اے نوجوانانِ قوم ، میری قوم کے معصوم بچو اور بچیو!تم اس وقت اپنی زندگی کے جس دور سے گزر رہے ہو اس میں یہ دنیا تمہیں اپنی رنگینیوں کی طرف ضرور آواز دے گی یہ تمہیں لبھانا اور غافل کرنا چاہے گی۔یہ تمہیں زندگی کی ایک انتہائی پرفریب تصویر پیش کرے گی اور تمہیں بتائے گی کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اس لئے اسے دل بھر کر اور اپنی مرضی سے جینا چاہیے ۔ غرض یہ تمہیں، تمہارے خالق و مالک سے غافل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
مگر میری پیارو، یاد رکھو یہ دنیا کچھ نہیں صرف دارالامتحان ہے دارِ فانی ہے اس دنیا کے بنانے والے نے خود اس کو محض لھو و لعب قرار دیا ہے اور صاف صاف فرما دیا ہے
"وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ"
اس دنیا کی کل حیثیت اس کے بنانے والے کے نظرمیں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔
میرے معصوم نوجوانو، میرے مسلمان بھائیو اور بہنو، آپ سب کو اس بات پر کامل یقین ہونا چاہیے کہ بہت جلد یہ دنیا اختتام پذیر ہو جائے گی اور قیامت جوکہ بڑی بھاری ہوگی، وہ اس دنیا اور اس کے تمام نظام کا تہ وبالا اور نیست و نابود کردے گی ۔ جب پہاڑ جیسی مضبوط اشیاء بھی روئی کے گالوں کی طرح اڑتی پھر رہی ہوں گی ۔بھائی بہنوں اور بہن بھائیوں کی، شوہر بیوی اور بیوی شوہر کی، دوست دوست کی فکر کرنا بھول جائیں گے۔ حتیٰ کہ مائیں بھی اپنے ننھے بچوں کو بھول جائیں گی اور سب کو اپنی ہی فکر ہوگی۔ عجیب نفسا نفسی کا عالم ہوگا کیونکہ اس دن سب کو اپنی کی گئے کاموں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کے اعمال چاہے رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہوں حاضر کر دیے جائیں گے۔ پھر اس اعمال نامے کے مطابق ہی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی کا فیصلہ سنا دیا جائے گا کہ آیا وہ شخص رحمت الہی کا حق دار ہے یا غضب خداوندی کا۔
میری پیارے بہن بھائیو !ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کرو کہ ہم کس کے لئے، آخر کس کے لئے اپنے معبود کو ناراض کر رہے ہیں؟ کس کی خوشی کے خاطر اپنے مولا کو ناراض کر کے اس کے قہر اور غضب کو دعوت دے رہے ہیں ؟ صرف اس ساٹھ ستر سال کی ذرا سے زندگی کی آرام و آسائش کے لئے ، اس ہزاروں کروڑوں بلکہ کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی کو ٹھوکروں میں رکھ رہے ہیں ۔ کیوں غلط طریقوں سے مال اور دولت جمع کرتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ چند سال بعد یہ سب یہیں رہ جانا ہےاور دوسرے ہی اس کا مزہ لیں گے اور قبر کی تاریکیوں میں کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے گا۔ ہمارے مرنے کے صرف چند سالوں بعد اس دنیا میں کوئی بھی ہمیں یاد کرنے والا نہ ہوگا۔ لوگوں کے ذہن ودماغ سے ہم اس طرح محو ہو جائیں گے جیسے ہم کبھی تھے ہی نہیں۔
عزیز دوستو! مگر اللہ تعالیٰ کے پاس ہمارا ایک ایک عمل محفوظ ہوگا اور جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں کہ ان عمال کے بدولت ہی ہماری ابدی زندگی کا تعین ہوگا۔
محترم بہن بھائیو، بخدا اپنے اوپر رحم کرو اس ذرا سی زندگی میں جتنے اچھے کام تم کر سکتے ہو کرلو۔ اپنی مالک و خالق کو راضی کرلو، اس کی احکام پر عمل کرو۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ہر وقت ذہن میں رکھو ۔ حسد، کینہ، بغض، جھوٹ، فریب، بد دیانتی، بد کرداری اور نا انصافی جیسی مہلک بیماریوں سے اپنی کردار کی حفاظت کرو ۔ یاد رکھو کون کیا کر رہا ہے؟ کیسے کر رہا ہے؟ اور کیوں کر رہا ہے؟ اس کی ہم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ مگر ہم نے کیا کیا؟ کیوں کیا؟ اور کیسے کیا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ہمیں ہر حال میں دینا ہوگا۔اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صاف صاف فرماتے ہیں "لَهَا مَاكَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ" (ترجمہ: اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور اس پر باز پرس بھی اسی کی ہوگی جو اس نے کمایا )
اس لئے میرے عزیزو! صرف اپنے اعمال پر دھیان دو ,ذہن نشین کر لو کہ یہ خراب ماحول کہیں آپ کو بھی خراب نہ کر دے۔ اپنے گناہوں کے لئے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔ کسی کی برائی کا جواب بھی بھلائی سے ہی دیجئے ، صرف اپنے اللہ کی خوشنودی کے لئے۔ جو بھی اچھا کام کریں صرف اپنے اللہ کے لئے کریں۔ یاد رکھیں کہ لوگوں کی کوئی حیثیت اور اوقات نہیں ہے،اللہ پاک کی مرضی کے بغیر یہ آپ کے ساتھ نہ کچھ اچھا کر سکتے ہیں اور نہ ہی برا۔
میرے پیارے بہن بھائیو، آخر میں میں بس یہی کہوں گی کہ لوگوں کا ڈر اپنی دلوں سے بالکل نکال دیجیئے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو لوگ کیا سوچیں گے ، اگر آپ بھی یہی سوچیں گے کہ لوگ کیا سوچیں گے، تو پھر لوگ کیا سوچیں گے؟ آپ صرف ہر وقت اپنے اللہ اور اس کی رضا کو پیش نظر رکھیں کیونکہ یہی لوگ جو آج آپ کو اس کی سرکشی پر اکسا رہے ہیں ، روزِ قیامت آپ کے اعمال سے صاف دستبردار ہو جائیں گے کہ ہمارا تم پر کوئی زور تو تھا ہی نہیں، اپنے اعمال کے لئے تم خود ذمہ دار ہو۔ اس لئے آج ہی سے لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے اپنے معبود کو خوش کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین