تحریر: سیدخلیل احمد
عدالت کاوہ دن جب آنکھیں نم ہوگئیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
دنیا میں عموماً جب دو بھائی عدالت کے کٹہرے میں نظر آتے ہیں تو لوگ فوراً یہی سمجھتے ہیں کہ جھگڑا وراثت یا زمین کا ہوگا۔
مگر سعودی عرب کا یہ سچا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی کبھی عدالتوں میں بھی محبت، وفا اور خدمت اپنے حق کا مقدمہ لڑتی ہیں۔
ایک بوڑھے شخص حزام الغامدی اپنی کمزور ماں کی خدمت کا حق چھیننے نہیں، بلکہ اسے
برقرار رکھنے کے لیے عدالت میں کھڑا تھا۔
دوسری طرف اس کا چھوٹا بھائی بھی اسی جذبے کے ساتھ موجود تھا۔ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا—اپنی ماں کو اپنے پاس رکھنا اور اس کی خدمت کرنا۔
حزام نے بھری ہوئی آواز میں کہا کہ وہ برسوں سے ماں کا سہارا بنا ہوا ہے اور اس کی زندگی کا سکون ماں کے قدموں میں ہے۔ چھوٹے بھائی نے لرزتی آواز میں کہا کہ حزام اب خود بوڑھا ہو چکا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ماں کی خدمت کا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر اٹھائے تاکہ بڑا بھائی کچھ آرام کر سکے۔
یہ لمحہ ایسا تھا کہ عدالت میں خاموشی نہیں، محبت بول رہی تھی۔
فیصلہ آسان نہ تھا۔ جج نے ماں کو بلایا اور پوچھا کہ وہ کس بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ضعیف ماں نے لرزتے ہونٹوں اور نم آنکھوں کے ساتھ کہا:
“میں کیسے انتخاب کروں؟
میرے دونوں بیٹے میری آنکھیں ہیں…
ایک کو چنوں تو دوسری سے محروم ہو جاؤں گی۔”
یہ سنتے ہی عدالت کی فضا نم آنکھوں سے بھر گئی۔
ماں فیصلہ نہ کر سکی تو عدالت کو کرنا پڑا۔
جج نے چھوٹے بھائی کی بہتر صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ماں کی کفالت اس کے سپرد کر دی۔
فیصلہ سنایا گیا تو حزام کے قدم ڈگمگا گئے۔ وہ عدالت ہی میں سسک پڑا—اس لیے نہیں کہ وہ مقدمہ ہار گیا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی ماں کے آخری دنوں کی خدمت کا قیمتی موقع ہار بیٹھا تھا۔
یہ مقدمہ ماں کو کسی کے ساتھ بھیجنے کا نہیں تھا، بلکہ دونوں بیٹوں کا ماں کے قدموں میں بچھ جانے کا تھا۔ محبت کے اس فیصلے نے یہ ثابت کر دیا کہ کچھ ہاریں، جیت سے بھی زیادہ عظیم ہوتی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ماں باپ کی اسی خلوص اور محبت سے خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔