نئی نسل اور سوشل میڈیا کا اندھا بہاؤ

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی یلغار نے ہماری سوچ اور طرزِ زندگی کو جس طرح متاثر کیا ہے، وہ نہایت افسوسناک ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹویٹر، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسی ایپس نے ہماری دنیا کو تو رنگین بنا دیا، لیکن ہماری آخرت کی تیاری، دین سے وابستگی، تقویٰ و پرہیزگاری اور اعمالِ صالحہ سے رشتہ کمزور کر دیا۔

دینی و روحانی پہلو

یہ ایپس ہمارے دل و دماغ کو ایسے مصروف کر دیتی ہیں کہ قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار اور نماز کی لذت ہم سے چھن گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے بجائے ہم "لائکس، کمنٹس اور فالوورز" کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔

یکسوئی اور سکونِ قلب، جو عبادات کا اصل حاصل ہے، وہ موبائل کی اسکرین پر بے مقصد مصروفیات کی نذر ہو چکا ہے۔

گھریلو اور معاشرتی اثرات

گھروں میں پہلے محبت بھری گفتگو اور مشاورت کا ماحول ہوتا تھا، مگر اب ہر شخص اپنے موبائل کی دنیا میں قید ہے۔

رشتے کمزور ہو رہے ہیں، ماں باپ اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، اور معاشرتی تعلقات محض رسمی اور مصنوعی رہ گئے ہیں۔

معاشرہ جس بنیاد پر قائم رہتا ہے، یعنی اخلاق، تعاون اور ہم دردی، وہ سب سوشل میڈیا کے شور میں دب کر رہ گئے ہیں۔

نوجوانوں کی حالت

آج کا نوجوان امت کا مستقبل ہے، لیکن وہ اپنی صلاحیتیں بے کار ویڈیوز، فضول چیٹنگ اور سطحی تفریحات پر ضائع کر رہا ہے۔

دین کے بنیادی احکام و عقائد سے نابلد نوجوان فیشن، موسیقی اور وائرل کلپس میں گم ہیں۔

وقت کی قدر اور محنت کا جذبہ ختم ہو رہا ہے، نتیجتاً تعلیم میں کمزوری، اخلاق میں بگاڑ اور عملی زندگی میں بے سمتی بڑھ رہی ہے۔

انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے رجحانات نے نئی نسل سے حیا، وقار اور سنجیدگی چھین لی ہے۔ آج کے لڑکے اور لڑکیاں اصل مقصدِ زندگی کو بھول کر محض وقتی شہرت اور دنیاوی لذتوں کے پیچھے لگے ہیں۔