ایک ہی گھر سے دو بچے (ایک بھائی اور ایک بہن) اسکول جانے کے لیے نکل رہے ہیں۔

بچہ دبیز اور قدرے گرم کپڑے کی پینٹ پہنے ہے، جس کے نیچے زیر جامہ (inner) بھی ہے 
اور لڑکی اسکول کے طے کردہ ڈریس کوڈ کی رو سے مجبور ہے کہ ایسا اسکرٹ پہنے جس میں ٹانگوں کے نچلے حصہ کو بچانے کے لیے کچھ نہ ہو، یا زیادہ سے زیادہ ایک موزہ کا کچھ حصہ ہو اور بس۔۔۔۔۔
سردی گو کہ یکساں ہے، لیکن تہذیبِ جدید کا حکم ہے کہ اس صنف کو نیم عریاں ہی رہنا ہے، مساوات کا شور یہاں آکر تھم سا جاتا ہے۔

احمد الیاس نعمانی ندوی