جہیز – ایک ناسور، ایک معاشرتی ظلم"
22 دسمبر، 2025
جہیز – ایک ناسور، ایک معاشرتی ظلم"معزز سامعین!
آج کا میرا موضوع ہے:جہیز: ایک لعنت"
جہیز کا مطلب ہے شادی کے وقت دلہن کے والدین کی طرف سے داماد یا اس کے گھر والوں کو دی جانے والی دولت، سامان یا تحفے۔ بظاہر یہ ایک محبت بھرا رواج لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سنگین سماجی برائی بن چکا ہے۔ یہ رسم اتنی جڑیں پکڑ چکی ہے کہ بغیر جہیز کے رشتہ کرنا آج بھی کئی علاقوں میں مشکل یا ناممکن بن گیا ہے۔ بعض اوقات لڑکی کی تعلیم، دین داری اور کردار کو نظر انداز کر کے صرف جہیز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ہم اسلامی نقطہ نظر سے دیکھے تو اسلام میں شادی کو آسان اور سادہ بنانے کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ایک مثال ہے، جہاں سادگی، محبت اور برکت نظر آتی ہے، نہ کہ دولت کا مظاہرہ۔ نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل بنانا چاہیے، لیکن افسوس! ہمارے معاشرے میں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ اورآج معاشرے میں جہیز کے کئی نقصانات نظر آرہے ہیں مالی دباؤ: متوسط اور غریب والدین اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں۔
حد تو تب ہوتی ہے جب شادی کے بعد جہیز کم ہونے پر لڑکیوں کو ستایا جاتا ہے، بعض اوقات تو جان تک لے لی جاتی ہے اور افسوس صد افسوس بہت سی نیک، باحیا لڑکیاں صرف اس لیے گھر بیٹھی رہتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز نہیں دے سکتے۔ معاشرے میں بعض لوگ لڑکوں کو صرف دولت کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ہمیں چاہیے کہ نہ جہیز لیں اور نہ دیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے گھر والوں کو اس لعنت سے روکیں علماء، اساتذہ اور سماجی شخصیات کو اس موضوع پر لوگوں کو بیدار کرنا چاہیے شادی کے لیے تقویٰ، دین داری اور اخلاق کو معیار بنایا جائے، نہ کہ مال و دولت کو۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں
جہیز صرف ایک مالی بوجھ نہیں، بلکہ ایک بیٹی کی عزت کا سودا ہے۔
آئیں! آج ہم سب عہد کریں کہ ہم اس ظالمانہ رسم کا حصہ نہیں بنیں گے۔
اسلامی تعلیمات پر عمل کریں گے اور شادی کو آسان بنائیں گے۔
اللہ ہمیں سچائی کے ساتھ جینے اور غلط رواجوں کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
حافظ ارمان عالم تجویدی