----------------------------------------

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی


اے ساقی !یہ بتا کہ کیوں جارہاہے میخانہ چھوڑ کر؟

تیرے بعد بادہ خواروں کو شراب معرفت پلاۓ گا کون؟


آج قلب ونظر دونوں آبدیدہ ہے کہ یہ آج کیا حادثہ ہوگیا ؟کیوں آج دنیاۓ علم ودانش پہ غم کی لہر ہے ؟کیوں آج راہ خدا ،سلوک و تصوف اورخانقاہوں میں خاموشی ہے ؟

قلم میرا ساتھ دینے سے عاجزوقاصر ہے؟خیالات منجمد ہے ،سمجھ نہیں آتا اپنے دل کی ترجمانی کیسے کروں ؟انگشت و قلم اورخیالات نے جہاں تک ساتھ دیا وہ درج ذیل ہے-

موت ایک تلخ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہم آۓدن کرتے رہتے ہیں -

اس سے کسی کوابا نہیں کہ دنیا میں جو بھی آیا ہے جانے کے لیے آیاہے ،روز وشب لوگوں کی آمد و رفت کا تانتا لگارہتاہے ،چونکہ ہم خدا کے مملوک ہیں اور مالک کو کلی اختیار ہے کہ وہ اپنے ملکیت میں جس طرح چاہے تصرف کرے -

لیکن حقیقی موت تو وہ ہے جس کے مرنے سے زمانہ ماتم کرے ،جس کے چلے جانے کا غم پورے عالم ہو،جس کے جانے سے ہر کوئی خود کو یتیم سمجھے ،جس کی جدائی سے ہمیں عالم کی خوبصورتی اور اس کی چمک دمک ماند محسوس ہونے لگے ،جس کے جوار رحمت میں پہونچنے سے فرشتے بھی جھومنے لگے ،یہی موت حقیقی موت ہے

اور اسی کو موت العالم موت العالم سے تعبیر کیا گیا ہے

کسی اہل اللہ کا دنیا سے یوں چلے جانا خود دنیا اور اہل دنیا کےلیے کسی موت سے کم نہیں -

محبوب العلماء والصلحاءحضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی وفات بھی کچھ اس طرح ہے کہ ہرچیز مغموم نظر آرہی ہے ،ان کی وفات سے متدین حضرات پر گہرا اثر پڑا ہے ،سب کی طبیعتیں مضمحل ہے ،چہرے پژمردہ ہیں ،جسم بوجھل ہے ،آنکھیں اشکبار ہیں اور یہ آنسو تھمنے کا نام نہیں لےرہی ہے،

کل تک جو دوسروں کو تعزیت پیش کررہے تھے آج وہ خود تعزیت کا عنوان بن رہ گیے-


ان کے محبین ومتوسلین اکناف میں پھیلےہوۓ ہیں ،گویا وہ معرفت ومحبت خداوندی کےایسے پھلدار درخت ہیں جس سے ہرکوئی شکم سیر ہوتاہے ،راہ خدا کے وہ مسافر ہیں کے جس کے پیچھے کاروان عشق و وفا چلتا ہے

حضرت رح کی شخصیت قوم وملت اوردنیاۓ تصوف وسلوک کا وہ نام ہے جو محتاج تعارف نہیں ،جو حضرات بھی دین سے کچھ نہ کچھ وابستگی رکھتے ہوں وہ ان سے ضرور واقف ہوں گے ،

وہ ایک صرف دیندار متقی پرہیزگار بزرگ نہیں بلکہ ہزاروں علماء ،اتقیاء ،صلحاء اور اہل اللہ کے پیر و مرشد اورمصلح ومربی تھے،

حضرت کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے ،جس میں سبق ہے ،نصیحت ہے ،درد ہے ،فکر ہے ،غم ہے،ذکر ہے،تلاوت ہے،محبت ہے،حلاوت ہے-

گویا جس زاویے سے بھی آپ انہیں دیکھیں گے تو آپ کو اپنی اصلاح کا پہلو ملے گا ، وہ فی زماننا (اس دور کے) امدادی فیض کا سرچشمہ تھے جس سے ہزاروں مشائخ علماء ودیگر عوام وخواص فیضیاب ہورہے تھے-

بڑے بڑے زیرک ،جید الاستعداد علماء اصلاح باطن وتزکیۂ نفس کی خاطر ان کی مجلس سے والہانہ تعلق رکھتے تھے-

لیکن ان کو یہ مقام یونہی نہیں ملا بلکہ اس کے پیچھے کئی سالوں کی مسلسل محنت محنت ومشقت ،جد

وجہد، عبادت وریاضت ذوق وشوق اور خدمت کار فرما ہیں ،

اسکول کا ایک طالب علم جو انجینیر بننے نکلا تھا ،مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد اس راہ پر چل سکتا تھا -

لیکن، رب کریم کو ان سے اپنے بندوں کی اصلاح کا کام لینا تھا لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کے رخ کو موڑ دیا،اور اہل اللہ کی محبت ان کے دل میں پیدا کردی پھر انہوں نے خود کو اہل اللہ کی خدمت کےلیے خود کو وقف کردیا،وہاں سے اپنے دل کو یاد الہی میں لگادیا ،خشیت الہی اور محبت الٰہی کا چراغ دل میں روشن کیااور اس میں آگے بڑھتے ہیں ،خود کو مخلوق کے درمیان فقیر کہنے والا آج بفضل الہی امیر و رہبر بن گیا، خدا تعالیٰ نے وہ مقام دیا کہ وہ عظیم علمی عملی روحانی شخصیت بن گئے-

حضرت "والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لایضیع اجر المحسنین" کی حقیقی تصویر تھے-

حضرت کی فکر امت وہی تھی جو ایک مخلص داعی کی ہوتی ہے ،خدا کے بندےصرف خدا کے بن جاۓ ، وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون پر عمل پیرا ہوجاۓ،

مخلوق کی محبت سے آزاد ہوکر خالق کی محبت میں گرفتارہوجاۓ ،عشق مجازی کی درد والم سے نکل کر عشق حقیقی لذت سے آشنا ہوجاۓ،

حضرت نے تنہا دین کی وہ خدمت کی ہے جو ایک ادارہ اور انجمن کرتاہے -

حضرت کی خدمت دین کا دائرہ بہت وسیع ہے جس کو مکمل طورپر بقید تحریر لانامجھ جیسے طالب علم کے بس میں نہیں

مختصرا یہ کہ عوام و خواص سبھی ان سے کسی نہ طرح سے استفادہ کرتے تھے-

ان کی چہرے کی نورانیت ،اسلوب بیانی، درد بھرے لہجے، امت کا غم، دل کی تڑپ اوراخلاص وللہیت کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی کو سنوارا ہے ،زاویے حیات کو بدل دیا،ہزاروں لوگوں نےنواہیات سے توبہ کرکے امتثال اوامر کی راہ پہ گامزن ہوۓ ہیں-

حضرت کی ایک جھلک میں وہ تاثیر ہےکہ راہ سےبھٹکے لوگ اپنی زندگی کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے وہ ایک صاحب دل بزرگ تھے جس کو دیکھ کر لوگوں کو خدا یاد آجاتاتھا،عشق نبوی کا یہ عالم تھا کئی مرتبہ خواب آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ،ہمیشہ سفید لباس اور عمامہ میں نظر آتے تھے،ہمیشہ سنت نبوی کا اہتمام کرتے تھے-

وہ ولی کامل صاحب نسبت تھے ان کی رحلت سے علمی وروحانی محفلیں سوگوار ہوئی ہیں

ان کی وفات سے ایسا خلا پیدا ہوا جس کا ازالہ دور دور تک نظر نہیں آتا -


ان کی بےشمار کتابیں ہیں جس سے آج ہم جیسے بہت سے لوگ استفادہ کررہے ہیں اور اصلاح حال کی کوشش کررہے ہیں-

حضرت کی کتابیں علوم ومعارف کا گنجینہ ہے ، قرآن وحدیث کی تفسیر و تشریح ،نصیحت آمیز فارسی اردو اشعار اور بزرگوں کے واقعات وکرامات کا حسین گلدستہ ہے، جس کے مطالعہ سے فکر مند آدمی اپنی زندگی کو راہ حق پر لاسکتاہے -


پانچ سال پہلے راقم کو حضرت رح کی دو کتابیں"باادب بانصیب" اور "حیا وپاکدامنی"کے مطالعہ کا شرف حاصل ہوا تھا ،بعد میں بھی گاہے بگاہے مختلف کتابوں کا مختلف حصہ پڑھنے کا موقع ملتا رہا جس کے پڑھنے سے واقعتا کچھ دنوں تک دلوں پر خاص اثر تھا

ان سے وابستہ لوگ آج دنیا میں ایک الگ شناخت رکھتے ہیں،مخصوص وجاہت وشباہت ،با رعب شخصیت،مزاج میں لطافت ،گفتگو میں حلاوت ،ہمیشہ زبان میں ذکر وتلاوت یہ ان کا حال ہےجو ان سے فیض حاصل کررہےہیں -

آپ اندازہ کرسکتے ہیں جس کے مرید کا یہ حال ہو ان کے شیخ کے تصوف وسلوک کا کیا عالم ہوگا-

بھلے آج حضرت جسمانی طور پر ہم سے رخصت ہوگیے ہیں مگر روحانی طور پر وہ ہمارے ساتھ ہیں ،ہمارے درمیان ہیں ،ان کی نیک صالح حقیقی وروحانی اولاد ان کی کتابیں،ان کے ذریعے سے تیار کیے گیے مریدین کا فیض ہمارے ساتھ ہے ،ان شاء اللہ یہ مبارک سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا-


بس ہم یہی کہیں گے


بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا


راقم بارگاہ ایزدی میں دست بستہ دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرمائے ،جنت الفردوس میں اعلی علیین میں جگہ عطاء فرمائے ،پسماندگان ومتعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو حضرت کا نعم البدل عطاء فرمائے آمین


آسماں تری لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے