🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ


کبھی کبھی زندگی کے ہنگاموں میں، شور، ہجوم اور مصروفیت کے بیچ ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب دل کی سرحد پر کوئی خاموش سی دستک ہوتی ہے۔
 نہ وہ آواز کانوں سے سنی جاتی ہے، نہ آنکھوں سے دیکھی جاتی ہے؛ مگر روح اسے پوری طرح محسوس کرلیتی ہے۔
یہ رب کی دستک ہوتی ہے وہ رب جو بندے سے دور نہیں، مگر بندہ خود اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے۔

یہ دستک اُس وقت سنائی دیتی ہے جب دل تھک جاتا ہے، امیدیں بوجھ بننے لگتی ہیں، اور دنیا کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کرنے کے باوجود روح کو تاریک چھوڑ دیتی ہے۔
 تب احساس ہوتا ہے کہ اصل خلا کسی چیز کا نہیں، بلکہ کسی ذات کا ہے۔
وہ ذات جس کے بغیر دل کا کوئی گوشہ آباد نہیں ہوسکتا۔

دل ایک سرحد ہے ایک ایسی حد جہاں دنیا ختم ہوتی ہے اور آخرت کی جھلک شروع ہوتی ہے۔
 یہی وہ مقام ہے جہاں خواہشات اور ہدایت آمنے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔
رب کی دستک اسی سرحد پر ہوتی ہے، جیسے وہ بندے سے کہہ رہا ہے:
“اب بھی لوٹ آؤ، دروازہ بند نہیں ہوا۔”

رب کی یہ پکار کبھی آزمائش کی صورت میں آتی ہے، کبھی کسی نعمت کے چھن جانے میں، اور کبھی کسی آیت، کسی نصیحت یا کسی سجدے کے آنسوؤں میں ڈھل جاتی ہے۔
 غفلت یہ ہے کہ ہم دل کے دروازے پر دنیا کے اتنے تالے لگا لیتے ہیں کہ اس دستک کو سننے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔

جب انسان رک کر خود سے سوال کرتا ہے میں کہاں کھڑا ہوں؟
 کس سمت جا رہا ہوں؟
میری کامیابی کا معیار کیا ہے؟
تب یہ سوال دراصل رب کی دستک کا ترجمہ ہوتے ہیں۔
یہی لمحہ انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ بن سکتا ہے، اگر وہ اس دستک پر دروازہ کھول لے۔

دل کا دروازہ کھلتا ہے تو توبہ کی خوشبو پھیلتی ہے، آنکھوں میں ندامت اترتی ہے، اور سجدے بوجھ نہیں بلکہ سکون بن جاتے ہیں۔
تب معلوم ہوتا ہے کہ رب کی دستک تو تھامنے آئی تھی، سہارا دینے آئی تھی، راستہ دکھانے آئی تھی۔

دل کی سرحد پر رب کی دستک دراصل محبت کی آخری نہیں، پہلی صدا ہے۔
 یہ اعلان ہے کہ بندہ چاہے جتنا بھٹک جائے، رب کی رحمت اس سے پہلے پہنچ جاتی ہے۔
 شرط صرف اتنی ہے کہ بندہ غرور کے پردے ہٹا دے اور عاجزی سے یہ کہہ دے:
“اے میرے رب! میں آ گئی ہوں۔”

جو اس دستک کو پہچان لیتا ہے، اس کی زندگی کی سمت بدل جاتی ہے۔
وہ دنیا میں رہتا ہے مگر دنیا اس کے دل میں نہیں رہتی۔
اس کا دل رب کے نور سے روشن ہو جاتا ہے، اور یہی روشنی اسے اندھیروں سے نکال کر اطمینان کی شاہراہ پر لے آتی ہے۔

کاش ہم سن سکیں…
کاش ہم پہچان سکیں…
 تو پوری زندگی ضائع نہ کرتے 


جزاکم اللہ خیراً کثیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ