دورِ حاضر اور جہیز: ایک ناسور
از ✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
آج ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، جہاں انسان چاند پر بستیاں بسانے کی بات کرتا ہے اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اسی جدید دور میں ہماری سوچ آج بھی جاہلیت کی تاریک گلیوں میں بھٹک رہی ہے۔ "دہیز" وہ خونی رسم ہے جس نے لاکھوں بیٹیوں کے خواب چکنا
چور کر دیے ہیں
۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
بیٹی کی عمر کٹ گئی کچے مکان میں
بابا سمیٹتا رہا سونا دکان میں
لالچ کی بھینٹ چڑھتی انسانیت
موجودہ دور میں جہیز اب محض ایک رسم نہیں رہا، بلکہ ایک سوداگری بن چکا ہے۔ شادی جیسا پاکیزہ رشتہ اب مارکیٹ کی خرید و فروخت کی طرح ہو گیا ہے۔ لڑکے والے اپنی حیثیت سے بڑھ کر فرمائشیں کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی رخصتی کے لیے اپنی پوری زندگی کی کمائی داؤ پر لگا دیتا ہے:
وہ اپنے پاؤں کی زنجیر بیچ دیتا ہے
غریب باپ ہے، تصویر بیچ دیتا ہے
کبھی وہ بیچتا ہے خونِ جگر کا ہر قطرہ
تب ایک باپ اپنی تقدیر بیچ دیتا ہے
ایک لرزہ خیز حقیقت
اخبارات اور سوشل میڈیا آئے روز ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جہاں کسی بیٹی نے جہیز نہ لا پانے کے طعنوں سے تنگ آ کر خودکشی کر لی یا کسی سسرال نے کم جہیز لانے پر بہو کو زندہ جلا دیا۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سی نیک اور صالح لڑکیاں محض اس لیے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس دینے کے لیے مال و زر نہیں:
وجہ پوچھی تو کہنے لگا وہ شخص
جہیز کم تھا اس لیے لڑکا روٹھ گیا
حل اور ہمارا کردار
اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے صرف تقریریں کافی نہیں ہیں۔ ہمیں عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔ نوجوانوں کو عہد کرنا ہوگا کہ وہ "بکے ہوئے دولہے" نہیں بنیں گے۔ ہمیں معاشرے کے ان لوگوں سے سوال کرنا ہوگا جو شرافت کا لبادہ اوڑھ کر سودے بازی کرتے ہیں:
مانگتے ہو جب جہیز اس کی غریب ماں باپ سے
کیا تمہیں اپنی شرافت پر بھروسہ ہے بہت؟
اختتام
بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے، اسے زحمت نہ بنائیں۔ جہیز کا مطالبہ کرنا دراصل اپنی مردانگی کی نفی اور غیرت کا سودا کرنا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اس لعنت کے خلاف آواز اٹھائیں گے تاکہ پھر کسی باپ کو اپنی بیٹی کی
ڈولی کے بجائے اس کی لاش نہ اٹھانی پڑے۔
٠«{نوٹ}»٠
اس تحریر کو لکھنے میں کافی محنت اور وقت لگا ہے آپ حضرات سے گزارش ہے کہ لائک شئیر اور ہمیں فولو ضرور کریں اگر مضمون میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو کمنٹ میں ضرور بتائیں تاکہ ہماری اصلاح ہو سکے