اتوار کلاس:- دور فتن میں عقیدۂ توحید کی رہنمائی
افادات:- حضرت مفتی سالم صاحب قاسمی پالن پوری ڈینڈرولوی
✍🏻بقلم محمد پالن پوریـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس اتوار کو بھی حضرت مفتی سالم صاحب قاسمی پالن پوری ڈینڈرولوی دامت برکاتہم کی وہی فکری و اعتقادی مجلس منعقد ہوئی جو آہستہ آہستہ شولاپور کے نوجوانوں کے لیے محض ایک درس نہیں بلکہ فکری پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے۔ اس مجلس میں گزشتہ اتوار عیسائیت کے زیرِ بحث رہنے والے نکات کو مکمل کیا گیا اور ساتھ ہی حال ہی میں منعقد ہونے والے اس مشہور مناظرے Does God Exist? یعنی کیا واقعی خدا کا وجود ہے؟ جس میں مفتی شمائل ندوی دامت برکاتہم اور معروف ملحد فکر کے نمائندہ جناب جاوید اختر صاحب آمنے سامنے آئے تھے۔ اس مناظرے کو بنیاد بنا کر حضرت نے نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک کو نہایت سہل، سادہ اور دل میں اتر جانے والے انداز میں واضح فرمایا۔ حضرت نے سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرائی کہ اس فتنوں بھرے دور میں اگر کسی چیز کو مضبوطی سے تھامنا ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعائیں ہیں کیونکہ یہ دعائیں ہمارے لیے مضبوط قلعہ ہیں، ہماری حفاظت کا حصار ہیں۔ پھر قرآن مجید کی اس آیت کی طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے مگر شرک کو معاف نہیں فرماتا اس سے معلوم ہوا کہ شرک اللہ کے نزدیک کتنا بڑا جرم ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک سے بھی پہلے جس چیز سے پناہ مانگی وہ شک ہے اس لیے کہ جب انسان کے دل میں اللہ کے وجود ہی کے بارے میں شک بیٹھ جائے تو پھر نہ نماز باقی رہتی ہے، نہ روزہ، نہ حلال و حرام، نہ اطاعت اور نہ بندگی کیونکہ جو ہستی نظر ہی میں مشکوک ہو جائے اس کے حکم ماننے کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔
اس کے بعد حضرت نے نہایت اہم نکتہ بیان کیا کہ الحاد یعنی خدا کے انکار کی بیماری اچانک نہیں آتی بلکہ آہستہ آہستہ انسان کو اپنے شکنجے میں لیتی ہے۔ حضرت نے اس کے اسباب بھی گنوائے اور ہر سبب کو عام فہم مثال سے واضح کیا۔ فرمایا پہلا سبب ذہنی صدمہ یعنی مینٹل ٹراما ہے۔۔۔ کسی کے والد کا انتقال ہو گیا، کسی کی ماں دنیا سے چلی گئی، کوئی حادثہ ہو گیا تو ایمان والا شخص کہتا ہے یہ اللہ کی تقدیر تھی اور دل کو سمجھا لیتا ہے مگر کمزور ذہن انسان اسی دکھ میں اللہ سے لڑ بیٹھتا ہے اور کہتا ہے اگر خدا ہوتا تو یہ کیوں ہوتا؟
دوسرا سبب یہ ہے کہ انسان کا کسی گناہ کا عادی ہو جانا۔ جب گناہ زندگی کا معمول بن جائیں تو پھر قرآن بھی بوجھ لگنے لگتا ہے، حدیث بھی چبھنے لگتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان دلیل نہیں بلکہ دین ہی کا انکار کرنے لگتا ہے۔۔۔۔
تیسرا سبب یہ ہے کہ قرآن و سنت کی مضبوط بنیاد کے بغیر صرف عقل، فلسفہ اور سائنس کو تھام لیا جائے۔۔۔۔
اس کے بعد فرمایا کہ واقعی وہ آنکھیں بڑی خوش نصیب ہیں جنہوں نے کل کا مناظرہ دیکھا اور جنہوں نے نہیں دیکھا انہیں چاہیے کہ ضرور دیکھیں۔ پھر قرآن کی طرف آئے اور فرمایا کہ مناظرہ کوئی نئی چیز نہیں قرآن نے بھی ایک عظیم مناظرے کو محفوظ کیا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان ہوا۔ حضرت نے اس واقعے کو اس طرح بیان فرمایا جیسے سامعین اپنی آنکھوں سے منظر دیکھ رہے ہوں فرمایا قوم عید منانے گئی میلے میں، حضرت ابراہیم علیہ السلام پیچھے رہ گئے، بتوں کو توڑ دیا جب لوگ واپس آئے تو ایک بوڑھے نے کہا ( قالوا سمعنا فتى يذكرهم يقال له إبراهيم ) ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا ذکر کرتے سنا تھا جس کا نام ابراہیم ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نمرود کے دربار میں لائے گئے۔ نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میرا رب وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے نمرود بات نہ سمجھ سکا بالکل اسی طرح جیسے کل کے مناظرے میں جاوید اختر صاحب اصل دلیل نہ سمجھ سکے۔ نمرود نے ایک مجرم کو چھوڑ دیا اور ایک بے گناہ کو قتل کر کے کہنے لگا میں بھی زندگی اور موت دیتا ہوں۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخری فیصلہ کن دلیل دی کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اگر تو رب ہے تو مغرب سے نکال کر دکھا۔ قرآن کہتا ہے ( فبُهِتَ الذي كفر ) وہ کافر گنگ رہ گیا۔۔۔۔ حضرت نے فرمایا یہی حال کل کے مناظرے میں بھی ہوا۔۔۔ مفتی شمائل ندوی صاحب نے ایک ہی مضبوط دلیل دی مگر مخالف اسے سمجھ نہ سکا پھر حضرت نے اس دلیل کو نہایت آسان انداز میں کھول کر بتایا کہ کل کے مناظرے میں تین الفاظ قابلِ غور تھے۔۔۔
Argument of Contingency
Infinite Regress
Necessary Being
اس میں سے Argument of Contingency کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات خود اپنے سہارے نہیں کھڑی جیسے سیب درخت کے سہارے ہوتا ہے درخت مٹی اور پانی کے سہارے، پانی اور مٹی سورج کے سہارے اور سورج galaxy اور نظام شمسی کے سہارے ہوتا ہے اگر ہر چیز کسی اور کی محتاج ہے تو آخر ایک ایسا سہار ا ہونا چاہیے جو کسی کا محتاج نہ ہو اسی کو Necessary Being کہتے ہیں یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات جو واجب الوجود ہے۔ پھر Infinite Regress کو مثال سے سمجھایا کہ اگر آپ ایر پورٹ پر امیگریشن کے لیے کھڑے ہیں اور امیگریشن کروانے والوں کی لائن کبھی ختم ہی نہ ہو تو کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اسی طرح اگر سبب پر سبب چلتا رہے اور کہیں رکے ہی نہیں تو کائنات وجود میں ہی نہیں آ سکتی اس لیے کسی ایک ذات پر آ کر یہ سلسلہ رکتا ہے اور وہ اللہ ہے جیسا کہ مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اپنے سوال میں جاوید اختر صاحب کو سمجھایا تھا کہ آپ شاعر ہے اسلئے کہ آپ کے استاد شاعر تھے اور اسی طرح ماضی میں چلتے چلے جائیں تو آپ شاعر نہیں بن سکتے لیکن آپ شاعر ہے تو مطلب کہی نہ کہی جا کر یہ سلسلہ رک جاتا ہے۔۔۔
اس کے بعد حضرت مفتی سالم صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے گفتگو کا رخ تاریخ کے ایک نہایت درخشاں اور فیصلہ کن باب کی طرف موڑ دیا اور فرمایا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا کے وجود پر سوال آج پہلی مرتبہ اٹھا ہے تو یہ اس کی شدید غلط فہمی ہے۔ یہ سوال صدیوں سے اٹھتا آیا ہے اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کے ذریعے اس کا جواب بھی دیا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں بھی ایک ایسا ملحد پیدا ہوا تھا جو خدا کے وجود کا انکار کرتا تھا اور بڑے بڑے علماء کو لاجواب کر کے فخر محسوس کرتا تھا۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ کے استاد حضرت حمّاد رحمۃ اللہ علیہ بھی اس کی گفتگو اور فتنہ انگیزی سے سخت پریشان رہنے لگے۔ ایک رات اسی پریشانی کے عالم میں انہوں نے خواب دیکھا کہ ایک گھنا درخت ہے، اس کی شاخوں پر ایک سور چڑھا ہوا ہے اور وہ درخت کی ڈالیاں ایک ایک کر کے کھا رہا ہے۔ اچانک درخت کی جڑ سے ایک شیر نکلتا ہے اور اس سور کو چیر پھاڑ کر ختم کر دیتا ہے۔ صبح جب امام ابو حنیفہ اپنے استاد کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے اضطراب کا سبب بیان کیا اور خواب بھی سنایا۔ امام ابو حنیفہ نے فوراً تعبیر بتائی کہ وہ سور دراصل وہی ملحد ہے جو ہمارے علماء کو فکری طور پر نقصان پہنچا رہا ہے، درخت کی جڑ آپ ہیں اور اس درخت کی جڑ سے نکلنے والا شیر میں ہوں گا۔ میں اس سے مناظرہ کروں گا اور اللہ کے حکم سے اس فتنے کو ختم کر دوں گا۔ اگلے دن واقعی امام ابو حنیفہ اس ملحد کے سامنے مناظرے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ملحد نے حقارت کے ساتھ کہا کہ تم تو ابھی عمر میں بھی چھوٹے ہو، مجھ سے کیا مناظرہ کرو گے۔ امام ابو حنیفہ نے نہایت وقار سے فرمایا کہ سوال تم کرو جواب میں دوں گا۔ اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ اگر خدا ہے تو اس سے پہلے کوئی چیز کیوں نہیں؟ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی شیئ بالکل ابتداء کے بغیر ہو امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ گنتی کرو، اس نے گننا شروع کیا ایک، دو، تین، چار یہاں تک کہ دس تک پہنچ گیا تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا اب الٹا گنو، وہ دس سے واپس ایک تک آیا اور ایک پر آ کر رک گیا امام ابو حنیفہ نے پوچھا ایک سے پہلے کوئی عدد ہے؟ اس نے کہا نہیں، امام ابو حنیفہ نے فرمایا جب مجازی اعداد میں ایک سے پہلے کچھ نہیں تو حقیقی وجود یعنی اللہ سے پہلے کوئی کیوں لازم آئے۔ وہ واحدِ حقیقی ہے، ازلی ہے، ابدی ہے۔۔۔۔
پھر اس ملحد نے دوسرا سوال کیا کہ اگر خدا ہے تو وہ کس سمت میں ہے، کس ڈائریکشن میں دیکھتا ہے؟ امام ابو حنیفہ نے فرمایا جب دیا جلتا ہے تو اس کی روشنی کس سمت میں جاتی ہے، اس نے کہا روشنی تو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ امام ابو حنیفہ نے فرمایا جب فنا ہونے والی روشنی کسی ایک سمت کی پابند نہیں تو وہ ذات جو نورِ حقیقی ہے وہ سمتوں کی قید میں کیوں ہو؟
پھر اس نے تیسرا سوال کیا کہ اگر خدا موجود ہے تو وہ کس جگہ ہے؟ امام ابو حنیفہ نے فرمایا دودھ میں گھی ڈال دو تو گھی کس جگہ ہوتا ہے؟ اس نے کہا دودھ کے ہر ذرے میں۔ امام ابو حنیفہ نے فرمایا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا اور وہ اپنی شان کے مطابق ہر شیئ پر محیط ہے۔۔۔۔
پھر اس ملحد نے چوتھا سوال کیا کہ اچھا بتاؤ اس وقت خدا کیا کر رہا ہے؟ امام ابو حنیفہ نے فرمایا ابھی تک تو تم اسٹیج پر کھڑے ہو کر سوال کر رہے تھے اور میں نیچے کھڑا جواب دے رہا تھا۔ اب تم نیچے آؤ اور میں اوپر بیٹھ کر جواب دیتا ہوں۔ جب وہ نیچے آیا تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا اس وقت اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر رہا ہے اور مجھے عزت دے رہا ہے۔۔ یہ سن کر وہ ملحد لاجواب ہو گیا۔۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ ہے علم کی طاقت اور یقین کی قوت۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد حضرت نے کل کے مناظرے میں اٹھائے گئے سوالات کی طرف رجوع کیا اور فرمایا کہ ایک سوال یہ کیا گیا تھا کہ اگر دنیا میں قتل، چوری، ظلم، زیادتی ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟حضرت نے فرمایا کہ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ایک ہوتا ہے کریئیٹر یعنی پیدا کرنے والا اور ایک ہوتا ہے یوزر یعنی استعمال کرنے والا۔۔ اللہ نے انسان کو قوت دی، عقل دی، اختیار دیا یہ اللہ کا فعل ہے۔ اب اگر انسان اس اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو مجرم انسان ہے، اللہ نہیں۔ جیسے چھری بنانے والا مجرم نہیں ہوتا بلکہ مجرم وہ ہوتا ہے جو چھری سے قتل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ کتا بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ لاٹھی بنانے والے کو نہیں کاٹتا بلکہ لاٹھی مارنے والے کو کاٹتا ہے۔ افسوس کہ بعض ملحد یہ بات بھی نہیں سمجھ پاتے۔۔۔۔۔۔
پھر دوسرا سوال غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے بارے میں تھا کہ اگر خدا ہے تو ظلم کیوں ہو رہا ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ دنیا دارالامتحان ہے۔ امتحان گاہ میں نقل کرنے والے کو فوراً پکڑ کر سزا نہیں دی جاتی بلکہ نتیجے کے دن فیصلہ ہوتا ہے۔ قیامت وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ مظلوم کو حق دلائے گا اور ظالم کو سزا دے گا۔۔۔۔
پھر ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ اسلام میں سوال کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حضرت نے وضاحت کی کہ اسلام نے سوال سے نہیں بلکہ بے جا سوال سے روکا ہے۔ بنی اسرائیل اس لیے منع کیے گئے کہ وہ عمل کے لیے نہیں بلکہ ہٹ دھرمی کے لیے سوال کرتے تھے۔ ورنہ صحابہ نے سوال بھی کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب بھی دیے۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد حضرت پچھلے موضوع کی طرف پلٹے اور فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت ملی تو دو گروہ بن گئے۔ ایک وہ جو ان کو کاذب اور واجب القتل سمجھتے تھے اور ایک وہ جو ان پر ایمان لائے جنہیں حواری کہا جاتا ہے۔ جب یہودی حضرت عیسیٰ کو قتل کرنے آئے تو اللہ نے ایک شخص کی شکل حضرت عیسیٰ جیسی بنا دی اور حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اسی حقیقت کو قرآن نے بھی بیان کیا اور انجیل برناباس نے بھی( انجیل برناباس برناباس نامی شخص نے لکھی تھی جو حضرت عیسی کے حواریین میں تھے) مگر بعد میں ایک شخص شاؤل(پولس) کھڑا ہوا۔۔ اس نے ایک جھوٹی کہانی گھڑی کہ مجھے آسمان سے نور نظر آیا، حضرت عیسیٰ نے مجھ سے بات کی کہ اے شاؤل کیوں مجھے پریشان کر رہا ہے ؟ تو میرے دن کی تبلیغ کیوں نہیں کرتا ؟ حواری سادہ دل تھے مان گئے پھر اس نے محبت کے نام پر غلو سکھایا، غلو سے تثلیث نکلی، تثلیث سے کفارہ گھڑا گیا۔۔۔۔
اب حضرت مفتی سالم صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اب ہم اسلام کی طرف آتے ہیں۔۔۔ فتنہ جب بھی آتا ہے تو سیدھا آ کر کبھی نہیں کہتا کہ میں باطل ہوں بلکہ حق کا لبادہ اوڑھ کر آتا ہے۔۔ حضرت نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں 53 سال رہے اور مدینہ منورہ میں دس سال۔ پوری زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو توحید پر کھڑا کیا، شرک کے ہر دروازے کو بند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے ایک اور عظیم پیشین گوئی فرمائی کہ میرے بعد تیس سال خلافت راشدہ رہے گی چنانچہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے ادوار میں اسلام کی مملکت نہ صرف مضبوط ہوئی بلکہ دور دور تک پھیل گئی۔۔ چنانچہ دور عمری میں مملکتِ اسلامیہ کی توسیع ہوئی تو اسی مرحلے پر ایک شخص کھڑا ہوتا ہے جس کا نام عبداللہ بن سبا تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ وہی کردار ہے جو عیسائیت میں شاؤل نے ادا کیا تھا۔ عبداللہ بن سبا پہلے یہودی تھا۔ اس نے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا۔۔ سب سے پہلے وہ مدینہ آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اسلام قبول کیا لیکن جب اس نے دیکھا کہ مدینہ کا ماحول پاکیزہ ہے، لوگ دین دار ہیں۔ یہاں فتنہ بونا آسان نہیں تو اس نے مدینہ چھوڑ دیا۔ پھر وہ شام گیا جہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی وہاں نظم و ضبط اور دینی شعور ایسا تھا کہ اسے وہاں بھی ناکامی ہوئی پھر وہ کوفہ گیا وہاں بھی کامیاب نہ ہو سکا آخر کار وہ مصر پہنچا جہاں نئے نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے، علم کم تھا اور جذبات زیادہ تھے۔ یہاں اس نے اپنا اصل کام شروع کیا۔۔۔ سب سے پہلے اس نے یہ شوشہ چھوڑا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے واپس آئیں گے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں تو اگر واپسی ہونی ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہونی چاہیے۔۔ اس بات نے کچھ سادہ لوح لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ اگلا قدم رکھا اور کہا کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاص حواری تھے ویسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آپ کے داماد بھی ہے پھر اس نے غدیر خم کے واقعے کو توڑ مروڑ کر یہ کہنا شروع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کیا تھا پھر سوال کھڑا کیا کہ اگر علی خلیفہ مقرر تھے تو پھر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کہاں سے آ گئے؟ کیا وہ سب غاصب نہیں تھے؟ حضرت نے فرمایا کہ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے فتنہ جذبات سے عقیدے میں داخل ہوا۔ پھر عبداللہ بن سبا نے یہ نظریہ گھڑا کہ خلافت ایک سیاسی منصب نہیں بلکہ ایک الہی حق ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان میں چلتا رہے گا اسی کو بعد میں عقیدۂ امامت کہا گیا۔ اور یہی سے شیعیت کا آغاز ہوا اور عقیدۂ امامت ان ہی کا عقیدہ ہے اس کے ساتھ دوسرا عقیدہ تحریف قرآن کا بھی ہے ان کا کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے قرآن بدل دیا ہے اور اصل قرآن وہ ہے جو مہدی المنتظر لے کر غائب ہو گئے ہیں۔ جب 313 پکے شیعی ہو جائیں گے تب وہ آئیں گے ہم کہتے کہ نالائقوں پھر سدھر جاؤ نا یہ امت کب سے مہدی کی منتظر ہیں۔۔۔۔
پھر کہا کہ آج کے لئے اتنا بس کیوں کہ ساری باتیں ایک ساتھ یاد نہیں رہ پائے گی اور اس بار تم کو تحفے میں دیا جا رہا ہے کل ہونے والا ڈیبیٹ اس سے بڑا تحفہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ ملے تو صبر نہ ملے تو شکر اس کا بھی تو جذبہ نوجوانوں میں پیدا کرنا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔
و آخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔۔۔۔
https://www.facebook.com/share/1Br3kTHhx8/