وہ ظلم جو ظلم نہیں سمجھے جاتے !
23 دسمبر، 2025
”ظلم “ ایک ایسا لفظ ہے ،جس کے حقیقی مفہوم سے اکثر لوگ نابلد ہیں، عام طور پر جب ظلم کا لفظ پردۂ سماعت سے ٹکراتا ہے، تو یہی خیال ذہن میں گردش کرتا ہے ، کہ کسی طاقت ور کا کم زوروں کو دبانا ، ان کو زود وکوب کرنا، دوسرے کی زمین غصب کر لینا ، غیرکے سامان پر جبراً قبضہ کر لینا ، حکم راں جماعت کا رعایا کے حقوق ادا نہ کرنا ، اور کرسی پر براجمان مغرور لوگوں کا اپنے ماتحتوں کے ساتھ ناانصافی کرنا ہی ظلم ہے؛ حالاں کہ ظلم صرف یہی نہیں ؛ بلکہ اس کے علاوہ ظلم کے بہت سے اقسام ہیں ، جن کو شب و روز ہم انجام دیتے ہیں ، اور جن کے ظلم ہونے کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا ۔
”ظلم“ ایک عربی لفظ ہے ، جس کا مطلب ہے ” وضع الشیء في غیر محلہ “ کہ کسی شے کو اس کی متعینہ جگہ کے علاوہ دوسری جگہ میں رکھنا ، کسی کام کو اس کے وقت مقررہ پر انجام نہ دینا ، اور آج کے کام کو کل پر ٹال دینا ظلم ہے، ظلم کے اس حقیقی مفہوم کے اعتبار سے اس کا دامن بہت وسیع ہے، جس کو مختصر مضمون میں بیان کرنا سمندر کو کوزے میں سمانے کی طرح ہے ۔
آج ہم ایسے معاشرے میں سکونت پذیر ہیں ، جس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا ، ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کرنا ،اور اپنے فرائضِ منصبی میں کوتاہی کرنا عام ہے۔ چناں چہ اولاد والدین کی نافرمانی میں خوش ہے ، والدین اولاد کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں ، بیوی شوہر کی اطاعت و فرماں برداری سے عاجز ہے، شوہر بیوی پر زور زبردستی کو اپنے لیے جائز سمجھتا ہے ، بھائی بہن کو وراثت سے محروم کر کے زیادتی کرنا ضروری سمجھتا ہے ، اور بہن آپسی جھگڑے فروغ دینے کو روا سمجھتی ہے؛ خلاصہ یہ کہ ظلم کا ایک طویل فہرست ہے ، جن میں سے چند کو سپردِ قرطاس کرنا ضروری ہے، جن کو ہمارے معاشرے میں ظلم سمجھا ہی نہیں جاتا، اور نیکی سمجھ کر بلا تردد انجام دیا جاتا ہے ۔
(١) سب سے بڑا اور بھیانک ظلم ہمارے سماج و معاشرے میں بیوہ اور طلاق یافتہ لڑکیوں پر کیا جاتا ہے، والدین سے لے کر معاشرے میں موجود ہر فرد اس میں ملوث ہے ، چناں چہ ہماری سوسائٹی میں بیوہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں اور بہنوں کی کوئی حیثیت نہیں ، ان کو حقیر سے حقیر تر سمجھا جاتا ہے ، ان پر طرح طرح کی زیادتی کو جائز ہی نہیں ؛ بلکہ بہتر سمجھا جاتا ہے ، ان کی زندگی ہر طرح سے تنگ کردی جاتی ہے ، خود والدین اس کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں ، ان کو طرح طرح کے طعنے دیتے ہیں ، ان کی چھوٹی سی غلطی پر ان کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں ، ہمیشہ زبان گالی گلوج سے مزین رہتی ہے، اگر خدانہ خواستہ کسی مرض کا شکار ہو جائیں ، اور گھر کے کام کرنے سے عاجز آجائیں ، تو ان کی بیماری کی فکر کرنے کے بجائے جبراً اس بیماری کی حالت میں بھی ان سے سارے کام کروائے جاتے ہیں ، اور انکار کی صورت میں یا تو بھوکی رکھی جاتی ہیں ، یا گھر سے نکال دی جاتی ہیں ، جس کی وجہ سے جب اس کے اندر مزید ظلم برداشت کرنے کی سکت باقی نہیں رہتی ،ان کے صبر کا پیالہ لب ریز ہو جاتا ہے، ہر طرف سے ان کے سہارے چھین لیے جاتے ہیں ، اور زمین اپنی کشادگی کے باوجود ان کے لیے تنگ دامانی کا شکوہ کرنے لگتی ہے ، تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جان جانِ آفریں کے حوالے کر کے اس مصیبت بھری زندگی سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ افسوس ہے ایسے معاشرے پر! لعنت ہے ایسے والدین اور افرادِ خانہ پر ! جو بیٹی اور بہن کا درد سمجھنے کے بجائے مزید درد دیتے ہیں، اور ان کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکتے ہیں۔ خدارا ! والدین اپنی آنکھیں کھولیں ، اپنی بیٹی کو بیٹی سمجھیں ، ان کے درد کو محسوس کریں ، اس ظالم دنیا میں انھیں بے سہارا نہ چھوڑیں ،اپنے لیے بوجھ سمجھنے کے بجائے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ، مناسب گھرانہ دیکھ کر ان کی شادی کرائیں ، اگر وہ غلط روش پر ہیں ، تو ان کی اصلاح کی فکر کریں ۔
(٢) ہمارے معاشرے میں دوسرا جو ظلم ہے، جس میں عوام و خاص، عالم و جاہل سب مبتلا ہیں، وہ ہے غیر شادی شدہ اولاد پر ظلم، چاہے لڑکا ہو یا لڑکی دونوں پر ستم ڈھایا جاتا ہے ؛ بلکہ لڑکی پر زیادہ ہی ظلم ہوتا ہے۔ آج ماحول اس طرح بن گیا ہے، کہ شادی بیاہ سے قبل کم از کم لڑکے کی خواہش معلوم بھی کی جاتی ہے ، اس کی پسند اور ناپسند کی رعایت بھی کی جاتی ہے ؛ مگر افسوس کہ ہماری بیٹیوں کی پسندیدگی کے بارے میں کسی کے دل میں خیال تک نہیں آتا ، وہ باپ جو اپنی بیٹی کی محبت میں جان تک دے دینا گوارا کرتے ہیں ؛ مگر بہ وقتِ نکاح وہ بھی ظالم بن جاتے ہیں ، اور بیٹی کو صرف اپنی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھا کر ، محض مال و دولت کی فراوانی کو دیکھ کر، فاجر و فاسق اور عیاش و بدمعاش کے ساتھ رخصت کر دیتے ہیں ، اور شادی کے بعد کبھی پرسانِ حال کی فکر بھی نہیں رہتی، کیسی زندگی گزار رہی ہے کوئی پروا نہیں ،یہ ظلم ہی نہیں ستم بالائے ستم ہے ۔
اسی طرح صحیح عمر میں نکاح نہ کرانا بھی ایک طرح سے اولاد پر ظلم ہے، کہ اس کی وجہ سے اولاد غلط روش اختیار کرتی ہے، اور بالآخر مجبور ہو کر زنا کاری جیسے عظیم گناہ کے مرتکب ہو جاتی ہے ، یہاں یہ بات ذہن نشیں کرنی چاہیے کہ صحیح وقت اور صحیح عمر پر شادی نہ کرانے کی وجہ سے جو خرابیاں معاشرے میں جنم لیتی ہیں ، جن برائیوں کا ارتکاب اولاد کرتی ہیں ، ان کی ذمہ داری والدین اور سرپرستوں پر بھی عائد ہوتی ہے، ان کے نامۂ اعمال میں بھی گناہ درج ہوتا ہے ، اور خداوند قدوس کی بارگاہ میں ان سے بھی باز پرس ہوگی ۔
(٣) اسی طرح ہماری سوسائٹی میں بیوی پر ظلم کرنا بھی اپنے لیے بہادری سمجھا جاتا ہے ، اور اس پر زور زبردستی کرنا اپنا حق سمجھاجاتا ہے، جس کی وجہ سے اس بیچاری پر نہ جانے کس کس طرح سے زندگی دو بھر کر دی جاتی ہے ، کہ شوہر اور درندے میں امتیاز کر پانا مشکل ہو جاتا ہے؛ حالانکہ احادیثِ مبارکہ میں متعدد جگہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کرنے کا حکم دیا ہے، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر فرمایا:” استوصوا بالنساءِ خيرًا، فإنَّ المرأةَ خُلِقَتْ من ضلعٍ، وإنَّ أعوجَ شيءٍ في الضِّلعِ أعلاه، فإن ذهبتَ تُقيمُه كسرتَه، وإن تركتَه لم يزلْ أعوجَ، فاستوصوا بالنساءِ خيرًا.“ کہ عورتوں کے بارے میں ایک دوسرے کو نیکی کی وصیت کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے، اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی؛ لہٰذا عورتوں کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو۔(مشکوۃ المصابیح حدیث:٣٢٣٨)۔ اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا : ”عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسولُ الله ﷺ: خيرُكم خيرُكم لأهلِه، وأنا خيرُكم لأهلي.“ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔(مشکوۃ المصابیح حدیث:٣٢٥٢) ان احادیث کی روشنی میں شوہر کو چاہیے کہ وہ ہر طرح سے بیوی کے ساتھ خیرخواہی کرے ، اس کو اپنی رفیقۂ حیات سمجھ کر آزادی کے ساتھ رہنے دے ، بیجا روک ٹوک ، اور بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے باز رہے ،اور آپسی محبت اور الفت کے ساتھ زندگی گزارے ۔
(٤) چوتھا ظلم یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کی نافرمانی میں حد سے بڑھ گئی ہے ، بات بات پر والدین کو ڈانٹنا ، ان کو ذلیل کرنا ، ان پر اپنا غصہ نکالنا ، اور ان کو کوسنا معمولی بات ہوگئی ہے ، آج ان کی اہمیت اور عظمت کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، ان کی عزت تو کجا ؟ صحیح سے ان کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا جاتا، وہ والدین جنہوں نے ان کی پرورش کی، ان کی ضروریات کا خیال رکھا ، ہر طرح کے آرام و راحت پہنچانے کے لیے خود مشقتوں کو جھیلا ، طرح طرح کے مصائب برداشت کیے ، اور زندگی میں کسی طرح کی پریشانی پیدا ہونے نہیں دیا، جن کی عظمت کے پیشِ نظر قران کریم نے” اف“ تک کہنے سے بھی منع کیا ہے ؛ مگر ہائے افسوس ! آج تو ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، حالاں کہ قران کریم میں بار بار والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب دی گئی ہے، ان کے لیے دعاءِ خیر کی تاکید کی گئی ہے ، اور ان کی نافرمانی کرنے پر سخت دھمکیاں اور وعیدیں سنائی گئی ہیں ؛ اس لیے اولاد کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے، اور اس عظیم گناہ سے توبہ کر کے والدین سے معافی مانگنی چاہیے اور آئندہ کسی طرح کی اذیت رسانی سے باز رہنا چاہیے ۔
یہ چند بڑے مظالم ہیں ، جن کو مظالم سمجھا ہی نہیں جاتا ، ان کو انجام دیتے وقت ان کے گناہ ہونے کا خیال بھی نہیں آتا ، قیامت اور بعث بعد الموت پر ایمان رکھنے کے باوجود، خوفِ خدا کا احساس بھی نہیں ہوتا ، صرف ”اصلاحِ معاشرہ “کی ہنکار لگاتے ہیں ؛ لیکن اپنے اندر تبدیلی کی فکر نہیں ، حالاں کہ ایک صالح معاشرے کی ترویج کے لیے ضروری ہے ، کہ اپنے اوپر عائد فرائض کو حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا جائے ، دوسروں کے حقوق پوری امانت و دیانت داری کے ساتھ ادا کیے جائیں ، ”کلکم راعٍ و کلکم مسؤولون عن رعیته “کو ذہن میں محفوظ کر کے اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا چاہیے ، جب معاشرے میں موجود ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو جائے گا ، تو یقیناً یہ معاشرہ خود بخود صالح ہو جائے گا، نہ کسی جلسے کا اسٹیج سجانا ہوگا، اور نہ کسی پیشہ ور مقرر کو بلا کر پیسے بہانے کی ضرورت ہوگی۔
اللہ عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
✍️: محمد شاہد گڈاوی