*قومِ مسلم اور یہودیوں کا کردارایک عبرت ناک تقابل*

تاریخ کوئی مردہ دستاویز نہیں یہ زندہ ضمیر ہے جب اس کے اوراق پلٹتے ہیں تو قوموں کے نام نہیں بلکہ ان کے کردار بولتے ہیں اسی لیے کچھ قومیں اپنے اخلاق، نظم اور مقصد سے پہچانی جاتی ہیں، اور کچھ اپنے شاندار ماضی کے قصّے دہرا دہرا کر حال کی کمزوریوں پر پردہ ڈالتی رہتی ہیں آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قومِ مسلم اپنے عظیم ماضی کے سائے میں کھڑی تو ہے، مگر حال کی تاریکی میں سمت کھو بیٹھی ہے، جبکہ وہ قوم جس پر قرآن نے بار بار گرفت کی ہے، آج دنیا کے تمدن، معیشت اور نظم اجتماعی پر اثر انداز نظر آتی ہے۔

یہودی قوم کی تاریخ یہ ہے کہ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی، انبیاء کا خون بہایا، الٰہی کتاب میں تحریف کی اور عہد توڑے، یہ سب قرآن کا بیان ہے اور تاریخ کی گواہی ہے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک پہلو ایسا ہے جس میں وہ ہم سے آگے ہے، اور وہ ہے مقصد پر جمع رہنا،وہ باطل پر ہے مگر منظم ہے، اور ہم حق پر ہوتے ہوئے بھی منتشر ہیں، وہ اپنے نظریے کے گرد متحد ہے، اور ہم سچ کے باوجود ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں، یہی فرق ہے جو آج قیادت اور غلامی، غلبے اور محکومی کے درمیان دیوار بن چکا ہے۔

قومِ مسلم کے پاس قرآن ہے جو قیامت تک کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، ہمارے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی سیرت ہے جو ہر دور کے لیے زندہ دستور ہے، ہمارے پاس صحابہؓ کا کردار ہے جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا،پھر بھی سوال یہ ہے کہ آج ہم ذلت، کمزوری اور محتاجی کا شکار کیوں ہیں؟ اس لیے کہ قرآن ہمارے گھروں میں ہے مگر ہمارے فیصلوں میں نہیں، سنت ہماری زبان پر ہے مگر ہمارے معاملات میں نہیں، اور دین ہماری شناخت تو ہے مگر ہماری ترجیح نہیں، ہم نے قرآن کو طاقوں کی زینت بنا دیا، سنت کو تقریروں تک محدود کر دیا، اور دین کو فرقوں، مسلکوں اور گروہوں میں بانٹ دیا،یہی وہ مقام ہے جہاں زوال نے جڑ پکڑی ہے۔

مجھے بتایا جائے بھائی کیا جس قوم کی بچیوں کو کلمہ کی تمیز نہیں، اور بعض بچیاں ایسی جنہیں اسی چیز کا علم نہیں کہ ہم مسلمان ہیں یا کوئی اور، حالت اس قدر ذلت کے دہانے آ کر کھڑی ہو گئی کہ عسائیت اور یہودیت کے پرپیگنڈے ہمیں ایسے حال میں لے آئیں ہیں کہ اب اپنے وجود سے زیادہ ہمیں فون کی ضرورت ہے جس میں عیاشی پلاٹ فارم ہمارے سامنے کھل سکیں، حالت یہ کہ ابھی آپ گوگل سے پوچھیں سب سے زیادہ بلو فلمیں(Black videos) دیکھنے والی قوم،قوم مسلم ہے دنیا میں سب سے کم پڑھی لکھی قوم،قوم مسلم ہے،عیاشی کے اڈے پر کھڑی ہوئی قوم،قوم مسلم ہے،ہر چوراہے پر لڑکیوں کو تکنے والے بچے قوم مسلم کے بچے ہیں، تعصب خیزی سب سے زیادہ قوم مسلم میں ہے،اپنے بھائی کو کسی معیار پر دیکھنے کی استطاعت قوم مسلم میں نہیں، شادیوں میں فضول رسومات قوم مسلم میں پائی جاتی ہیں، کوئی شعبہ گندا ایسا نہیں جس کے دلدل میں قوم مسلم ملبوس نہ ہو ہر موڑ پر آپکو کھڑی ہوئی مل جائے گی،لیکن دوسری طرف اپنے دین سے دوری قوم مسلم ہے،اپنے پیشواؤں پر بھونکنا قوم مسلم کا شعار بن چکا ہے،مساجد ہماری خالی ہیں، مدارس میں نظام درہم برہم ہے،علماء کرام کی جگہوں پر جاہل اور سفہاء لوگ قابض ہیں، اللہ و رسول کے ساتھ اخلاص قوم مسلم میں نہیں، تہذیب و تمدن سے مطلب قوم مسلم کو نہیں،سب سے کم تربیت یافتہ بچے قوم مسلم کے بچے ہیں جنہیں ماؤں نے صرف دودھ پلایا اور کانوں میں یرفون (Bluetooth)لگا کر گانے ہماری امیاں سنتی ہیں، چوراہوں پر بیٹھ کر دنیا بھرے کی باتیں کرنے والے ہمارے باپ ہیں، حالت کس قدر گمبھیر ہے بیان نہیں کیا جاتا علامہ اقبال نے بہت دن پہلے کہا تھا۔

شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمایں یہود۔

اس زوال کی ایک اور خطرناک صورت یہ ہے کہ آج ہماری زندگیوں میں یہودی تہذیب خاموشی سے داخل ہو چکی ہے، ہم نے ان کا طرز فکر اپنا لیا ہے، ان کے تمدنی معیار کو ترقی سمجھ لیا ہے، اور ان کے حلال و حرام کے پیمانوں کو عقل و جدیدیت کا نام دے دیا ہے، ہماری معیشت سود پر کھڑی ہے، کامیابی کا معیار دولت بن چکا ہے، سیاست مفاد کے گرد گھومتی ہے، اور تفریح بے حیائی میں ڈوبی ہوئی ہے، یہ وہی تہذیب ہے جسے قرآن نے گمراہی کہا، مگر ہم نے اسے ترقی سمجھ لیا، دوسری طرف وہ قوم اپنے باطل نظریات کو بھی تعلیم، میڈیا، معیشت اور سیاست کے ذریعے مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے، نسل در نسل ایک مقصد منتقل کر رہی ہے، اور ہم اپنے بچوں کو ڈگری تو دیتے ہیں مگر کردار، مقصد اور ذمہ داری نہیں دیتے۔

اب سوال صرف تنقید کا نہیں، تبدیلی کا ہے، اگر قوم مسلم کو واقعی بدلنا ہے تو اسے چند بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔

*اوّلاً قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ فیصلوں کا معیار بنانا ہوگا گھر، بازار اور ریاست تینوں میں*

*دوم، سنت کو رسم نہیں بلکہ نظام زندگی بنانا ہوگا اخلاق، معیشت اور سیاست میں*

*سوم، فرقہ واریت، تعصب اور داخلی جھگڑوں کو چھوڑ کر امت کے اجتماعی مفاد پر جمع ہونا ہوگا*

*چہارم، سودی معیشت، حرام کمائی اور ناجائز ذرائع سے کھلی بغاوت کرنی ہوگی، چاہے راستہ مشکل کیوں نہ ہو*

*پنجم، تعلیم کو محض روزگار نہیں بلکہ کردار سازی اور مقصد شناسی کا ذریعہ بنانا ہوگا، ششم، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کو فحاشی اور نفرت کے بجائے اقدار اور سچ کے فروغ کے لیے استعمال کرنا ہوگا ہفتم، بچوں کی تربیت میں دولت سے پہلے ایمان، غیرت اور ذمہ داری سکھانی ہوگی*

قرآن نے جن پر گرفت کی ہے وہ نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار کی خرابی پر ہے، اور قرآن نے جنہیں امتِ وسط کہا ہے وہ شرفِ نسب پر نہیں بلکہ کردار کی بلندی پر،آج سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کس امت سے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے اندر کس تہذیب کا غلبہ ہے، یہ تحریر کسی کی مدح نہیں بلکہ قوم مسلم کے لیے آئینہ ہے، اگر اس میں دیکھ کر آنکھ نم نہ ہو، دل کانپ نہ جائے اور سوچ بدلنے پر مجبور نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ بیماری گہری ہو چکی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ہم نام کے نہیں بلکہ کردار کے مسلمان بن جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں صرف نام کے مسلمان اور عمل میں مغلوب قوم کے طور پر یاد رکھے گی،اور پھر کچھ یوں ہوگا کہ یہ مسلمان تھے جنہیں اس چیز کا پتا نہیں تھا کہ اپنے خدا، اپنے انبیاء، اپنے پیشوا سے کچھ بھی اخلاص تو اس قوم کو تھا ہی نہیں پھر کس طرح کے مسلمان تھے،اور میری تحریر بنام *چند دن بعد مؤرخین ہماری تاریخ لکھیں گے اور مجھے ڈر ہے کہیں وہ ہمارے ایمان کو مشکوک نا سمجھ لیں۔*

اللہ کریم ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے،ہمیں سمجھنے سوچنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*