النكاح من سنتي
23 دسمبر، 2025
“میں شادی تب کروں گا جب میں مالی طور پر مستحکم ہو جاؤں گا۔”
4) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“میں نے اس شخص سے زیادہ عجیب کوئی نہیں دیکھا جو نکاح کے ذریعے کشادگی تلاش نہیں کرتا، حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے: اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔”
(مصنف عبدالرزاق: 10393)
5) نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ یقیناً وہ (نکاح کی برکت سے) تمہارے لیے مال و دولت کا سبب بنیں گی۔”
(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث: 16161، مرسلاً، معتبر سند کے ساتھ)
2) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے حق ہے:
✦ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا،
✦ وہ مکاتب غلام (جو اپنی آزادی کے بدلے رقم ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو)،
✦ اور وہ شخص جو نکاح اس نیت سے کرے کہ پاکدامنی اختیار کرے۔”
(سنن ترمذی، حدیث: 1655؛ سنن ابن ماجہ، حدیث: 2518 — امام ترمذی کے نزدیک حسن، اور امام ابن حبان کے نزدیک صحیح۔ نیز: الِاحسان، حدیث: 4030)
3) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“رزق کو نکاح میں تلاش کرو۔”
(دَیْلَمی، سند ضعیف؛ حوالہ: المقاصد الحسنہ، صفحہ 82، حدیث: 162)
قرآنِ کریم کی متعدد آیات اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح رزق میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ ان میں سے چند دلائل درج ذیل ہیں:
1) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“تم میں سے جو لوگ غیر شادی شدہ ہوں، انہیں نکاح کراؤ، اور اسی طرح اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی (نکاح کرواؤ)۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔”
(سورۃ النور، آیت: 32)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کرتے تھے:
“اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا اور اس پر ترغیب دی، اور ساتھ ہی مال داری کا وعدہ بھی فرمایا۔”
اسی مفہوم کے اقوال سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی نقل کیے گئے ہیں۔
(حوالہ: تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر، الدر المنثور؛ سورۃ النور، آیت 32)