آئے دن اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نے جسمانی سزائیں کیوں مقرر کیں؟
مثلاً چوری کی سزا قطعِ ید ہے، اور زنا کی سزا سو کوڑے یا سنگسار مقرر کی گئی ہے۔
اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ اسلام جیل، جرمانہ یا دیگر نرم سزائیں بھی مقرر کر سکتا تھا، پھر جسمانی سزا ہی کیوں؟
اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ہمیں کچھ بنیادی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے
١٩٦٠ء میں مصر میں جرائم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال چوری کے ٧٤١٩ کیس ہوئے؛ ان میں صرف ٢٥ ایسے تھے جن میں مجرم کو پہلی بار سزا مل رہی تھی
باقی سب پہل جیل جا چکے تھے، بلکہ بعض تو دو تین مرتبہ جیل کی سزا بھگت چکے تھے۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صرف جیل میں ڈال دینا انسان کو لازماً نہیں بدلتا، بلکہ اکثر اوقات جیل میں جا کر وہ بڑے بڑے مجرموں سے میل جول کے بعد اور زیادہ پختہ مجرم بن جاتا ہے۔
اسی لیے اسلام نے جسمانی سزاؤں کو مقرر کیا، تاکہ جرم کے ارتکاب سے پہلے ہی انسان کے دل میں خوفِ قانون پیدا ہو جائے۔
جب انسان کو معلوم ہو کہ جرم کا نتیجہ فوری، واضح اور سخت ہوگا تو وہ جرم کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔
اس کے برخلاف جیل کی سزا میں مجرم بظاہر تو اچھا بن کر باہر آ جاتا ہے، لیکن اکثر حقیقت میں اس کی سوچ نہیں بدلتی۔
جبکہ جسمانی سزا عبرت بھی بنتی ہے اور معاشرے میں جرائم کے دروازے بند کرنے کا سبب بھی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب اسلام آیا اور ان سزاؤں کا نفاذ ہوا تو طویل عرصے تک چوری اور زنا جیسے جرائم نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شریعت کی سزائیں انتقام کے لیے نہیں بلکہ اصلاحِ فرد اور تحفظِ معاشرہ کے لیے ہیں۔
احمد زکریا آسامی ✍️✍️✍️