حالیہ ڈبیٹ، کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ
_______
ڈبیٹ شاندار رہی، انداز استدلال جاندار رہا، اسلامیان ہند خوشیوں میں نہاگئے، مفتی صاحب یقینا قابل قدر ہیں ، ہمیں منفعت کی امیدیں وابستہ ہیں، آیندہ فتن کی راہ میں ان کے سبھی احباب سد سکندری بنیں گے، عقلی کسوٹی پر اسلامی حقانیت کو ثابت کریں گے، توحید کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا، مسئلہ غلامی بھی واضح کیا جائے گا، بعثت نبی کی حکمت پر بھی کلام ہوگا، جہاد کی غلط فہمیاں بھی دور کی جائیں گی۔ ان شاءاللہ
اگر ایسا ہوا تو ہندی اسلام آیندہ سرخ رو ہوگا
مغرب زدہ عرب کو آئینہ دکھائےگا۔
سردست چند باتیں پیش خدمت ہیں
ڈبیٹ سے قبل بھی اور ڈبیٹ کے بعد بھی کچھ غلط فہمیاں پھیل گئیں
• بعض علماء کرام نے خدشات کا اظہار کیا کہ ڈبیٹ نفع بخش نہیں ہوگی
ناظرین کی تعداد نے ان کی رائے کو غلط ثابت کیا
• ڈبیٹ میں مفتی صاحب نے سامعین کا خیال رکھا، انگریزی لسانی مہارت کا استعمال کیا، فسلفیانہ اصطلاحات سے بھی مددلی، یہی موقع کا تقاضا تھا، جاوید صاحب کہنے لگے کہ ذرا عام زبان استعمال کریں، ہم جیسے چند افراد بڑے خوش ہو کر اس کلپ کی تشہیر کرنے لگےکہ دیکھو مولوی جب انگریزی بولتا ہے تو انگریزی داں کو بھی سمجھ میں نہیں آتی۔
عرض یہ ہے کہ جناب عالی!
مسئلہ انگریزی زبان کا نہیں! بلکہ اصطلاحات فلسفہ کا ہے، جاوید صاحب کی خطاتھی، یقینا خطا تھی کہ وہ اصطلاحات سے نا آشنا تھے لیکن زبان سے ضرور واقف تھے، اگر ہم عام اردو داں کے سامنے آن و زمان کا ذکر کریں، جنس و عرض اور جوہر کا تذکرہ کریں، عالم ملکوت اور عالم ناسوت کا لفظ استعمال کریں تو براہ کرم دیانت داری کے ساتھ بتائیں کہ کتنے افراد کو سمجھ میں آئے گا؟؟
واضح ہوا کہ یہ زبان کی کمزوری نہیں تھی، اصطلاحات سے نا واقفیت تھی، اس کو خوشی کا عنوان دینا خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں، مفتی صاحب کی زبان دانی دیکھ کر خوش فہمی کے بجائے عزم مصمم کرلیتے کہ ہم بھی انگریزی سیکھیں گے اور اشاعت دین کی نیت سے سیکھیں گے تو شاید بہت مناسب ہوتا۔
• بعض افراد نے طعنہ دیا کہ لوگ جاہل سے مناظرہ کرنے پہنچ جاتے ہیں
جناب عالی!
ان کی جہالت پیش نگاہ نہیں تھی، ان کے بیانات کے مضر اثرات پیش نظر تھے، اس ڈبیٹ کے مثبت منافع مقصود تھے۔ بحمد اللہ ہدف حاصل کرنے میں توقع سے کہیں زیادہ کامیابی ملی۔
ایسے تبصرے بڑوں کی شایان شان نہیں!
• اُدھر کچھ لوگوں نے اس کامرانی کو اپنے کھاتے میں منتقل کرنے کی کوشش کی کہ یہ دلائل ہمارے فلاں صاحب نے بیان کئے ہیں
صاحب! صرف ہتھیار سے کچھ نہیں ہوتا، درست استعمال کرنے والا مجاہد کہلاتا ہے۔
• بعض افراد کی تنگ نگاہی پر حیرت ہوئی کہ وہ اس ڈبیٹ کو مسلکی عصبیت کے حوالے کرنے لگے، کچھ کم فہم اسے ادارہ جاتی تفوق کی نذر کرنے لگے ۔
ہائے رے کم نگاہی!
کیا یہ اس کوتاہ نظری کا موقع تھا؟
نہیں بلکہ متفق بین المسالک موضوع پر گفتگو ہو، اس میں کامیابی ہاتھ لگے تو سبھی کو خوش ہونا چاہئے، اگر اب بھی غم ہے تو حسد کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟
• عقل پرست دور میں وہی دلائل کام آئے جو متقدمین نے بیان کئے اور متاخر اکابرین نے اس کی توضیح و تشریح کی خدمت انجام دی، ضرورت پڑی تو بس نئے لبادے اور جدید لب و لہجے کی، لہذا جو افراد عقلی علوم کی دشوار فہمی کی بناپر اسے ضیاع اوقات کا سبب بتاتے ہیں اور مدارس کے فائدہ مند نصاب کو تبدیل کردیتے ہیں انہیں ضرور غور کرنا چاہئے کہ ان علوم کے بغیر فتن کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟
ایک دوسرا طبقہ جو صرف ان کتب کے داخل نصاب ہونے پر خوشی کا اظہار کررہا ہے ان کےلئے مقام فکرمندی ہے کہ
ابھی مزید نظر ثانی کی ضرورت ہے، جو کتابیں داخل نصاب ہیں ان کے قدیم طرز تدریس میں تھوڑی سی جدت پیدا کردیں، پھر طلباء کی بلند پرواز کا مشاہدہ کریں گے! ان شاءاللہ
• انگریزی زبان کا مسئلہ اب بھی چیستاں بناہوا ہے، کچھ لوگ سرے سے انکار کئے دیتے ہیں، اور کچھ اس طرح مشغول ہوتے ہیں کہ اچھا خاصا نصاب بدل دیتے ہیں اور کچھ تو وہ ہیں انگریزی دنیوی نفع کےلئے سیکھتے ہیں
یاد رکھئے!
اعتدال پیدا کرنا ہوگا، اس دور جدید میں انگریزی کی ضرورت ہے، یقینا ضرورت ہے، اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں جتنی تاخیر ہوگی اتنا ہی نقصان ہوتا جائے گا۔
غرضیکہ انگریزی سیکھی جائے، دینی فائدہ پیش نظر رہے ، اور مرعوبیت دل کے قریب بھی نہ بھٹکے۔
_____۔
✍🏻ابوالفضل نوریؔ