جنت کی راہ سب کو دکھاکر چلے گئے
علم و عمل کی شمع جلا کر چلے گئے

وہ پیر ذوالفقار جو پیروں کے پیر تھے
ایسے گئے کہ سب کو رلاکر چلے گئے

ارواحِ بے سکون کو درسِ سکوں دیا
اجڑے ہوئے دلوں کو بساکر چلے گئے

تاریک راستوں میں جلاتے رہے چراغ
تقویٰ کا جام سب کو پلاکر چلے گئے

دنیا کے ہر فریب سے بچ کر رہے سدا
کتنوں کو راہِ حق پہ چلا کر چلے گئے

لے کر چلے جہاں میں تصوف کا وہ عَلَم
لاکھوں کو نقشبند بناکر چلے گئے

جو دور تھے خدا سے، خدا کے رسول سے
ان کو خدا کی راہ بتاکر چلے گئے

سنتے تھے ہم بھی آپ کی تقریر دل پذیر
شیریں زباں میں دین سناکر چلے گئے

اظہر جو رب سے دور تھے نزدیک کردیا
بندوں کا رشتہ رب سے ملاکر چلے گئے

از: آفتاب اظہر صدیقی
کشن گنج، بہار

Mob. 9568136926