ رب کائنات فرماتا ہے اپنے کلام میں کہ کہہ دو اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔۔۔۔
نوجوانو! اگر تم واقعی اس گناہ سے بچنا چاہتے ہو تو راستے موجود ہیں
نگاہ کی حفاظت کرو یہ پہلی اور سب سے مضبوط دیوار ہے۔۔۔۔۔۔
تنہائی کو اللہ کی یاد سے آباد کرو کیونکہ خالی تنہائی شیطان کا سب سے پسندیدہ میدان ہے۔۔۔۔۔۔۔
فحش مواد سے بےرحمانہ قطع تعلق کرو نرم روی یہاں کام نہیں آتی۔۔۔۔۔
جسمانی مشقت اور مصروف زندگی اختیار کرو۔ سست بدن کمزور ارادہ پیدا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
روزے کو معمول بناؤ یہ نفس کا نظم و ضبط سکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر سچی توبہ بار بار گڑگڑا کر اللہ کے سامنے۔۔۔۔۔۔
یاد رکھو!
یہ معرکہ تمہارے اور تمہارے نفس کے درمیان ہے۔ اور جو نوجوان اپنے نفس کو زیر کر لے وہی دراصل فاتح ہے۔ چند لمحوں کی لذت اگر تمہاری نماز، تمہاری غیرت، تمہاری آنکھوں کی پاکیزگی اور تمہاری روح کا سکون چھین لے تو یہ لذت نہیں بلکہ خسارہ ہے سراسر خسارہ۔۔۔۔۔
اپنی طاقت کو ضائع مت کرو، اپنی جوانی کو شرمندگی کے بوجھ تلے مت دفن کرو اور اپنے رب سے وہ تعلق مت توڑو جو تمہیں زمین پر نہیں بلندیوں پر لے جانے کے لیے تھا۔۔۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/share/14PuDJnGiJ3/