*کسی کا حق مار کر بڑی عمارت کھڑی کر لینا کامیابی نہیں *

یہ ہمارے پورے معاشرے کے زوال کا خلاصہ ہے، آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہ سہولتوں سے بھرا ضرور ہے مگر اقدار سے خالی ہوتا جا رہا ہے، مسائل کی کمی نہیں، مگر ان پر سنجیدگی سے غور کرنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں، ہم شکوے بہت کرتے ہیں، الزام بہت لگاتے ہیں، مگر خود کو بدلنے کی بات آتے ہی خاموش ہو جاتے ہیں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے نہ معاشرے بدلتے ہیں اور نہ قومیں سنبھلتی ہیں،اب نہ آسمان سے منّ سلوىٰ اترے گا،نہ کوئی معجزہ اترے گا اور نہ کوئی غیبی مدد یوں ہی نازل ہو گی، یہ سب اسی وقت ہوتا ہے جب قومیں اس کی اہل ہوں، اب اگر کوئی تبدیلی ممکن ہے تو وہ خود سے ممکن ہے۔ہمیں سب سے پہلے خود سے سچ بولنا ہوگا،یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے زیادہ تر مسائل کی بنیاد جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی اور حرام کمائی ہے، ہم جھوٹ کو معمولی سمجھ کر بولتے ہیں اور پھر معاشرے سے سچائی کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ یہ دوہرا معیار کبھی بھی بہتری نہیں لا سکتا، سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ اس حد تک رچ بس چکا ہے کہ سچ بولنے والا اجنبی محسوس ہوتا ہے،سچ لکھنے والا متنازعہ اور سچ کہنے والا گستاخ سمجھا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے،سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے، مگر شفا اسی میں ہے۔حرام کمائی کو نظرانداز کر کے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہماری زندگیاں سنور جائیں، ہمارے گھر امن کا گہوارہ بن جائیں، اور ہمارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں یہ محض خوش فہمی ہے، یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے بنجر زمین میں بیج ڈال کر فصل کی امید رکھنا،یا کنبد پر اخروٹ کو قابل قرار سمجھنا،ہم نے کامیابی کا مفہوم ہی بگاڑ دیا ہے، آج کامیابی کا مطلب بڑی گاڑی، اونچی عمارت، طاقتور تعلقات اور ہر حال میں آگے نکل جانا سمجھ لیا گیا ہے، چاہے اس راستے میں کسی کا حق پامال ہو، کسی کا نقصان ہو یا کسی کی زندگی اجڑ جائے کوئی فرق نہیں،ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ کسی کو دھوکہ دے کر آگے بڑھ جانا ہوشیاری ہے؟ حق مار کر مال جمع کر لینا عقل مندی ہے؟ اور ہر قیمت پر ترقی حاصل کر لینا ہی اصل مقصد ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ایسی ترقی، ترقی نہیں بلکہ تباہی ہے، یہ وہ دوڑ ہے جو ہماری اخلاقیات، تہذیب، اقدار اور ضمیر کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے، بظاہر سب کچھ بڑھ رہا ہے، مگر اندر سے سب کچھ کھوکھلا ہو رہا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے معیار بدلیں، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارے نزدیک کامیابی کیا ہے؟ کیا کامیابی صرف دولت کا نام ہے؟ یا کامیابی سکون قلب، اطمینان ضمیر کی خوشنودی کا نام ہے؟ اصل کامیابی وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے،جو دل کو زندہ رکھے، جو معاشرے میں اعتماد، انصاف اور رحم کو فروغ دے، اللہ تعالیٰ انسان سے اسی وقت راضی ہوتا ہے جب انسان ظلم چھوڑ کر انصاف کو اپنائے، خود غرضی سے نکل کر ذمہ داری قبول کرے، اور صرف اپنے فائدے کے بجائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دے،ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی،ہمیں ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ میں خود کیا کر رہا ہوں؟ میں اپنی جگہ ایماندار ہوں یا نہیں؟ میں اپنے کام میں دیانت اور سنجیدگی برت رہا ہوں یا نہیں؟

یاد رکھیے قومیں نعروں سے نہیں،تقریروں سے نہیں،بلکہ کردار سے بنتی ہیں،اگر ہم نے آج بھی خود احتسابی نہ کی،اگر ہم نے آج بھی جھوٹ، حرام اور ناانصافی کو معمولی سمجھا،

تو آنے والی نسلیں ہم سے بھی زیادہ بے حس ہوں گی،پھر وہی ہوگا جو آج ہو رہا ہے جھوٹ کو مہارت کہا جائے گا،فریب کو ذہانت،اور ظلم سے حاصل کی گئی کامیابی کو قابلِ تقلید سمجھا جائے گا،ابھی بھی وقت ہے اگر آج ہم نے نیت کر لی،اگر آج ہم نے اپنے دائرے میں درست ہونا شروع کر دیا،تو یقین مانئے بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے یہ سفر لمبا ضرور ہے،یہ راستہ کٹھن ضرور ہے، *مگر ناممکن ہرگز نہیں*آخر میں اہلِ قلم سے بھی گزارش ہے کہ قلم کو صرف جذبات بھڑکانے کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ اصلاح کا وسیلہ بنائیں، یہ سوچ کر لکھیں کہ آپ کے الفاظ معاشرے میں آگاہی پیدا کر رہے ہیں یا انتشار، شعور دے رہے ہیں یا گمراہی،کیونکہ جب قلم درست سمت اختیار کر لے تو سوچ بدلتی ہے، سوچ سے کردار بنتا ہے،اور کردار سے قومیں سنورتی ہیں۔

یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ اسلام وہ مہذب مذہب ہے، جس نے انسان کو کھانا پینا چلنا بولنا ہی نہیں سکھایا، بلکہ انسانی کی ہر اس چیز پر بات کی جسکی اسے دنیا میں ضرورت ہے، اور جو اسے عقبیٰ میں ضرورت ہے، حتی کہ سوچنا بھی سکھایا دیا،اور اچھی اور بری سوچ کا نتیجہ بھی بتایا بتادیا،اور نیت کا کونسیپٹ بھی اسلام کے علاوہ کسی مذہب میں نہیں، میں ایک چھوٹی سی مثال سے آپکو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، ایک انسان فجر کی نماز بغیر جماعت کے پڑھ رہا ہے، أولا اس نے فجر کی سنت پڑھی، پھر اس نے فجر کے فرض پڑھے، اب آپ حضرات خود سوچ سکتے ہیں، جو چیز آپ نے سنت میں پڑھی اگر بعینہ اسی چیز کو آپ فرض میں بھی پڑھ لیں، تو ثواب آپکا پہلے سے کئی گنا زیادہ یعنی سنت اور فرض کے مقابل میں، جبکہ آپ نے کچھ نہیں کیا بلکہ آپنے اپنی نیت کو بدلا ہے،خدارا ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگی ہمیں نیت میں خلوص کرنا ہوگا، تاکہ ہم زیادہ ثواب کما سکیں، اور معاشرے کے چلن کو سمجھنا ہوگا۔

ابھی میں طفل مکتب ہوں نہ واعظ ہوں نہ فرزانہ

تـمنـا دل مـیں گونـجی ہے سـنا دو حـق کا فرمانا

اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے اور ہماری ہر ایک جائز خواہش پر کن فرمادے جیسے اسکی شان ہے،آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*