صحبت اور ماحول کا اثر: جاوید اختر: ایک عبرتناک مثال
از قلم✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
تمہید
انسانی زندگی میں ماحول اور صحبت وہی مقام رکھتی ہے جو ایک پودے کے لیے مٹی اور پانی کی ہوتی ہے۔ انسان کی عقل، اس کا عقیدہ اور اس کا کردار ان لوگوں کے تابع ہوتا ہے جن کے درمیان وہ دن رات گزارتا ہے۔ اسی لیے داناؤں کا قول ہے: "تم مجھے اپنے دوستوں کے بارے میں بتاؤ، میں تمہیں تمہارا مستقبل بتا دوں گا۔"
صحبتِ صالح اور صحبتِ بد
اسلام نے "صحبتِ صالح" (نیک لوگوں کی بیٹھک) کو ایمان کی بنیاد قرار دیا ہے۔ جب انسان اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے تو اسے اللہ کی یاد آتی ہے، لیکن جب وہ مادہ پرستی اور الحاد (انکارِ خدا) کے ماحول میں جاتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کے دل سے ایمان کی مٹھاس ختم ہونے لگتی ہے۔
*جاوید اختر: ایک عبرت ناک مثال*
ہمارے دور میں جاوید اختر کی مثال ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کی رگوں میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی جیسے عظیم مجاہد اور عالمِ دین کا خون دوڑ رہا ہے۔ علامہ وہ ہستی تھے جنہوں نے انگریز کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور دین کی خاطر کالا پانی کی سختیاں جھیلیں۔ ان کا گھرانہ علم، تقویٰ اور غیرتِ ایمانی کا مرکز تھا۔
لیکن جاوید اختر جب اپنے خاندانی ماحول سے نکل کر بمبئی کی فلمی دنیا اور "ترقی پسند تحریک" (Progressive Movement) کے لادین ماحول میں پہنچے، تو وہاں کی صحبت نے انہیں بدل کر رکھ دیا۔
جہاں ان کے پردادا نے خدا کے نام پر جان دی، وہاں جاوید اختر نے اسی خدا کے وجود سے انکار کر دیا۔
یہ تبدیلی محض علم کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ماحول اور صحبت کی وجہ سے آئی۔ انہوں نے ان لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنایا جو مذہب کو "افیم" اور عقل کو سب کچھ سمجھتے تھے۔
ماحول کی طاقت
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر ماحول زہریلا ہو تو وہ بڑے سے بڑے علمی خاندان کے چراغ کو بھی بجھا سکتا ہے۔ جاوید اختر کے پاس زبان کی فصاحت اور شاعری کا فن تو رہا، لیکن وہ "ایمانی نور" چھین لیا گیا جو ان کے بزرگوں کا طرہ امتیاز تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی اپنی سوچ اتنی طاقتور نہیں ہوتی جتنا اس کا گرد و پیش اسے متاثر کرتا ہے۔
*ہماری ذمہ داری*
آج کے پرفتن دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور الحاد کا طوفان ہے، ہمیں اپنے بچوں کے لیے ویسا ہی ماحول بنانا ہوگا جیسا علامہ فضلِ حق خیر آبادی کے گھرانے کا تھا۔ ہمیں ان کی صحبت پر نظر رکھنی ہوگی کیونکہ:
اچھی صحبت انسان کو کالا پانی کی جیل میں بھی "ولی اللہ" بنا دیتی ہے۔
بری صحبت انسان کو اتنے بڑے عالم کا پوتا ہونے کے باوجود "ناستک" (ملحد) بنا دیتی ہے۔
*حاصلِ کلام*
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔ ہم اپنے مدارس اور گھروں کو وہ علمی اور روحانی ماحول دیں کہ ہماری نسلیں اپنے اسلاف کے نام کو روشن کریں، نہ کہ ان کے نظریات سے بغاوت کریں۔
تمہید
انسانی زندگی میں ماحول اور صحبت وہی مقام رکھتی ہے جو ایک پودے کے لیے مٹی اور پانی کی ہوتی ہے۔ انسان کی عقل، اس کا عقیدہ اور اس کا کردار ان لوگوں کے تابع ہوتا ہے جن کے درمیان وہ دن رات گزارتا ہے۔ اسی لیے داناؤں کا قول ہے: "تم مجھے اپنے دوستوں کے بارے میں بتاؤ، میں تمہیں تمہارا مستقبل بتا دوں گا۔"
صحبتِ صالح اور صحبتِ بد
اسلام نے "صحبتِ صالح" (نیک لوگوں کی بیٹھک) کو ایمان کی بنیاد قرار دیا ہے۔ جب انسان اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے تو اسے اللہ کی یاد آتی ہے، لیکن جب وہ مادہ پرستی اور الحاد (انکارِ خدا) کے ماحول میں جاتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کے دل سے ایمان کی مٹھاس ختم ہونے لگتی ہے
جاوید اختر: ایک عبرت ناک مثال
ہمارے دور میں جاوید اختر کی مثال ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کی رگوں میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی جیسے عظیم مجاہد اور عالمِ دین کا خون دوڑ رہا ہے۔ علامہ وہ ہستی تھے جنہوں نے انگریز کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور دین کی خاطر کالا پانی کی سختیاں جھیلیں۔ ان کا گھرانہ علم، تقویٰ اور غیرتِ ایمانی کا مرکز تھا۔
لیکن جاوید اختر جب اپنے خاندانی ماحول سے نکل کر بمبئی کی فلمی دنیا اور "ترقی پسند تحریک" (Progressive Movement) کے لادین ماحول میں پہنچے، تو وہاں کی صحبت نے انہیں بدل کر رکھ دیا۔
جہاں ان کے پردادا نے خدا کے نام پر جان دی، وہاں جاوید اختر نے اسی خدا کے وجود سے انکار کر دیا۔
یہ تبدیلی محض علم کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ماحول اور صحبت کی وجہ سے آئی۔ انہوں نے ان لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنایا جو مذہب کو "افیم" اور عقل کو سب کچھ سمجھتے تھے۔
ماحول کی طاقت
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر ماحول زہریلا ہو تو وہ بڑے سے بڑے علمی خاندان کے چراغ کو بھی بجھا سکتا ہے۔ جاوید اختر کے پاس زبان کی فصاحت اور شاعری کا فن تو رہا، لیکن وہ "ایمانی نور" چھین لیا گیا جو ان کے بزرگوں کا طرہ امتیاز تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی اپنی سوچ اتنی طاقتور نہیں ہوتی جتنا اس کا گرد و پیش اسے متاثر کرتا ہے۔
ہماری ذمہ داری
آج کے پرفتن دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور الحاد کا طوفان ہے، ہمیں اپنے بچوں کے لیے ویسا ہی ماحول بنانا ہوگا جیسا علامہ فضلِ حق خیر آبادی کے گھرانے کا تھا۔ ہمیں ان کی صحبت پر نظر رکھنی ہوگی کیونکہ:
اچھی صحبت انسان کو کالا پانی کی جیل میں بھی "ولی اللہ" بنا دیتی ہے۔
بری صحبت انسان کو اتنے بڑے عالم کا پوتا ہونے کے باوجود "ناستک" (ملحد) بنا دیتی ہے۔
حاصلِ کلام
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔ ہم اپنے مدارس اور گھروں کو وہ علمی اور روحانی ماحول دیں کہ ہماری نسلیں اپنے اسلاف کے نام کو روشن کریں، نہ کہ ان کے نظریات سے بغاوت کریں۔